الیکشن ہنگامے

جاوید قاضی  پير 16 جولائ 2018
Jvqazi@gmail.com

[email protected]

دھول بہت گہری ہے، باقی نو دن ہیں اس شام کے ڈھلنے میں، جب نتیجہ سامنے ہوگا کہ کون بنے گا وزیراعظم؟ اب تو ہر شام ایک نیا رنگ لے کر آئے گی۔ تیرہ جولائی کی شام مستونگ سے خبر، لہو میں لت سب کچھ۔ سیکڑوں جانیں، خواب، باتیں، خیال۔ سب رنجیدہ۔ سب دھواں دھواں اور پھر دھول بھی چھٹ گئی، رہ گئی آہ وبکا۔ یوں تو سب کچھ تھم گیا مگر آنسو تھے جو اب تک جاری ہیں۔ اس شام سے پہلے بھی ایک قیامت تھی، جب پشاور میں باپ کے بعد بیٹے نے جان کا نذرانہ پیش کیا، کہ بھرم رہ جائے، رسم رواں ہو، کارواں رواں ہو۔ ہارون بلور کے بعد ان کی زوجہ سالار بنی ہیں۔

پھر کیا تھا؟ اسی شام دبئی سے بالآخر میاں صاحب اور مریم اپنے وطن کے لیے نکل پڑے۔ سمجھنے والے سمجھ نہ سکے، ان کی بینائی میں وہ طاقت نہ تھی جس سے وہ تصویر کے ہر پہلو کو دیکھ سکتے۔ وہ دیکھ رہے تھے کہ مریم جیل گئیں اور میں دیکھ رہا تھا مریم لیڈر بن گئیں۔ اس کے باوجود کہ وہ میری لیڈر نہ تھی۔ مگر میں چونکہ تاریخ کا شاگرد ہوں۔ مجھے دیکھنا اور سمجھنا آتا ہے اور یہ میری ٹریننگ کا حصہ ہے۔

الیکشن 2008 میں بھی تھے اور 2013 میں بھی۔ مگر ان الیکشن کے دوران نیب نہ تھا۔ نیب کو ہونا بھی چاہیے، مگر درمیاں میں نہیں الیکشن کی شام کے بعد۔ کھلنے چاہیے سب سیاہ و سفید مگر اس شام کے بعد۔ ورنہ پھر ایسا ہوگا جیسے شام غریباں۔ اور وہ شام غریباں پھر کسی کی بھی نہ ہوگی۔ وہ پشاور میں ہو یا مستونگ میں، بارود سے بنی دھول پھر کچھ نہیں جانتی۔ یہ بلور یا رئیسانی۔ بے نظیر ہے یا بشیر بلور۔

کتنا آسان ہے محب وطن بننا اور غدار بننا۔ بس صرف ایک مروج بیانیے کی ڈور پکڑو اور محب وطن بن جاؤ۔ اور اگر چاہو گے کہ غدار ہونا ہے تو اسی ڈور کو چھوڑ دو۔ تاریخ گواہ ہے کہ بڑے بڑے غدار ایک دن جانے گئے کہ وہ صحیح تھے۔ وہ وہی تھے جو تھے۔ مگر جب وہ گزر جاتے تھے تو بس ان کی باتیں رہ جاتی تھیں۔

تاریخ کی ایک بدنصیبی یہ بھی ہے کہ اسے ریاست تحریر کرتی ہے لوگ نہیں کرتے اور ریاست ہی تاریخ میں گڑبڑ کرتی ہے۔ ریاست بیانیہ پر کنٹرول رکھتی ہے۔ وقت بدلتا ہے تو ریاست اور اس کا بیانیہ دونوں مشکل میں آتے ہیں۔ اسے وقت کے ساتھ بدلنا ہوتا ہے اور اگر نہیں بدلتا تو ٹکراؤ لازم ہے۔

بات تو صحیح تھی جب میاں صاحب کہہ رہے تھے کہ ہم آیندہ کی نسلوں پر سیاست کر رہے ہیں۔ لیکن میاں صاحب آپ یہ کام کیسے کر رہے ہیں؟ ضیاء الحق سے شروعات اور پھر نفرت کی سیاست۔ جو نفرت کی وبا آپ نے پھیلائی اس پرچم کو آج بھی لے کر چل رہے ہیں۔ مریم بنی بے نظیر، صفدر بنے زرداری، اور آپ بنے زندہ بھٹو۔ آپ کو آپ کی سیاست ہی گلے میں آن پڑی۔ جب کہ زرداری کو بھٹوکے نظریے کو چھوڑنے کی سزا ملی۔

بڑی خوبی اور بڑی مہارت سے آپ نے سیاست کھیلی، جو اور تھے ان کو کچھ خبر ہی نہ ہوئی اور آپ ان کا سب کچھ چرا کے لے اڑے۔ وہ جمہوریت کے روح رواں تھے۔ گیارہ سال پابند سلاسل بھی رہے۔ ان کی زوجہ بے نظیر اپنا پورا خاندان گنوا بیٹھیں اور خود بھی سر راہ چلتے چلتے جان کا نذرانہ پیش کرگئیں۔ مگر زرداری کو زر سے بہت لگاؤ تھا۔ اسے الیکٹیبلز والی اننگ کھیلنا خوب آتی تھی۔ اسے بھبینو کی طرح قلمیں چلانے کا بہت شوق تھا۔ وہ جو قانون کے شکنجے میں نہیں آتا تھا لیکن لوگوں کی آنکھوں سے اوجھل نہ تھا، یہ کارخانے کس کے ہیں، یہ اور کمیشن کا کام کون کرتا ہے؟

ہزاروں ارب سندھ کو NFC کی مد میں ملے۔ مگر گئے کہاں؟ وہ ان کاموں میں اتنے گم تھے کہ ان کو کچھ نظر ہی نہیں آیا۔ پہلے وہ ڈی چوک میں جمہوری قوتوں کے ساتھ تھے، پھر اینٹ سے اینٹ بجاتے بجاتے خود گھنگرو کی طرح بجنے لگے۔ جب کہ میاں صاحب نے بے نظیر کی طرح لندن میں گھر بنایا۔ بے نظیر نے دبئی میں گھر بنایا۔ یوں کہیے بہت سرمایہ بنایا مگر عوام کی ڈوری پکڑے رکھی۔ زرداری سے وہ ڈوری چھوٹ گئی۔ تو پھر کیا ہوا۔ جو بظاہر یہ لگ رہا تھا کہ میاں صاحب کے لیے دنگل عمران خان ہیں، ایسا نہ تھا۔ یہ تو بہت آسان دنگل تھا۔ سیدھا سیدھا اور صاف صاف۔ دنگل تو پنجابی فلموں والا تھا۔ ایک طرف سلطان راہی اور دوسری طرف مصطفی قریشی۔ مگر پردے کے پیچھے جو منظر تھا وہ بنارسی ٹھگ والا تھا۔ میاں صاحب زرداری سے بھٹو کی میراث لے اڑے۔ جو تاج بے نظیر سے بلاول تک منتقل ہونا تھا، وہ تاج انھوں نے اپنی بیٹی مریم کے ماتھے پہ سجا دیا۔ زرداری اپنی میراث تو ادی تک ہی پہنچا سکے مگر اس Transanction کی زد میں بلاول آگئے۔ اس نے اپنے بیٹے کو وہ کچھ نہ دیا جو مریم اپنی اولاد کو دے سکتی ہے اور جو صفدر نہیں دے سکتا۔ یہ باتیں اتنی آسان نہیں جن کو پلک جھپک میں سمجھایا جاسکے۔ جمہوریت کسی کے گھر کی باندی نہیں۔ اسے تحفے میں دیا نہیں جاسکتا۔ جمہوریت کا روح رواں ہونے کے لیے آپ اور میری آنکھ کی بینائی نہیں چاہیے۔ جمہوریت کے لیے حالات کے تناظر میں وقت کے تقاضوں کے ساتھ لوگ فیصلہ کرتے ہیں۔

ضروری نہیںجو تاج آج میاں صاحب اور مریم کا ہے، بھلے ہی ہم لکھ دیں یا ٹائٹل بھی دے دیں کہ ان کے پاس ہے، لیکن رہے گا، اس کی کوئی گارنٹی نہیں، کیونکہ یہ تاج رواں رواں رہے گا۔ بھٹو آئیں گے اور جائیں گے۔ باچا خان ہو ولی خان یا اسفندیار ولی، بشیر بلور ہوں یا ہارون بلور، یہ تاج متحرک رہے گا، اسے پایا نہیں جاسکتا۔

پاکستان کی سیاست ہو یا برصغیر کی سیاست، اگر اپنے والد کی تاریخ کو سامنے رکھوں تو میں ایک صدی سے ان کا شاگرد ہوں۔ سیاست کو اس کے وزن میں رہنا چاہیے۔ اگر آپ لوگوں کو تسلیم ہے تو آپ کا سر خم ہونا چاہیے۔ 2013 سے آج تک حکمرانی کرنے کی قیمت دگنی ہوگئی۔ بطور وزیراعظم اتنی شاہ خرچیاں کی گئیں کہ جس کی کوئی مثال نہیں۔ اتنے قرضے اس ملک کے اوپر واجب ہوچکے کہ آج اس ملک کی کمر بیٹھنے لگی ہے۔

سب اپنے حدوں سے تجاوز کرگئے۔ کوئی آئین سے وفا کے لیے حدود توڑ بیٹھے اور کوئی کرپشن کے خاتمے کے لیے اپنے حدود سے تجاوز کرگئے۔ اور کچھ ہمیں نظر نہیں آتے۔

2018 کے الیکشن کو متنازع کرنے کے لیے کوئی بھی سازش کرسکتا ہے۔ میاں صاحب اگر ہار گئے تو کہیں گے کہ دھاندلی ہوئی۔ خان صاحب نے تو 2014  میں دھرنا دیا۔ اور بالآخر سسٹم کا حصہ بنے۔ اسی طرح میاں صاحب بھی بنیں گے؟

خان صاحب کی پارٹی اس وقت بھی زوروں پر ہے، مگر آیندہ دس دنوں میں انھیں بہت محتاط ہوکر بیانات دینے ہوں گے۔ ان پر ان کے مخالفین وہی لیبل لگا رہے ہیں جو شیخ مجیب بھٹو پر لگاتے تھے، جو بے نظیر نے نواز شریف پر لگائے۔ پاکستان اپنی تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے۔ یہاں سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے بیانیہ بنائے جاتے ہیں۔ کسی کو جمہوریت کے تبادلے میں اپنے گناہ چھپانے نہیں چاہئیں،کیونکہ کوئی فرد ادارہ نہیں بن سکتا، وہ صرف ادارے کا سربراہ ہوسکتا ہے، جس طرح وزیراعظم کابینہ میں ہوتا ہے اس طرح سالار بھی اپنے کمانڈرز میں اور چیف جسٹس اپنے رفقا میں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔