بلوچستان میں دہشت گردی، انتخابی سرگرمیاں روکنے کی کوشش

رضا الرحمٰن  بدھ 18 جولائ 2018

کوئٹہ: بلوچستان ایک مرتبہ پھر دہشت گردی کا شکار ہوگیا ہے انتخابی سرگرمیاں اپنے عروج پر تھیں کہ اچانک13 جولائی کو شام4 بجے دہشت گردوں نے کوئٹہ سے35 کلو میٹر دور ضلع مستونگ کے علاقے درینگڑھ میں پی بی35 مستونگ میں بلوچستان عوامی پارٹی کے نامزد اُمیدوار اور ممتاز قبائلی و سیاسی شخصیت نوابزادہ سراج خان رئیسانی کے ایک انتخابی جلسے کو اُس وقت نشانہ بنایا جب وہ پنڈال میں بیٹھے لوگوں سے خطاب کرنے والے تھے۔

اس خودکش حملے میں نوابزادہ سراج خان رئیسانی سمیت130 بے گناہ افراد شہید ہوگئے جبکہ150 سے زائد لوگ شدید زخمی ہوئے۔ یہ المناک اور افسوسناک واقعہ پورے ملک میں بڑے دُکھ سے سنا گیا۔ نوابزادہ سراج خان رئیسانی ایک ہردلعزیز سیاسی و قبائلی شخصیت تھے وہ سابق گورنر بلوچستان نواب غوث بخش رئیسانی شہید کے بیٹے اور سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب محمد اسلم خان رئیسانی اور سابق سینیٹر نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی کے چھوٹے بھائی تھے۔ اسی روز بنوں میں بھی سابق وزیراعلیٰ اکرم درانی کے قافلے پر حملہ کیا گیا تھا۔

جس میں5 افراد شہید ہوئے اس سے قبل پشاور میں ہارون بلور بھی خودکش حملے میں شہید ہوئے۔ بنوں، پشاور اور مستونگ (بلوچستان) میں دہشت گردوں نے انتخابی سرگرمیوں کو ہی نشانہ بنایا جس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ملک دُشمن عناصر پاکستان میں جمہوریت کو مستحکم ہوتا نہیں دیکھنا چاہتے۔ عام انتخابات کے عمل کو سبوتاژ کرنا اُن کا مشن ہے جس میں انہیں یقیناً ناکامی ہوگی کیونکہ پاکستان کے عوام اس دہشت گردی کا متحد ہو کر مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہیں اور25 جولائی کو ایک نئے پاکستان کی بنیاد رکھنے جا رہے ہیں۔ شہید نوابزادہ سراج خان رئیسانی کو پورے فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کردیا گیا جبکہ ان کی نماز جنازہ میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی شرکت کی۔ دیگر شہداء کو بھی منوں مٹی تلے آہوں اور سسکیوں میں سپرد خاک کردیا گیا۔

بلوچستان عوامی پارٹی سمیت دیگر تمام قوم پرست و مذہبی اور سیاسی جماعتوں نے اس افسوسناک واقعے پر تین دن یوم سوگ مناتے ہوئے اپنی سیاسی و انتخابی سرگرمیاں منسوخ کردیں جبکہ نگران وزیراعظم،چیئرمین سینٹ سمیت بڑی سیاسی جماعتوں کی لیڈر شپ جن میں میاں شہباز شریف، بلاول بھٹو اور عمران خان،محمود خان اچکزئی، سردار اختر مینگل، جام کمال، میر حاصل بزنجو، مولانا عبدالغفور حیدری شامل ہیں نے ساراوان ہاؤس کوئٹہ آکر تعزیت کی۔ وفاقی حکومت نے ایک دن اور صوبائی حکومت نے دو دن کے سوگ کا اعلان کیا۔

الیکشن کمیشن نے بلوچستان اسمبلی کے حلقہ پی بی35 مستونگ میں فوری طور پر انتخابات ملتوی کرنے کا اعلان کردیا ہے جبکہ وفاقی و صوبائی حکومتوں نے بلوچستان سمیت ملک بھر میں امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے اسے مزید بہتر بنانے کیلئے بعض اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دوسری جانب سیاسی جماعتوں سمیت تمام اُمیدواروں کو بھی اپنی انتخابی سرگرمیوں کے درمیان محتاط رہنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

سیاسی حلقوں کے مطابق خوف و ہراس کے اس ماحول میں عام انتخابات کا انعقاد ماضی میں دیکھنے کو نہیں ملا تاہم اس کے باوجود عوام پر جوش دکھائی دے رہے ہیں۔ بلوچستان میں بھی سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں انتخابی اتحاد تشکیل پانا شروع ہوگئے ہیں۔

بعض نشستوں پر پرانے اتحادی یکجا نہ ہو سکے جس کی واضح مثال اے این پی اور ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کا کوئٹہ کی قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر نیا اتحاد ہے اس سے قبل اے این پی، بی این پی مینگل اور ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے درمیان کوئٹہ چاغی کی قومی اسمبلی کی نشست پر ضمنی الیکشن کے دوران سہہ جماعتی اتحاد تشکیل پایا تھا اور ان جماعتوں کے رہنماؤں نے اس بات کا اعادہ کیا تھا کہ یہ اتحاد2018ء کے عام انتخابات میں بھی برقرار رہے گا لیکن یہ اتحاد برقرار نہیں رہ سکا چنانچہ اے این پی اور ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی نے بی این پی مینگل سے ہٹ کر کوئٹہ سے قومی اسمبلی کی نشست این اے265 سٹی پر اے این پی کے اُمیدوار اور صوبائی اسمبلی کی دو نشستوں پی بی 27 اور پی بی 26 پر ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے اُمیدواروں کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ قومی اسمبلی کی نشست این اے265 پر بی این پی مینگل کے اُمیدوار حاجی لشکری رئیسانی ہیں۔

قومی اسمبلی کی اس نشست پر مد مقابل اُمیدواروں میں پشتونخواملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی، تحریک انصاف کے قاسم سوری، متحدہ مجلس عمل کے حافظ حمد اﷲ اور (ن) لیگ کی محترمہ راحیلہ حمید خان درانی ہیں۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق اس نشست پر بڑا دلچسپ سیاسی مقابلہ ہوگا۔ 2013ء کے انتخابات میں یہ نشست (ن) لیگ کی حمایت سے محمود خان اچکزئی نے جیتی تھی اور تحریک انصاف کے اُمیدوار قاسم سوری دوسرے نمبر پر رہے تھے۔ اس مرتبہ (ن) لیگ نے اس نشست پر محترمہ راحیلہ حمید درانی کو ٹکٹ دیا ہے۔

بلوچستان عوامی پارٹی نے اس نشست پر سعید احمد ہاشمی کو ٹکٹ دے کر واپس لے لیا اور انکی جگہ پر نصیب اﷲ اچکزئی میدان میں ہیں۔ بعض سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ بلوچستان عوامی پارٹی سعید احمد ہاشمی کواس نشست پر کھڑا رکھتی تو اس نشست پر صورتحال مزید دلچسپ ہوجاتی۔ کوئٹہ سے قومی اسمبلی کی دوسری نشست این اے266 پر بھی متحدہ مجلس عمل کے حافظ حسین احمد، بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کے آغا حسن بلوچ ایڈووکیٹ اور بلوچستان عوامی پارٹی کے آغا عمر احمد زئی کے درمیان کانٹے دار مقابلہ ہے۔

اسی طرح این اے264 پر متحدہ مجلس عمل کے مولوی عصمت اﷲ، بلوچستان عوامی پارٹی کے علی محمد ناصر، (ن) لیگ کے امیر افضل خان، جمعیت نظریاتی کے مولانا عبدالقادر لونی اور پیپلز پارٹی کے لالا محمد یوسف خلجی کے مابین مقابلہ ہے۔ بعض سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اس نشست پر ووٹوں کی تقسیم سیاسی بنیادوں کے بجائے قبائل پر ہوگی اس لئے اس نشست پر کون کامیاب ہوتا ہے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا؟

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔