گوشواروں میں زرعی و غیر ملکی آمدن کی معلومات دینا ہوں گی

ارشاد انصاری  اتوار 15 جولائ 2018
آمدن،مراعات،اخراجات،عطیات سمیت مالی معلومات مانگی گئیں،انفرادی،اے اوپیزودیگر ٹیکس گزاروںکیلیے ضمیمے بھی منسلک۔ فوٹو : فائل

آمدن،مراعات،اخراجات،عطیات سمیت مالی معلومات مانگی گئیں،انفرادی،اے اوپیزودیگر ٹیکس گزاروںکیلیے ضمیمے بھی منسلک۔ فوٹو : فائل

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیونے انفرادی ٹیکس دہندگان کیلیے ٹیکس ایئر 2018 کے گوشواروں میں غیرملکی آمدنی، زرعی آمدنی، زرعی انکم ٹیکس کے ساتھ سفری اخراجات، زرعی جائیداد،کمرشل و صنعتی اور رہائشی جائیدادوں کی تفصیلات کی فراہمی کو لازمی قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایف بی آر نے نئے انکم ٹیکس ریٹرن فارم کا مسودہ جاری کردیا ہے۔ ایف بی آر کی جانب سے گزشتہ روزجاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق ٹیکس ایئر 2018 کے لیے انکم ٹیکس گوشواروں میں اس نئے فارم کے مطابق معلومات فراہم کرنا ہونگی جبکہ مذکورہ انکم ٹیکس ریٹرن فارم کے بارے میں تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو 7 دن کے اندر اندر اپنی آرا و تجاویز دینا ہوں گی جس کے بعد کسی قسم کے اعتراضات کو قبول نہیں کیا جائیگا اور اس انکم ٹیکس ریٹرن فارم کو نافذ العمل کردیا جائیگا۔

نئے انکم ٹیکس ریٹرن فارم میں سرکاری افسران کو ٹرانسپورٹ مونیٹائزیشن کی مد میں ملنے والی مراعات کی تفصیلات بھی دینا ہوںگی، اسی طرح تنخواہ کے علاوہ ملنے والے فلائنگ الاؤنس، سب میرین الاؤنس ،غیرملکی آمدنی کی معلومات بھی فراہم کرنا ہوں گی۔

ایف بی آر نے نئے انکم ٹیکس ریٹرن فارم میں انفرادی ٹیکس دہندگان، ایسوسی ایشن آف پرسنز سمیت دیگر تمام کٹیگریز کیلیے ضمیمے و فارم شامل کیے ہیں، علاوہ ازیں ویلتھ اسٹیٹمنٹ اور ری کنسلیسیشن اسٹیٹمنٹس بھی دی گئی ہیں جس میں انہیں اپنی اور اپنے زیر کفالت لوگوں کی جائیداد اوراخراجات کی آگہی بھی دینا ہو گی جس میں بجلی، پانی، گیس سمیت دیگر یوٹیلٹیز کی مد میں اخراجات، بچوں کی تعلیم، بیوی اور اپنے ذاتی و گھریلو اخراجات کی معلومات بھی فراہم کرنا ہوںگی۔

پراپرٹی کی خریدو فروخت سے حاصل ہونیوالے نفع و نقصان، جائیداد پرٹیکس ادائیگیوں، انشورنس پریمیم، زرعی آمدنی، اس پر ادا کیا گیا انکم ٹیکس، زکوٰۃ کٹوتی، ورکرز ویلفیئر فنڈ اور خیرات و عطیات کی تفصیلات بھی فراہم کرنا ہونگی۔

اسی طرح خیراتی و فلاحی اداروں،این جی اوز کو ٹیکس کریڈٹ، حصص و انشورنس پریمیم میں کی جانے والی سرمایہ کاری، منظور شدہ پنشن فنڈ، روزگار کے مواقع پیدا کرنے والے مینوفیکچررز، بہبود سرٹیفکیٹس، پنشنرز بینیفٹس اکاؤنٹس پر حاصل کردہ ٹیکس کریڈٹ کی معلومات بھی انکم ٹیکس گوشواروں میں فراہم کرنا ہوں گی۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔