ٹیکس ایمنسٹی، رازافشا کرنے پرجرمانے وقیدکی سزاکاانتباہ

خصوصی رپورٹر  بدھ 18 جولائ 2018
سوشل میڈیا پر سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کا ایک دوسرے کیخلاف پراپیگنڈہ
 فوٹو : فائل

سوشل میڈیا پر سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کا ایک دوسرے کیخلاف پراپیگنڈہ فوٹو : فائل

 اسلام آباد:  فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے وضع کیا ہے کہ کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک وکیل کی جانب سے فارن ٹیکس ایمنسٹی کے تحت ٹیکس کی ادائیگی کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

اس ضمن میں ایف بی آر کی جانب سے منگل کو جاری کردہ اعلامیے میں ایسی خبروں کو بے بنیاد اور غلط قرار دیا گیا ہے۔ اعلامیہ میں کہا گیاکہ ایف بی آر فارن ایسٹس (ڈیکلریشن اینڈ ری پیٹریایشن) ایکٹ 2018 اور وولنٹری ڈیکلریشن آف ڈو میسٹک ایسٹس ایکٹ 2018کی شقوں کے تحت معلومات کا افشا نہ کرنے کا پابند ہے اور ان شقوں کے تحت کسی قسم کے افشا کی صورت میں 5 لاکھ سے 10لاکھ روپے جرمانہ یا 1سال کی مدت تک قید کی سزا یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔

ایف بی آر نے ٹیکس ایمنسٹی کے تحت غیر ظاہر شدہ جائیدادیں اور آمدنیاں ڈیکلیئر کرنے والوں کی رازداری کو یقینی بنانے کے لیے آن لائن نظام متعارف کرایا ہے جس تک رسائی محدود کر دی گئی ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔