دہشت گردی اور انتخابی ماحول

ایڈیٹوریل  پير 16 جولائ 2018
امن و امان کی صورت حال کو بہتر بنانا صرف سیکیورٹی اداروں ہی نہیں ہم سب کی ذمے داری ہے۔ فوٹو: رائٹرز

امن و امان کی صورت حال کو بہتر بنانا صرف سیکیورٹی اداروں ہی نہیں ہم سب کی ذمے داری ہے۔ فوٹو: رائٹرز

ملک بھر میں امن و امان کو درپیش چیلنجز ایک بار پھر نمایاں ہو کر سامنے آ رہے ہیں، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں ہونے والے خود کش حملوں کے بعد انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کی سیکیورٹی کے حوالے سے تشویش کا ابھرنا قدرتی امر ہے.

اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ سیکیورٹی ادارے اپنے فرائض پوری جانفشانی سے سرانجام دے اور ملکی سلامتی و بقا کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں لیکن دہشت گردگروہوں کا نیٹ ورک اس قدر مضبوط و مستحکم ہے کہ کسی بھی وقت کسی سانحہ کے رونما ہونے کے خدشے کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔پشاور،بنوں اور مستونگ میں ہونے والی دہشت گردی نے سیکیورٹی کے حوالے سے بہت سے سوالات کو جنم دے دیا ہے۔

سانحہ مستونگ میں شہید ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 130ہو گئی ہے‘ اس سانحے میں شہید ہونے والے نوابزادہ سراج رئیسانی کی نماز جنازہ میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ‘ گورنر بلوچستان محمد خان اچکزئی‘ نگران وزیراعلیٰ بلوچستان علاؤ الدین مری‘ سول و عسکری حکام کے علاوہ شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر مستونگ دھماکے کے متاثرہ خاندانوں سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ سراج رئیسانی کی شہادت سے پاکستان ایک محب وطن شہری سے محروم ہو گیا‘ ہم نے مکمل امن کی منزل تو ابھی حاصل نہیں کی تاہم اسے حاصل کرنے کے قریب ہیں۔

وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پشاور اور مستونگ میں دہشت گردی کے واقعات کے باعث اتوار کو ملک بھر میں یوم سوگ منایا گیا اور اس موقع پر قومی پرچم سرنگوں رہا۔ امریکی محکمہ خارجہ نے پاکستان میں انتخابی جلسوں میں خود کش دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے حملے پاکستانی عوام کو جمہوری حقوق سے محروم کرنے کی کوشش ہے۔

ادھر ایک نجی ٹی وی کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سانحہ مستونگ کے دو سہولت کاروں کو گرفتار کر لیا‘ ذرایع کے مطابق خود کش حملہ آور دھماکے سے دو روز قبل افغانستان سے چاغی پہنچا جہاں سہولت کاروں نے اسے اپنے پاس ٹھہرایا۔ سانحہ مستونگ سے ایک بار پھر یہ ثابت ہو گیا کہ دہشت گردی کے ڈانڈے افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے مراکز سے جا ملتے ہیں اور پاکستان میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کو وہاں ہی سے کنٹرول کیا جا رہا ہے۔

پاکستان متعدد بار امریکا اور افغان حکومت کی توجہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں اور کیمپوں کی جانب مبذول کروا چکا ہے لیکن اس سلسلے میں عدم تعاون سے دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا اور دہشت گردوں کے حوصلے بلند ہوئے ہیں۔ پاکستان بارہا یہ واضح کر چکا ہے کہ جب تک افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور کیمپوں کو بیخ و بن سے نہیں اکھاڑا جاتا خطے میں قیام امن کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔افغانستان کی حکومت اس سلسلے میں ابھی تک پاکستان کو مطمئین نہیں کرسکی۔

پاکستان سرحد پر باڑ لگاتا ہے تو اس پر بھی واویلہ کیا جاتا ہے، پاکستان کو اب اس حوالے سے کوئی دباؤ قبول نہیں کرنا چاہیے اور سرحد پر باڑ کے کام کو ہر صورت میں پایہ تکمیل تک پہنچایا جانا چاہیے۔

پاکستان میں انتخابات جوں جوں قریب آتے جا رہے ہیں انتخابی امیدواروں کی سیکیورٹی کے حوالے سے خدشات میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے اگرچہ مستونگ اور خیبرپختونخوا میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کے بعد ملک بھر میں سیکیورٹی الرٹ کر دی گئی ہے‘ سیکیورٹی ادارے اور پولیس اہلکار اپنے فرائض کی ادائیگی میں دن رات ایک کیے ہوئے ہیں لیکن اس سب کے باوجود دہشت گردی کے واقعات کے خدشات اپنی جگہ موجود ہیں۔

بعض حلقوں کی جانب سے ایک عرصے سے ان خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ افغانستان میں داعش کا بڑھتا ہوا اثرورسوخ پورے خطے میں امن و امان کے حوالے سے نئے مسائل پیدا کر سکتا ہے‘ داعش کا وجود اپنی جگہ لیکن تشویشناک امر یہ ہے کہ امریکی‘ بھارتی اور دیگر ممالک کی خفیہ ایجنسیاں داعش کو سپورٹ کر رہی ہیں، ایسی ہی صورت حال عراق اور شام میں بھی پیش آئی جب یہ اطلاعات موصول ہونے لگیں کہ بعض حکومتیں داعش کی عسکری اور مالی مدد کر رہی ہیں۔ اس حقیقت کو نہیں بھولنا چاہیے کہ دوسروں کو نقصان پہنچانے کے لیے آستین میں سانپ پالنے والوں کا اپنا وجود بھی ان سانپوں کے رحم و کرم پر آ جاتا ہے۔

سیکیورٹی ادارے جہاں دہشت گردوں کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں وہاں انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں پر بھی یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کسی بھی کارنر میٹنگ یا انتخابی جلسے کے موقع پر سیکیورٹی کے مناسب انتظامات کریں اور اپنے حلقے کے عوام کے تعاون سے بے شناخت اور اجنبی چہروں پر کڑی نگاہ رکھیں۔ امن و امان کی صورت حال کو بہتر بنانا صرف سیکیورٹی اداروں ہی نہیں ہم سب کی ذمے داری ہے۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔