مقام عبرت

ظہیر اختر بیدری  جمعرات 19 جولائ 2018
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

[email protected]

ایک طویل انتظار اور عدالتی کارروائیوں کے بعد آخرکار نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نوازکو اڈیالہ جیل پہنچا دیا گیا ۔ اس حوالے سے پہلا دلچسپ سوال یہ ہے کہ لاہور اور پنجاب کے عوام کی مکمل حمایت کی دعویدار مسلم لیگ ن کو اس تلخ حقیقت کا سامنا کرنا پڑا کہ پنجاب کے حوالے سے اس کے اندازے سرے سے غلط تھے ۔ سیاسی رہنماؤں میں یہ غلط تصور بڑے جلسوں کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے، جن میں عوام بھاری تعداد میں شریک ہوتے ہیں ۔

اس غلط تصورکے پس منظر میں سیاسی رہنما اس قدر مگن رہتے ہیں کہ بڑے بڑے فیصلے اس غلط اور احمقانہ تصورکی وجہ ہی سے کرتے ہیں۔ ہم نے بارہا ان ہی کالموں میں بھٹو مرحوم کے حوالے سے اس حقیقت کی نشان دہی کی تھی کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا مقبول ترین رہنما جب سیاسی انتقام کا شکار ہوا تو اس کی گرفتاری سے لے کر اس کی پھانسی تک عوام کا یہ حال تھا جیسے وہ بھٹو کو جانتے ہی نہیں۔ بھٹو کے ساتھ عوام کے اس رویے سے عقل مند سیاست دان عوامی حمایت کے حوالے سے محتاط ہوتے ہیں لیکن جلسوں جلوسوں کی تام جھام پر بھروسا کرنے والے سیاست دان دھوکے میں مارے جاتے ہیں۔

بھٹو مرحوم اس حقیقت کو سمجھنے سے قاصر رہے کہ عوام اسی رہنما کو سپورٹ کرتے ہیں ، جو ان کے مسائل حل کرتا ہے۔ بھٹو صاحب نے روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ لگایا جو عوام کی بنیادی ضرورت سے تعلق رکھتا تھا لیکن عوام روٹی، کپڑے اور مکان سے محروم رہے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بھٹو کے گلے میں ضیا الحق نے بد دیانتی سے پھندا ڈال دیا تھا، عوام یہ افسوسناک منظر دیکھتے رہے لیکن ٹس سے مس نہیں ہوئے جھوٹے دعوؤں ، خوش کن نعروں سے عوام کسی کی حمایت نہیں کرتے، ہمارے سیاسی رہنماؤں کی ایک بہت بڑی غلط فہمی یہ رہی ہے کہ وہ اپنے ہی کرم اور مہربانیوں سے آرگنائز کیے ہوئے، بڑے جلسوں کو دیکھ کر پھولے نہیں سماتے اور اسی غلطی اور حماقت کی وجہ سے اس حالت کو پہنچتے ہیں جس حالت کو ماضی میں بھٹو صاحب پہنچے تھے اور حال میں میاں نواز شریف پہنچے ہیں۔

میاں صاحب اوور کانفیڈنس میں مارے گئے، بھٹو پر عوام کے مسائل سے غفلت اور مخلص دوستوں سے بے وفائی کا الزام تھا لیکن میاں صاحب پر نہ صرف عوامی مسائل سے لا تعلقی کا الزام تھا بلکہ ان کے خاندان پر اربوں روپوں کی کرپشن کا بھی الزام تھا اور عدالتوں میں یہ الزامات ثابت ہورہے تھے جس کی میڈیا میں اتنی شدید پبلسٹی ہورہی تھی کہ شریف خاندان کرپشن کا سمبل بن گیا تھا۔ ان تلخ حقائق کے باوجود میاں صاحب کا رویہ اس قدر جابرانہ تھا کہ عوام تو عوام خواص بھی اس رویے سے ناراض تھے۔ حیرت ہے کہ ایک ایسا شخص جو کرپشن کے الزامات کا سامنا کر رہا تھا کیا وہ اس قدر بے پرواہ ہوسکتا ہے کہ ہر ایک سے لڑائی مول لیتا رہے؟

اس میں کوئی شک نہیں کہ چھوٹے میاں نے عوامی سہولتوں کے کچھ کام کیے لیکن عوام کے اصلی اور حقیقی مسائل کی طرف دھیان دینے کی زحمت ہی نہیں کی، عوام آسمان کو چھوتی ہوئی مہنگائی کی چکی میں پستے رہے۔ عوام بے روزگاری کے صحراؤں میں بھٹکتے رہے ، عوام رشوت کے سمندر میں ہچکولے کھاتے رہے۔ عوام جرائم کی بھرمار سے عاجز رہے عوام نا اہل حکمرانی سے بیزار رہے، عوام کے معیار زندگی میں اضافے کے بجائے کمی ہوتی رہی ۔ عوام گیس، بجلی کی لوڈ شیڈنگ سہتے رہے لیکن ہمارے  حکمرانوں کی ساری دلچسپی دولت میں زیادہ سے زیادہ اضافے سے تھی یا رہی، اس مایوس کن صورتحال نے ملک کی خاموش اکثریت کو حکمرانوں کے سخت خلاف کردیا جس کا مظاہرہ انھوں نے نواز شریف اور ان کی بیٹی کی گرفتاری اور اڈیالہ جیل تک پہنچنے کے باوجود ٹس سے مس نہ ہوکر کیا۔

حیرت کی بات ہے کہ عوام تو عوام میاں صاحب کے ہر وقت دائیں بائیں رہنے والے محترم وزرا نے میاں  صاحب کی گرفتاری کا سرے سے نوٹس تک نہ لیا۔ چھوٹے میاں جو ہمیشہ بڑے میاں کے دست و بازو بنے رہتے تھے جو تیر مارا وہ ایک چھوٹی سی ریلی تھی جو حالات بلکہ نامساعد حالات کے جلسے میں دب کر رہ گئی اور سورما وزیر جن کی زبان تلوار کی طرح چلتی تھی منظر سے سے غائب رہے۔

میاں صاحب دانشور ہیں نہ مفکر لیکن انھوں نے ایک مفکرانہ فلسفہ ایجاد کیا کہ ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ غالباً میاں صاحب نے یہ فلسفہ اس لیے گھڑا کہ وہ ہمیشہ غریب عوام کے ووٹ ہی سے وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہوتے رہے ہیں۔ ووٹ کو عزت دو کے بالواسطہ معنی یہی ہوسکتے ہیں کہ حکمرانوں کو عزت دو، ووٹ کو عزت دو کا نعرہ ایجاد کرنے والے میاں صاحب کیا اس حقیقت سے ناواقف ہیں کہ ہمارے ملک میں ووٹر ذلیل و خوار ہورہاہے اگر میاں صاحب کو عوام کی ذلت بھری زندگی کا احساس ہوتا تو وہ ووٹ کو عزت دو کے بجائے ووٹر کو عزت دو کا نعرہ لگاتے۔

میاں صاحب اب اپنی شیرنی بیٹی کے ساتھ اڈیالہ جیل میں ہیں۔ قانون کے مطابق انھیں 10 سال اور ان کی صاحبزادی کو سات سال جیل کی سزا ہوئی ہے۔ جب یہ اکابرین اقتدار میں تھے تو کیا ان کے وہم و گمان میں بھی یہ بات آسکتی تھی کہ کبھی ان کا ٹھکانہ اڈیالہ جیل ہوگا۔؟ میاں صاحب کی آخری امید 25 جولائی کے انتخابات ہوسکتی ہے لیکن میاں صاحب اور مریم کی گرفتاری اور اڈیالہ جیل منتقلی کے باوجود عوام جس طرح لا تعلق رہے ہیں شاید 25 جولائی کو بھی عوام میاں صاحب کی پارٹی سے اسی طرح لا تعلق رہیں گے ،کیونکہ عوام صرف ان رہنماؤں، ان جماعتوں کے ہمدرد ہوتے ہیں جو ان اور ان کے مسائل سے ہمدردی رکھتا ہے اور انھیں حل کرنے کی ایماندارانہ کوشش کرتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔