ہارون بلور شہید: بجھ تو جاؤں گا مگر صبح بھی کرجاؤں گا

احتشام بشیر  بدھ 18 جولائ 2018
ہارون بلور کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کی شہادت پر ہر آنکھ نم تھی اور کسی کو بھی یقین نہیں ہورہا تھا کہ ہارون بلور اب ہم میں موجود نہیں رہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

ہارون بلور کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کی شہادت پر ہر آنکھ نم تھی اور کسی کو بھی یقین نہیں ہورہا تھا کہ ہارون بلور اب ہم میں موجود نہیں رہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

10 جولائی کی رات پشاور میں ایک بار پھر قیامت ڈھا دی گئی۔ صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی کے 78 میں عوامی نیشنل پارٹی کی انتخابی مہم کو دہشت گردوں نے نشانہ بنایا جس میں اے این پی کے امیدوار اور بشیر بلور شہید کے صاحبزادے ہارون بلور سمیت 20 افراد شہید اور 60 سے زائد ذخمی ہوگئے۔ انتخابی مہم کے حوالے سے بیرون یکہ توت تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا، ہارون بلور کے چچا الیاس بلور بھتیجے سے پہلے ہی تقریب میں شرکت کےلیے پہنچ چکے تھے اور ہارون بلور کے تایا این اے 31 سے امیدوار حاجی غلام احمد بلور کو بھی تقریب میں شرکت کرنا تھی۔ ہارون بلور تقریب میں شرکت کےلیے پہنچے تو پارٹی ورکرز نے ان کا والہانہ استقبال کیا، آتش بازی کی گئی اور پارٹی نعروں کی گونج میں انہیں اسٹیج کی جانب لے جایا گیا۔ یہ تقریب سرکلر روڈ پر چھوٹی سی گلی میں ہو رہی تھی۔ ہارون بلور گلی کے وسط میں پہنچے ہی تھے کہ خودکش بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا جس سے ہارون بلور سمیت 20 افراد شہید اور 60 زخمی ہوگئے۔

اس دھماکے نے ایک بار پھر پشاور کی پرسکون فضا کو سوگوار کر دیا اور پشاور کا کونا کونا غم میں ڈوب گیا۔ دہشت گردوں کی اس واردات سے ایک ہنس مکھ اور پیار کرنے والی شخصیت کو چھین لیا گیا۔ ہارون بلور کی شخصیت ہی ایسی تھی کہ وہ کسی سے بھی ملتے تو ان کے چہرے پر ایک مسکراہٹ اور پیار کا پیغام ہوا کرتا تھا۔ آج جب ان کے بارے میں کچھ لکھنے بیٹھا تو آنکھوں کے سامنے شہید کا چہرہ گھوم رہا ہے اور زندگی میں ان سے وابستہ یادوں کے دریچے کھل رہے ہیں۔

ہارون بلور سے تعلق 2000ء کی دہائی سے رہا، جب ان کے والد بشیر احمد بلور شہید سے ملنے جایا کرتے تھے تو ہارون بلور سے بھی ملاقات ہو جایا کرتی تھی۔ سیاسی امور پر گفت و شنید ہارون بلور کا مشغلہ تھا۔ وہ ہر وقت سیاسی صورتحال سے خود کو باخبر رکھنا چاہتے تھے، وقت کے ساتھ ساتھ ہارون بلور سے بھائیوں جیسا تعلق بن گیا۔ ان کے والد بشیر بلور بھی 2013ء کے انتخابات سے قبل دہشت گردوں کا نشانہ بنے۔ والد کے بعد ہارون بلور کو خاندان کی جانب سے سیاسی سرگرمیاں محدود کرنے کا بار بار کہا جاتا رہا لیکن ہارون بلور اپنے بہادر والد کے بہادر بیٹے تھے، وہ پشاورکو چھوڑنا نہیں چاہتے تھے، اسی لیے وہ اپنے والد کے حلقے کے پارٹی عہدیداروں سے رابطوں میں رہے۔ انہوں نے اپنے والد کے حلقے سے، جو اب پی کے 78 اور پہلے پی کے 3 ہوا کرتا تھا، الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا۔ ان کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے ہارون بلور کو اے این پی نے ٹکٹ جاری کردیا۔ ہارون بلور 2013ء کے الیکشن میں پی ٹی آئی کے جاوید نسیم سے کامیابی حاصل نہ کرسکے، اب کی بار ان کی خواہش تھی کہ وہ اپنے والد کی سیٹ پر کامیابی حاصل کرکے اسمبلی میں پشاور کے مسائل پر آواز اٹھائیں۔ اس حوالے سے جب بھی ان سے نشست ہوتی وہ پشاور کو درپیش ایشوز پر ہی بات کرتے۔

ہارون بلور کے پیار، محبت اور شفقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کی شہادت پر ہر آنکھ نم تھی اور کسی کو بھی یقین نہیں ہورہا تھا کہ ہارون بلور اب ہم میں موجود نہیں رہے۔ ہارون بلور سے تعلق ایک سیاستدان اور صحافی کا نہیں بلکہ ایک دوست جیسا تھا۔ ان سے جب بھی ملاقات ہوتی، پشاور کی سیاست پر لمبی نشست ہوتی۔ فون پر بھی کوئی معلومات لینی ہوتیں تو ان کا پہلا سوال یہی ہوتا کہ سیاست میں کیا ہورہا ہے؟ ان کی شہادت سے ایک روز قبل انتخابی مہم پر رپورٹ بنانے کےلیے ان سے رابطہ کیا تو سلام کے بعد انہوں نے پہلا سوال مجھ سے یہی کیا کہ میرے حلقے کی کیا رپورٹس ہیں؟ معلوم نہیں تھا کہ ان سے یہ آخری رابطہ ہوگا۔ المناک سانحے کے بعد جب تعزیت کےلیے بلور ہاؤس پہنچے تو ایسا لگا کہ ہمیشہ کی طرح ہارون بلور اب بھی دہلیز پر کھڑے ملیں گے، جو اب ناممکن تھا لیکن گمان کو اطمینان دلانا بھی مشکل تھا۔ ہارون بلور کی اسی محبت و شفقت پر شہر بھر میں تین روز تک کسی نے بھی انتخابی مہم نہیں چلائی اور پورا شہر سوگ میں ڈوبا رہا۔

ابھی قوم پشاور کے سانحے کے غم میں ہی تھی کہ بنوں میں سابق وزیراعلیٰ اکرم خان درانی کے قافلے کو نشانہ بنایا گیا جب وہ انتخابی جلسے کے بعد واپس جا رہے تھے۔ اس دھماکے میں 5 افراد شہید اور 35 زخمی ہوئے۔ اسی طرح بلوچستان کے علاقے مستونگ میں سراج رئیسانی کی انتخابی مہم کو بھی نشانہ بنایا گیا جس میں 149 افراد شہید ہوئے۔ چار روز میں دہشت گردوں نے انتخابی تقریبات کو نشانہ بنا کر خوف کی فضا قائم کرنے کی کوشش کی۔ یقیناً دہشت گردوں کی یہ مذموم کارروائیاں پاکستان میں انتخابی عمل کو نقصان پہنچانے کی خطرناک کوشش تھی لیکن تمام مکاتب فکر اور سیاسی جماعتوں نے خوف کی ماحول سازی کو مسترد کردیا۔ پوری قوم اس خون آشامی کے خلاف متحد رہی جو ملک دشمن دہشت گرد قوتوں کےلیے کرارا جواب تھا۔

پاکستان پیپلز پارٹی سمیت تمام سیاسی جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ انتخابی عمل سے باہر نہیں ہونا اور الیکشن میں ضرور جانا ہے۔ پے در پے دہشت گردی کی ان وارداتوں کے بعد پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو پشاور، مردان اور سخاکوٹ ملاکنڈ میں بھی جلسے ملتوی کرنا پڑے۔ عوامی نیشنل پارٹی بھی بڑے صدمے سے گزرنے کے باوجود الیکشن کا بائیکاٹ کرنے کو تیار نہیں۔ 2013ء کے الیکشن میں بھی اگرچہ اے این پی کی انتخابی سرگرمیاں انتہائی محدود ہوگئی تھیں لیکن انہوں نے الیکشن میں بھر پور حصہ لیا۔

سانحہ پشاور کے بعد سیاسی جماعتوں کے امیدواروں نے اپنی انتخابی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ ہر سیاسی جماعت کا امیدوار گھر گھر انتخابی مہم میں مصروف ہے۔ اے این پی بھی انتخابی مہم کےلیے میدان میں اترچکی ہے۔ بلور خاندان کی توجہ این اے 31 کی نشست پر مرکوز ہو گئی ہے۔ این اے 31 میں صوبائی اسمبلی کے تین حلقے شامل ہیں جن میں پی کے 76، 77 اور 78 شامل ہیں۔ ان تینوں حلقوں میں انتخابی مہم کی نگرانی بلور برادران کریں گے۔ پی کے 78 جو ہارون بلور کا حلقہ تھا یہاں ہارون بلور کے برخوردار دانیال بلور انتخابی مہم کے نگران مقرر کیے گئے ہیں۔ اے این پی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کا ایک بار پھر انتخابی مہم بھرپور انداز سے چلانا یہ پیغام ہے کہ وہ دہشت گردی کے سامنے ہتھیار نہیں ڈال سکتے۔

25 جولائی کے روز عوام کو بھی ثابت کرنا ہے کہ اپنے ملک اور جمہوری نظام کو چلانے کےلیے دہشت گردوں کے عزائم کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

ہارون بلور کی شہادت کے بعد فیس بک پر ان کی ایک ویڈیو نظر سے گزری۔ ایک تقریب کے دوران اپنے والد کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے ایک شعر پڑھا تھا، وہی شعر ہارون بلور شہید کی نذر کرتا ہوں:

کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا
میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤں گا

زندگی شمع کی مانند جلاتا ہوں ندیم
بجھ تو جاؤں گا مگر صبح بھی کرجاؤں گا

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔