مچھروں میں زیکا اور ڈینگی کی شناخت کرنے والا کم خرچ انقلابی آلہ

ویب ڈیسک  پير 16 جولائ 2018
یونیورسٹی آف پوردوا کے ماہرین نے کم خرچ سینسر بنایا ہے جو مچھروں کے وائرس شناخت کرسکتا ہے (فوٹو: بشکریہ نیو اٹلس)

یونیورسٹی آف پوردوا کے ماہرین نے کم خرچ سینسر بنایا ہے جو مچھروں کے وائرس شناخت کرسکتا ہے (فوٹو: بشکریہ نیو اٹلس)

انڈیانا پولس: انڈیانا پوردوا یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے ایک انتہائی کم خرچ اور مؤثر بایو سینسر بنایا ہے جس پر وائرس بردار مچھر بیٹھتا ہے تو وہ اس کے خطرناک وائرس سے خبردار کردیتا ہے۔

قبل ازیں کسی بھی علاقے کے مچھروں میں زیکا یا ڈینگی وائرس کی موجودگی کی تصدیق میں ایک ہفتہ لگ جایا کرتا تھا۔ نیا بایو سینسر یہ کام صرف ایک گھنٹے میں انجام دیتا ہے۔

پوردوا یونیورسٹی کی جانب سے تیار کردہ اس آلے پر الیکٹروڈ کو خاص مٹیریل سے بنایا گیا ہے اور اسے پھیلایا گیا ہے۔ جوں ہی اس پر وائرس سے آلودہ مچھر بیٹھتا ہے اس کے وائرس کے ڈی این اے یا آر این اے کا کوئی حصہ جیسے ہی اس سے چپکتا ہے ۔ آلے کی مزاحمت (رزسٹنس) تبدیل ہوجاتی ہے اور سینسر فوری طور پر اس کی شناخت کرلیتا ہے۔ اس طرح آسانی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مچھر میں کونسا وائرس موجود ہے۔

اس طرح مزاحمت میں تبدیلی کی شدت کو نوٹ کرتے ہوئے انفیکشن کو معلوم کیا جاسکتا ہے۔ رزسٹنس میں کمی بیشی کو نوٹ کرتے ہوئے یہ مچھروں میں موجود مختلف اقسام کے وائرس شناخت کرکے انسان کو خبردار کرسکتا ہے۔ پورا نظام بہت کم خرچ، سادہ اور آسانی سے استعمال ہونے کیا جاسکتا ہے۔

پوردوا میں تحقیق کے بعد قائم شدہ کمپنی ایس ایم کے ڈائگنوسٹک نے اسے تیار کیا ہے ۔ کمپنی کے نائب صدر پروفیسر لیا اسٹینسایو کہتے ہیں کہ ’ ابتدائی مرحلے پر خبردار کرنے والا یہ سینسر وبا کو پھیلنے سے روکتا ہے، مقامی امدادی ایجنسیاں اگر اس سے آگاہ ہوں تو وہ مرض کو مزید لوگوں تک پھیلنے سے روک سکتی ہیں‘۔

یہ سینسر زیکا اور ڈینگی جیسے امراض کی فوری شناخت کرسکتا ہے اگلے مرحلے میں اسے افریقا کے کئی علاقوں میں آزمایا جائے گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔