حق بہ حقدار رسید

سردار قریشی  بدھ 18 جولائ 2018

81۔ 1980ء میں، مارشل لاء نافذ ہونے کے باوجود ،کراچی کی ایک ہاؤسنگ اسکیم کی جانب سے ایسی زبردست پبلسٹی مہم شروع کی گئی کہ چھوٹے بڑے تمام قومی وعلاقائی اخبارات کو روزانہ لاکھوں روپے مالیت کے کم ازکم کوارٹر اور ہاف پیج کے اشتہارات جاری کیے جاتے تھے۔ الیکٹرانک میڈیا پر پی ٹی وی کا راج تھا جس کی نجی چینلز سے مسابقت نہ ہونے کی وجہ سے ویسے ہی پانچوں گھی میں تھیں۔

نتیجتاً ہر شخص کی زبان پر اس اسکیم کا نام تھا اور ہر کوئی اس میں پلاٹ لینے کا آرزومند نظر آتا تھا۔ جنرل جہانزیب ارباب، جو بعد میں جام صادق کو ملک سے فرار ہونے میں مدد دینے کے حوالے سے بہت مشہور ہوئے، سندھ کے گورنر و مارشل لا ایڈمنسٹریٹر تھے۔ایک روز میرے دفتر پہنچنے کے کچھ ہی دیر بعد گیٹ کیپر چاچا الہ ورایو نے آکر اطلاع دی کہ اندرون سندھ سے آیا ہوا دیہاتیوں کا ایک وفد مجھ سے ملنا چاہتا ہے۔ انگریزوں کا بنایا ہوا دنیا کا بہترین نہری نظام موجود ہونے کے باوجود زرعی مقاصد کے لیے پانی کی کمی سدا سے یہاں کے لوگوں کا مسئلہ رہا ہے ۔

کاشتکاروں اورکسانوں کے وفود اکثروبیشتر اخبارات کے دفاتر میں آکر اپنا احتجاج ریکارڈ کراتے تھے اور ہم ان کی شکایات پر مبنی خبریں شایع کرنے سے زیادہ اورکچھ نہیں کرسکتے تھے، سو میں اس وفدکو بھی اسی سلسلے کی کڑی سمجھا اور ملنے کے لیے تیار ہوگیا ۔ وفد چھ افراد پر مشتمل تھا اور مجھے یاد ہے کہ ان میں سے ایک عمر رسیدہ بزرگ نے شلوارگھٹنوں تک اوپر چڑھا کر نیفے میں اڑسی ہوئی تھی، جوتیوں کی جوڑی ہاتھ میں پکڑے ہوئے تھے اور ’’اگلے وقتوں کے ہیں یہ لوگ انھیں کچھ نہ کہو‘‘ کی جیتی جاگتی تصویر نظر آتے تھے ۔

انھیں بٹھانے اور چپراسی کو چائے پانی کا بندوبست کرنے کا کہہ کر جب میں نے ان سے حال احوال معلوم کرنا چاہا تو افسر شاہی کی ملی بھگت سے سادہ لوح دیہاتیوں کی زمینیں ہڑپ کرنے اور کروڑوںکا مال بنانے کے ایک ایسے فراڈ کا علم ہوا جو ہر لحاظ سے اپنی مثال آپ تھا۔ پتہ چلا کہ شہر کی حدود میں جس زرعی زمین کو رہائشی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والی زمین میں تبدیل کروانے کے بعد پلاٹنگ کرکے دھڑلے سے منظور شدہ ہاؤسنگ اسکیم کے نام سے بیچا جا رہا تھا وہ اصل میں کئی نسلوں سے ان غریبوں کی ملکیت تھی۔

وفد میں شامل ایک دوسرے بزرگ نے اپنی کمر سے بندھی ہوئی ہرن کی کھال پر کنندہ تاج برطانیہ کی گول مہر والی وہ دستاویز بھی دکھائی جو اس کے پڑ دادا کو اس زمین کا مالک ہونے کے ثبوت کے طور پر دی گئی تھی۔ انھوں نے بتایا کہ مدت ہوئی وہ اس بارانی زمین کوکاشت کرنا ترک کرچکے ہیں اور پہاڑوں پر بھیڑ بکریاں چرا کر گزر بسر کرتے ہیں۔ انھیں کبھی اپنی یہ زمین بیچنے کا خیال اس لیے نہیں آیا کہ یہ ان کے باپ دادا کی نشانی ہے جس میں ان کی ہڈیاں دفن ہیں۔ یوں بھی وہ خانہ بدوشوں کی سی زندگی بسر کرنے کے عادی ہیں جن کی ضروریات نہ ہونے کے برابر محدود ہوتی ہیں۔

ان بیچاروں کے تو وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ان کی زمین یوں غصب کر لی جائے گی۔ وہ تو ان کے ایک لڑکے نے جوکوٹری کی کسی گتہ فیکٹری میں کام کرتا تھا اور چار جماعتیں پڑھا ہوا بھی تھا جب اخبار میں ہاؤسنگ اسکیم کا ایک اشتہار دیکھا تو اپنی خاندانی زمین کے سروے نمبر دیکھ کر چونکا۔ اس کے بتانے پر جب یہ لوگ محکمہ مال (ریونیو ڈپارٹمنٹ) کے متعلقہ دفتر پہنچے تو بجائے داد رسی کرنے کے انھیں بتایا گیا کہ وہ اپنی زمین ہاؤسنگ اسکیم کو بیچ چکے ہیں اور کسی کے بہکاوے میں آکر بلیک میلنگ کے ذریعے اس سے مزید مال اینٹھنا چاہتے ہیں۔ دفتر کے بڑے صاحب نے انھیں دھمکی دی کہ بھاگ جاؤ ورنہ یہاں سے گھر جانے کے بجائے سیدھے جیل جاؤ گے ۔

ان کی بپتا سن کر میں نے پہلے اشتہار میں دیے ہوئے فون نمبر پر ہاؤسنگ اسکیم کے ایم ڈی سے رابطہ کرکے انھیں سارا قصہ کہہ سنایا اور بتایا کہ ہم متاثرہ لوگوں کی شکایت پر مبنی خبر لگا رہے ہیں، انھوں نے اگر اپنا موقف دینا ہو تو ہم اسے بھی خبر میں شامل کرلیں گے ۔ خبر کا سن کر ان صاحب کی جیسے ہوا ہی کھسک گئی، پریشان ہوکر بولے آپ ایسے ہی خبر لگادیں گے ، ہم نے کروڑوں روپے تو صرف پبلسٹی پر خرچ کیے ہیں، خبرکا ہماری ساکھ اور اسکیم پر منفی اثر پڑے گا، آپ ایسا نہیں کرسکتے ، ہم نے زمین اس کے اصل مالکوں سے خریدی ہے ، اگر وہی لوگ آپ کے پاس شکایت لے کر آئے ہیں توجھوٹ کہتے ہیں، آپ انھیں بھگا دیں اور ان کی بات نہ سنیں وغیرہ وغیرہ۔ ان صاحب سے بات کرنے کے بعد میں نے محکمہ مال کے اس افسر سے رابطہ کیا جس نے انھیں جیل بھیجنے کی دھمکی دیکر بھگا دیا تھا اور پوچھا کہ جب مالکان نے زمین بیچی ہی نہیں تو وہ ہاؤسنگ اسکیم کو منتقل کیسے ہوگئی۔

وہ صاحب بھی لگے آئیں، بائیں، شائیں کرنے اور کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکے ۔ میں نے دونوں حضرات سے کہا کہ ہم اپنے اخبارکی آخری کاپی رات کو ٹھیک ایک بجے ڈاؤن کرتے ہیں اور ان کے پاس اپنا موقف دینے کے لیے بارہ بجے تک کا وقت ہے ۔ وفد کو میں نے یہ یقین دلا کر رخصت کردیا کہ کل کے اخبار میں ہم صفحہ اول پر خبر کی صورت میں ان کا کیس نمایاں طور پر شایع کرکے حکام کی توجہ مبذول کرانے اور انھیں انصاف دلانے کی کوشش کریں گے ۔

ابھی 9 ہی بجے تھے کہ دونوں حضرات تشریف لے آئے ، مجھ سے ایسے ملے گویا پرانے جاننے والے ہوں، مطلب کی بات کرنے کے بجائے اسکیم کے ایم ڈی نے پوچھا میری رہائش کہاں ہے اورگھر اپنا ہے کہ کرائے کا ، پھر ایک دم ترپ کا پتہ پھینکتے ہوئے بولے اگر میں ان سے تعان کروں تو وہ شارع فیصل پر ایک کثیر منزلہ عمارت کی آٹھویں منزل پر پانچ کمروں کا ایک فرنشڈ اپارٹمنٹ مجھے گفٹ کرسکتے ہیں۔اس کے بعد ان کا موقف لینے کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہی ۔

میں نے انھیں پیشکش کے جواب میں جو کچھ کہا اسے یہاں نقل کرنے کی ہمارا خود ساختہ ضابطہ اخلاق اجازت نہیں دیتا۔ میرے دوست اور اخبار کا انتظام چلانے والی منیجنگ کمیٹی کے رکن یامین اس وقت میرے پاس بیٹھے تھے ، ان حضرات کے جانے کے بعد بولے تم بھلے ہی آگرہ تاج کے بوسیدہ کرایہ کے مکان میں رہو، وہ اپارٹمنٹ مجھے دلوا دو، ایمان سے دن بدل جائیں گے ۔ بڑے خوش طبع اور زندہ دل انسان تھے ، ابھی کچھ ہی عرصہ پہلے وفات پائی ہے ، اردو بازار میں کام کرتے تھے ، سفر آخرت پر روانہ ہونے سے پہلے عمرہ کرنے گئے تھے ، آخری فون کال میں انھوں نے مجھے بتایا تھا کہ وہ اس وقت روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر حاضر ہیں، واپسی میں پہلے بیٹوں کے پاس مسقط جائیں گے وغیرہ۔

خیر ، تو ہم نے اگلے روز کے اپنے اخبار میں فراڈ سے زمین ہتھیانے کی خبر اس اہتمام سے شایع کی کہ وہ فرنٹ پیج پراپر ہاف میں چار کالمی باکس آئٹم کے طور پر لگی تھی۔ کوئی 10 بجے کے قریب برگیڈیئر یوسف نے مجھے فون پر اپنے دفتر آنے کی اطلاع دی جو گورنرکے اسٹاف آفیسر لگے ہوئے تھے ، آئے تو اسٹینو بھی ہمراہ تھا ۔

انھوں نے خبر کی تفصیلات اور دوسری معلومات حاصل کیں اور یہ کہہ کر چلے گئے اگر جنرل صاحب نے اس حوالے سے آپ سے ملنا چاہا تو وہ رابطہ کریں گے ۔ انھوں نے رابطہ تو نہیں کیا البتہ معلوم ہوا کہ گورنر نے ایکشن کا حکم دینے سے پہلے ایجنسیوں سے کیس کی باقاعدہ تحقیقات کروائی تھی۔ ایکشن یہ ہوا کہ ہاؤسنگ اسکیم کے ایم ڈی اور ان کے سہولت کار محکمہ مال کے افسرکوگرفتار کرلیا گیا، سمری ملٹری کورٹ میں کیس چلا ، دونوں کو سزا ہوگئی اور حق بہ حقدار رسید کے مصداق زمین اس کے اصل مالکان کو واپس مل گئی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔