"پاکستان کا سپاہی"

راؤ منظر حیات  پير 16 جولائ 2018
raomanzar@hotmail.com

[email protected]

دل دکھتاہے صاحب،دل دکھتاہے۔کیالکھاری صرف نوحہ لکھنے کے لیے رہ گئے ہیں۔قومی سطح پرخوشی کی کوئی خبر عرصہِ درازسے نہیں سنی گئی۔پھررہ جاتاہے، ماتم درماتم۔ ہر جانب سے صرف ایسی حرکات کے متعلق معلوم ہوتاہے جس سے ملک کوپیہم نقصان پہنچ رہاہے۔

قلم کار آخرکیاکرے۔وہی درج کرے گاجوہورہاہے۔دل تھام کربتائیے۔کیاان دس برس میں ظالمانہ حدتک قرضے نہیں لیے گئے۔ کیاصرف کمیشن کے لیے میگا ترقیاتی پروگرام نہیں شروع کیے گئے۔کیاملکی معیشت کو ایک مربوط پالیسی کے تحت بربادنہیں کیاگیا۔مگرکوئی بھی ذمے داری لینے کوتیار نہیں۔ سیاسی جماعتیں اورنہ ہی منصوبہ سازگروہ۔سب ملائی کھاکرمغربی ملکوں میں بس چکے ہیں یاساراخاندان منتقل کرچکے ہیں۔ پھر پیچھے رہ کون جاتاہے۔

عسکری قوت اورعدلیہ۔جب سارا کام ان کے گلے پڑجاتاہے اوروہ تھوڑی سی حرکت کرتے ہیں تو ایسی ہاہاکارمچتی ہے کہ خداکی پناہ۔ کیا یہ جائزسوال نہیں کہ اگرزرداری اورنواز شریف کی حکومت ڈیم بنانے کی طرف توجہ دیتی توکیا چیف جسٹس کواتنے مشکل کام میں ہاتھ ڈالنے کی ضرورت پڑتی۔ کیا ان دونوں سیاستدانوں سے نہیں پوچھنا چاہیے کہ نئے آبی ذخائربنانے میں کیا اَمرمانع تھا اور دنیاکی مہنگی ترین بجلی کے کارخانے لگانے کا کیا جواز تھا۔ مگر ہر طرف شور مچایا جارہاہے کہ چیف جسٹس اپنے اختیار سے تجاوز کررہا ہے۔

درست ہے کہ دنیا میں کسی چیف جسٹس نے ڈیم نہیں بنوائے۔مگرپوچھیے تو سہی کہ آپ لوگ کھربوں روپے کی کرپشن کرتے رہے۔ اقتدارکوپیسہ بنانے کی مشین بنا ڈالا، مگر قومی مفاد کے کسی منصوبہ پرتوجہ کیوں نہیں دی۔ کیا صرف یہی الزام ان بحری قذاقوں کوسزادلوانے کے قابل نہیں۔ذاتی مفادکے تحت ہرغلط کام کیاگیااوروہ بھی جمہوریت کے نام پر۔ حد تویہ ہے کہ پالتودانشوربھی برابر لکھ رہے ہیں کہ بھلاچیف جسٹس کاڈیم سے کیا تعلق۔ اتنے زیادہ پیسے کہاں سے جمع ہوں گے۔ اتنا زیادہ سرمایہ کہاں سے آئیگا۔

مگریہ لوگ ہمارے قومی ضمیر اور ذہن کوہیچ سمجھ کرسب کچھ کہہ رہے ہیں۔ معاشی دہشتگردوں کے ساتھ منسلک بیوپاری جانتے ہی نہیں کہ اگراس قوم کویقین ہوکہ پیسے مانگنے والے کی نیت اورساکھ درست ہے تو چند ہفتوں میں خزانہ بھر دینگے۔ایک ڈیم توکیا،ہم دس ڈیم بنالینگے۔چیف جسٹس کے اس اقدام کی مکمل تائیدہونی چاہیے۔ عرض کرونگا کہ چیف جسٹس کوچاہیے کہ اس بڑے کام میں چھوٹے بچوں کوشامل کرے۔ننھے منے بچے اپنی پاکٹ منی سے پیسوں کا انبار لگا دینگے۔

ثاقب نثارکوچاہیے کہ اپنی ترجیح میں ان پھولوں اورکلیوں کوصفِ اول میں رکھیں۔جس دن ثاقب نثار اسکولوں میں چلاگیا،بچے اس مالی کسمپرسی کو فنا کرڈالینگے۔اسی طرح تمام زکوۃ،صدقات اور خیرات صرف اورصرف اسی فنڈمیں جمع ہونے چاہئیں۔

اگر مستقبل کے وزیراعظم کی اخلاقی اورمالیاتی ساکھ اچھی ہوئی توآبی ذخائربنانے کے لیے بیرونی امدادکی ضرورت نہیں رہیگی۔شرط صرف اورصرف یہ ہے کہ وزیراعظم کی ذات بذات خودایماندارہو۔ورنہ بیس برس پہلے کی اسکیم ’’قرض اتارو،ملک سنوارو‘‘کے چرکے تازہ ہوجائینگے۔ قدرت کے نظام سے بھرپوراُمیدہے کہ ہمارا اگلا وزیراعظم ایک بہترین بین الاقوامی ساکھ کاحامل ہوگا۔

سیاسی چور اور ڈاکواس طریقے سے عام لوگوں کے سامنے برہنہ ہوئے ہیں کہ ان کے قریبی ساتھی بھی ان کی دیانت کے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتے۔پیرس،لندن کی جائیدادیں توصرف دیباچہ ہیں۔اگرکسی نے دس سے بیس برس کی کرپشن کی کتاب کھولی توہرصفحہ پرمعاشی دہشتگردی کے کالے حروف درج نظر آئینگے۔معصوم سے چہرے بناکراب الیکشن جیتنا ناممکن ہوچکا ہے۔ان لوگوں کوتوابھی صرف معمولی سی گرم حرارت پہنچی ہے۔جب بے لاگ احتساب کاسورج سوانیزے پر ہوگا، تو پھر کیا ہوگا۔

ذراسوچیے۔ابھی ہلکی سی گرمائش لگی ہے تو طاقتورترین خاندان کے لوگ ایک دوسرے پردھوکا دہی اور فریب کے الزامات لگارہے ہیں۔ نیتوں پرشک کیا جارہا ہے۔ تین دن پہلے لاہورمیں جوکچھ ہوا،وہ افسوسناک توہے مگر کیااس سے آپکویہ نظر نہیں آیاکہ ’’برادران یوسف‘‘کی اصطلاح کے معنی کیا ہیں۔ابھی توگرفتارطوطے بولنے کا قصدکررہے ہیں۔ اس کے بعدکیاہوگا۔

تین دن سے تویہ لگ رہاہے کہ لوہے کے بنے ہوئے لیڈران دراصل مٹی کے بنے ہوئے تھے۔تکلیف کے پہلے امتحان میں ان کے مٹی کے پاؤں پانی میں تحلیل ہوگئے۔اب تویہ اپاہج نظرآتے ہیں۔ تھوڑے دنوں میں یہ صرف اورصرف فریادی ہوں گے۔یہ قانون قدرت ہے جواَٹل ہے۔ جو مستقل ہے۔

آبی ذخائرسے آگے بڑھیے۔ریاستی اداروں پر قیامت کی تنقیدہورہی ہے۔فوج،آئی ایس آئی اوران سے منسلک اداروں کوولن بناکرپیش کیاجارہا ہے۔ چلیے، بحث کی خاطر ایک پَل کے لیے مان لیجیے کہ ریاستی ادارے آنے والے الیکشن میں فعال ہیں۔دلیل کے طورپرعرض ہے کہ 1985 سے لے کرآج تک ایک الیکشن بتائیے،جن میں ان لوگوں کاکردارنہ ہو۔ویسے یہ کردارتواب مہذب ممالک میں بھی ہے۔اس نکتہ کی دوسری طرف آئیے۔

اگر الیکشن کمیشن کو اپنی استطاعت پراعتمادہے تو پولنگ اسٹیشن پر فوج کی تعیناتی کی کیوں درخواست کررہی ہے۔کیاصرف یہ درخواست ادارے کی کمزوری اورضعف کوسامنے نہیں لے آئی۔ اگر سول اداروں میں اتنی طاقت ہے توالیکشن خودکرائیں۔فوج کومت بلائیے۔مگرحقیقت تویہ ہے کہ دس برس کے جمہوری عذاب نے سول اداروں کوختم کردیا ہے۔ ہراہم مقام پر ایسے سرکاری بونے بٹھادیے گئے ہیں جوسب کچھ کرسکتے ہیں۔صرف اورصرف اپناکام اورذمے داری پوری نہیں کر سکتے۔

کیافوج کے سربراہ نے الیکشن کمیشن کو کوئی درخواست کی تھی کہ ہمارا ادارہ الیکشن میں کام کریگا۔ ہرگز نہیں۔بالکل نہیں۔پوراملک جانتاہے کہ عسکری اداروں نے یہ سب کچھ حکومتی مطالبہ پرکیاہے۔ پھرعجیب بات یہ بھی ہے کہ چند مخصوص جماعتیں جنھیں الیکشن میں اپنی ہار نظر آچکی ہے، شورمچارہی ہیں کہ انھیں غیرجمہوری قوتیں ہرار ہی ہیں۔بھئی اگردس برس میں آپ نے عام آدمی کے کام کیے ہیں،انھیں عزت دی ہے،ان کے مسائل حل کیے ہیں توپھرڈرکس بات کا۔ مگر خوف ان زمینی خداؤں کواپنے کیے ہوئے مظالم کے ردِعمل سے ہے۔

یہ اندرسے جانتے ہیں کہ اس دہائی میں انھوں نے ناانصافی کی چھری سے میرٹ کوقتل کیاہے۔ لوگ ان سے ڈرتے تھے۔کیونکہ یہ ہرعزت دارکوبے عزت کروانے کاہنر جانتے ہیں۔لیکن اب عام لوگوں میں یہ خوف کافی حدتک ختم ہوچکاہے۔لہذاچھپی ہوئی نفرت سامنے آرہی ہے۔یہ چندخاندان جانتے ہیں کہ وہ اس عوامی نفرت کامقابلہ نہیں کرسکتے۔لہذادھاندلی،پری پول رگنگ اوردیگرادنیٰ الزامات سے الیکشن کومتنازعہ بنانے کی بھرپور کوشش کررہے ہیں۔

آپ ان بحری قزاقوں کے بیانات لکھ لیجیے۔اگریہ جیت جاتے ہیں توالیکشن بالکل درست ہواہے اوراگریہ شکست کھاجاتے ہیں توظلم اور دھاندلی ہوئی ہے۔ لکھ چکاہوں کہ ان لوگوں کواندازہ ہوچکا ہے کہ اگران کے پاس اقتدار کاڈنڈانہ ہوا،تویہ گھر سے باہرنہیں نکل سکتے۔ مثال لندن میں سامنے آئی ہے۔ لوگ’’ایون فیلڈ کے محلات‘‘ کے سامنے جمع ہوکرایسی ایسی باتیں سنا رہے ہیں کہ پورا خاندان،مین دروازے سے باہرنہیں نکل سکتا۔

آنے جانے کے لیے عقبی دروازہ استعمال ہوتاہے۔لندن میں قانون کی حکومت ہے۔ لہذا یہ لوگ کچھ نہیں کرسکتے۔ مگر پاکستان میں اقتدارکے سائے میں محفوظ ہوسکتے ہیں۔ ہمیشہ کی طرح۔یہ الیکشن دراصل ایک پورے سیاسی آرڈر کو تبدیل کردے گایا پورا ملک دوبارہ ایک ذاتی جاگیریں تبدیل ہوگاجس میں صرف غلام ہوں گے، کنیزیں ہوں گی۔فکری اختلاف پرلوگوں کو قتل کرایا جائے گا۔ ایماندار لوگوں کاجینادوبھر کیا جائیگا۔ دعا ہے کہ پاکستان کی یہ شکل کبھی بھی سامنے نہ آئے۔

عدلیہ اورعسکری اداروں کویہ تونشانہ بناہی رہے ہیں۔ مگران کے بین الاقوامی دوست،پاکستان میں الیکشن سے پہلے دہشتگردی کی بھرپورمہم چلارہے ہیں۔سراج رئیسانی کی شہادت اسکاواضح ثبوت ہے۔ذرااس مردِ مجاہدکی زندگی پر غور کیجیے۔ سرسے پیرتک وطن کی محبت میں سرشارنوجوان۔ جس وقت کوئٹہ سے باہرکوئی شخص قومی پرچم  لہرا نہیں سکتاتھا۔اس بہادرشخص نے گھرپرقومی جھنڈا لگائے رکھا۔اس شخص نے ملک دشمن قوتوں کی سرکوبی کی۔

چندبرس پہلے اپنے معصوم بیٹے کی قربانی دی۔اس شہید بچے کی عمرصرف چودہ برس تھی۔اس بے باک مجاہدنے چودہ اگست کومستونگ سے لے کرکوئٹہ تک پاکستان کا طویل ترین قومی پرچم بنایا۔ہزاروں لوگوں نے اس مقدس جھنڈے کواپنے ہاتھوں سے تھام کرساٹھ سے ستر کلو میٹرکی ایک جاندارزنجیزبنائی،اوریہ قدم اَمرہوگیا۔یہ رئیسانی ہی تھاجس نے دہشتگردوں کے گٹھ جوڑ کونیست ونابودکیا۔ پھر بھارتی جھنڈے پرکھڑے ہوکر تصویر بنوائی۔

تھائی لینڈ میں بہترین زندگی چھوڑکرپاکستان آنے والایہ مجاہد ہر طریقے سے قابل تعریف ہے۔اس کی شہادت ایک پیغام ہے کہ ملک کوبچانے والے سپاہی موجود ہیں۔ اس طرح کے جان نثاروں کی موجودگی میں معاشی دہشتگرد اور بیرونی دشمن ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ ایک شہیدکے خون سے ہزاروں نہیں لاکھوں پاکستانی جان نثار پیدا ہونگے۔ سراج رئیسانی واقعی پاکستان کاسپاہی تھا۔جب تک ایسے عظیم لوگ موجودہیں،پاکستان ناقابل تسخیرہے۔اطمینان رکھیے!

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔