انسانیت کا رشتہ

ظہیر اختر بیدری  اتوار 15 جولائ 2018
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

[email protected]

ہماری آج کی دنیا ہزار دو ہزار سال پہلے کی دنیا سے بالکل مختلف ہے، سائنس ٹیکنالوجی، ارضی سائنس، خلائی سائنس، طبی سائنس وغیرہ نے زندگی کو سر سے پیر تک بدل دیا ہے۔ اس ترقی نے اگرچہ انسانی زندگی میں بہت سی ناقابل یقین سہولتیں فراہم کر دی ہیں لیکن آج کا انسان ماضی کے انسان سے زیادہ وحشی بن گیا ہے۔ رنگ، نسل، زبان، ملک و ملت کی تقسیم نے انسان کو حیوان بنا دیا ہے۔

مغرب کے ترقی یافتہ ملکوں میں اسلحے کی فیکٹریاں دن رات اسلحے کے ڈھیر لگا رہی ہیں اور یہ جدید ترین اسلحہ ملکی سالمیت کے نام پر ہر ملک خرید رہا ہے۔ ملکی سالمیت ہی کے تحفظ کے نام پر ہر ملک دفاع پر اپنے بجٹ کا بڑا حصہ خرچ کر رہا ہے، دفاع کے نام پر اپنے بجٹ کا بڑا حصہ خرچ کر رہا ہے، دفاع کے نام پر خرچ ہونے والا اربوں کھربوں روپیہ عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جا سکتا ہے۔

یہ کس قدر شرم کی بات ہے کہ پسماندہ ملکوں کے عوام کا 50 فیصد سے زیادہ حصہ غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہا ہے اور دنیا کے مہذب ملک دفاع کے نام پر اربوں کھربوں روپے خرچ کر رہے ہیں۔ اس انسان دشمنی کے خلاف مفکر، دانشور، ادیب، شاعر زبان بند کیے بیٹھے ہیں۔ مذہبی نفرتوں کا پرچار ہو رہا ہے، جس کا شکار وہ غریب طبقات ہوتے ہیں جو دنیا کے اہل سیاست کے مفادات سے نابلد ہوتے ہیں۔ یہ صورتحال انتہائی مایوس کن ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ اس مایوس کن صورتحال سے باہر نکلا جائے۔

پاکستان سماجی روایات سماجی زندگی کے حوالے سے پسماندگی کے دلدل میں پھنسا ہوا ہے، ملک کے دو صوبوں میں قبائلی نظام رائج ہے خیبرپختونخوا میں قبائلی نظام مضبوط ہے، بلوچستان میں سرداری نظام رائج ہے، ان صوبوں کو ان دلدلوں سے نکالنے کے لیے تعلیم کو عام اور لازمی کرنے کی ضرورت ہے۔ سندھ کے شہری علاقے صنعتی ترقی کی وجہ سے نسبتاً ترقی یافتہ ہیں لیکن سندھ کے دیہی علاقے ابھی تک پسماندگی کا شکار ہیں۔ دیہی علاقوں میں وڈیرہ شاہی نظام مضبوط ہے، وڈیرہ شاہی کبھی نہیں چاہے گی کہ عوام زیور تعلیم سے آراستہ ہوں۔

عوام کو حصول تعلیم سے روکنے کے لیے وڈیروں نے کئی جتن کیے ہیں، درسگاہوں کو مویشیوں کے باڑوں میں بدل دیا گیا ہے، اساتذہ گھروں میں بیٹھ کر تنخواہیں وصول کرتے ہیں، اس قسم کی خبریں میڈیا میں تسلسل کے ساتھ آتی رہتی ہیں لیکن تعلیمی اداروں کو نہ وڈیروں کے قبضے سے آزاد کیا جاتا ہے نہ گھوسٹ اساتذہ کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی کی جاتی ہے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ دیہی علاقوں کے بچے تعلیم سے محروم وڈیروں کی غلامی میں لگے ہوئے ہیں۔

خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں مذہبی انتہاپسند فعال اور متحرک ہیں، بم دھماکوں اور خودکش حملوں کی وجہ سے نہ صرف بے گناہ شہریوں کا جانی نقصان ہو رہا ہے بلکہ متاثرہ علاقوں میں خوف و دہشت کی فضا قائم ہوگئی ہے۔ صوبے کو اس عذاب سے نکالنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہو رہی ہیں۔دہشتگرد فعال ہوگئے ہیں۔

بلوچستان دہشت گردوں کے حملوں اور خودکش حملوں کی وجہ سے عدم تحفظ کا شکار ہے، بھارتی حمایت اور مداخلت کی وجہ سے یہ صوبہ مستقل خون خرابے کا شکار ہے، اس ماحول میں درسگاہوں میں تعلیم کا سلسلہ بری طرح متاثر ہو رہا ہے اور عوام مستقبل کے حوالے سے تذبذب اور غیر یقینیت کے شکار ہیں۔ دہشت گرد گروہ سیکیورٹی فورسز پر حملے کرکے ایک خوف کی فضا قائم کر رہے ہیں۔ خیبرپختونخوا اور افغانستان سے ہزاروں لوگ کراچی کا رخ کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے کراچی کا مستقبل مخدوش ہوکر رہ گیا ہے۔ حکمران طبقات ان حالات پر قابو پانے کے بجائے لوٹ مار میں مصروف ہیں۔ یہ صورتحال پاکستان کے مستقبل کے لیے انتہائی مخدوش بنی ہوئی ہے۔

ہم نے خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے بدترین حالات کا ذکر اس لیے کیا ہے کہ دنیا کی بدلتی ہوئی صورتحال زندگی کے مختلف شعبوں میں ہونے والی ناقابل یقین ترقی کے تناظر میں پاکستان کی مایوس کن صورتحال کا جائزہ لے کر ایسی تدابیر اختیار کی جائیں کہ پاکستان پسماندگی کے دلدل سے نکل کر ترقی کی راہ پر پیش رفت کرسکے۔ یہ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ دنیا چاند کی یاترا کے بعد مریخ کو فتح کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور ہمارا حال یہ ہے کہ ہم چاند دیکھنے اور دو دو عیدیں منانے میں مصروف ہیں۔

ہم نے کالم کے آغاز میں ہر ملک کی سائیکی کا ذکر کیا تھا کہ سرمایہ دارانہ نظام کے سرپرستوں نے قومی مفاد کے فلسفے کو پروان چڑھاکر ہر ملک کو مجبور کردیا ہے کہ وہ اپنے دفاع پر اربوں ڈالر خرچ کرے ہم نے اس بدنما حقیقت کی بھی نشان دہی کی تھی کہ مغرب کے ترقی یافتہ ملکوں کی اسلحے کی صنعت رات دن جدید اور تباہ کن ہتھیاروں کی تیاری میں مصروف ہے، مغربی ملکوں کے ماہرین دنیا کے مختلف ملکوں کے درمیان تنازعات کھڑے کرکے فریقین کو مجبور کر رہے ہیں کہ وہ مغربی ملکوں سے بڑے پیمانے پر ہتھیار خرید کر اپنے ملک کے غریب طبقات کی غربت میں اضافہ کریں، بدقسمتی سے دنیا کے ملکوں کے سربراہوں میں ایک بھی سربراہ ایسا نہیں جو قومی مفاد کے جال میں جکڑا ہوا نہ ہو۔ اور دنیا کی تباہی اور جنگوں کی آبیاری میں قومی مفاد کا فلسفہ اہم کردار ادا کر رہا ہے، اب ایسے مفکروں اور دانشوروں کو آگے آنا چاہیے جو قومی مفاد کو عالمی مفاد کے تابع کرنے کی ضرورت اور اہمیت سے دنیا کو آگاہ کریں۔

انسانوں کی مختلف حوالوں سے تقسیم خود انسان کی پیدا کردہ ہے، ایسے مفکرین اور دانشور آگے آکر انسانوں کی تقسیم کی تباہ کاریوں کو اجاگر کریں اور انسانوں کی تقسیم کے سرپرستوں کو اس حقیقت سے آگاہ کریں کہ دنیا کے تمام انسان آدم کی اولاد ہیں، ان کے درمیان انسانیت کا رشتہ سب سے اہم رشتہ ہے اس رشتے کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔