ملکی معیشت اور اسٹیٹ بینک کے اعدادوشمار

ایڈیٹوریل  پير 16 جولائ 2018
حکومت اپنی اقتصادی کامیابی کے بڑے بلند بانگ دعوے کرتی ہے مگر اصل اقتصادی صورتحال اب سامنے آئی ہے۔۔ فوٹو: فائل

حکومت اپنی اقتصادی کامیابی کے بڑے بلند بانگ دعوے کرتی ہے مگر اصل اقتصادی صورتحال اب سامنے آئی ہے۔۔ فوٹو: فائل

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اگلے2ماہ کے لیے بنیادی شرح سود میں ایک فیصد کے اضافے سے7.5 فیصد کرنے کا اعلان کردیا ہے۔گورنراسٹیٹ بینک طارق باجوہ نے پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کہا کہ پاکستان نے مالی سال2018 میں 13 سال کی بلند ترین نمو 5.8 فیصد حاصل کرلی ہے اور اوسط مہنگائی 6.0 فیصد کے ہدف سے کافی نیچے ہے تاہم آگے چل کر پاکستانی معیشت کو درپیش چیلنجوں میں شدت آئی ہے۔

مالی سال2018 میں مالیاتی خسارے کا عبوری تخمینہ 6.8 فیصد لگایا گیا ہے جو مئی 2018میں 5.5 فیصد تھا، جولائی تا مئی 2018 میں جاری کھاتے کا خسارہ بھی بڑھ کر 16.0 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے جو گزشتہ برس کی اسی مدت میں 11.1 ارب ڈالر تھا،اگرچہ برآمدات اور کارکنوں کی ترسیلات زر بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہیں لیکن زرمبادلہ کے ذخائر پر درآمدات کے حجم کا دباؤبدستور موجود ہے۔

شعبہ زراعت میں اہم ترین مسئلہ پانی کی قلت ہے جو امکانی طور پر مالی سال 2019 میں زرعی پیداوار کو ہدف سے کم رکھے گی،اسٹیٹ بینک نے مالی سال2019 کے لیے جی ڈی پی کی نمو تقریباً 5.5فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا ہے جب کہ سالانہ ہدف 6.2 فیصد ہے۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعدادوشمار سے لگتا ہے کہ پاکستان کی اقتصادی حالت زیادہ بہتر نہیں ہے۔

2018ء کے مالی سال کے لیے جس خسارے کا تخمینہ 5.5فیصد کا اندازہ مئی کے مہینے میں لگایا گیا تھا لیکن جولائی سے مئی تک 16ارب ڈالر کا خسارہ سامنے آ گیا جو سال گزشتہ کے اسی عرصے میں ہوا۔ ایکسچینج ریٹ میں بار بار تبدیلیاں کی گئیں لیکن روپے کی قدر میں کمی اور برآمدات کا ہدف پورا نہ ہونے کے باعث بینک کے تخمینے غلط ثابت ہوتے رہے۔ ترسیلات زر میں خسارے کے باعث بھی مالیاتی ماہرین کے اندازے درست ثابت نہ ہو سکے۔

برآمدات کی تعداد اور حجم میں تخفیف کا ملک کی مجموعی اقتصادی صورتحال پر بہت منفی اثرات مرتب ہوئے۔ ملک کے غیر ملکی اثاثے اقتصادی استحکام کے لیے بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس وقت ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں کمی آ چکی ہے جو 6جولائی تک صرف 6.7ارب ڈالر تک رہ گئے تھے جب کہ روز مرہ کے اخراجات چلانے کے لیے بھی روپے پیسے کی بھاری ضرورت موجود ہے جس کے لیے جہاں ایک طرف خزانے میں مطلوبہ رقوم موجود ہونی چاہئیں دوسری طرف اخراجات میں جہاں تک ممکن ہو سکے کٹوتی کی جانی چاہیے۔

حکومت اپنی اقتصادی کامیابی کے بڑے بلند بانگ دعوے کرتی ہے مگر اصل اقتصادی صورتحال اب سامنے آئی ہے۔ آیندہ مالی سال کے لیے اسٹیٹ بینک نے شرح نمو  5.5فیصد بتائی ہے جب کہ حکومت نے 6.2 فیصد شرح نمو کا اندازہ لگایا تھا جو پورا ہوتا نظر نہیں آیا اور آنے والے وقت میں بھی کسی بڑھوتی کی کوئی خاص امید نہیں ہے۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔