غفاربھائی کی قربانی

انیس منصوری  جمعرات 19 جولائ 2018
muhammad.anis@expressnews.tv

[email protected]

باجی، باجی میری بات تو سنو، خدا کی قسم پوری مارکیٹ میں آپ کو ایسی چوڑیاں نہیں ملیں گی ۔اُس نے فورا خاتون کا ہاتھ پکڑا اورجلدی سے چوڑیاں پہنا دیں۔ غفار میمن زبردست قسم کا سیل مین ہے۔ عید کے دنوں میں خواتین کو چوڑیاں اور رمضان کے مہینے میں مردوں کو ٹوپیاں پہناتا ہے، وہ یہ فن خوب جانتا ہے کہ کس موسم میں کسے کیا پہنانا ہے۔ مجھے کبھی کبھار شک ہوتا ہے کہ اُس کے اندرکسی سیاسی رہنما کی روح بستی ہے۔ جو ہر موسم میں اپنی دیہاڑی بنا لیتا ہے۔ غفار میمن سب کا استاد ہے۔آج تک پتہ نہیں کتنی عورتوں کا ہاتھ اُس نے پکڑ لیا، لیکن کسی نے اُس کے خلاف کتاب نہیں لکھی۔ بے شمار مردوںکو ٹوپیاں پہنا دی ہے، مگر آج تک کسی نے نہیں کہا کہ ان کے مرد لاپتہ ہو گئے۔

الیکشن کے دنوں میں غفار بھائی کا دھندہ عروج پر ہے۔ ایک بستے میں مختلف سیاسی جماعتوں کے اسٹیکر اور بیج لے کر نکلتے ہیں۔ جس جماعت کی کارنر میٹنگ ہو رہی ہوتی ہے۔ اُس کے اسٹیکر نکال کر اسٹال لگا دیتے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آجکل کس کے اسٹیکر سب سے زیادہ فروخت ہو رہے ہیں ۔ میرے کان کے قریب آکر آہستہ سے کہنے لگے کہ بتا نہیں سکتا، میرے اندر تجسس پیدا ہوا ۔ میں نے ان سے کہا بتادوکسی کو نہیں بتاؤں گا ۔کہنے لگے کہ کراچی میں سب سے زیادہ اسٹیکر الطاف حسین کے اور پنجاب میں سب سے زیادہ نوازشریف کے فروخت ہو رہے ہیں۔ میری تو سیٹی گُم ہوگئی۔ میں نے حیرت سے غفار میمن کو دیکھا ۔ مجھے لگا کہ غفارکا ذہنی توازن خراب ہوگیا ہے ۔

دو ایسے افراد کے نام لے رہا ہے جس کا نام سُننا بھی الیکشن ہروا سکتا ہے۔ میری آنکھوں کا تجسس وہ سمجھ چکا ۔ ایک زوردار قہقہہ لگایا اور مجھے گریبان سے پکڑکر قریب کرتے ہوئے کان میں کہنے لگا کہ میں کراچی میں جیسے ہی جلسہ دیکھتا ہوں ۔ متحدہ کے بانی کے اسٹیکر نکال کر زور زور سے آواز لگانے لگ جاتا ہوں۔ بالکل سستا کر دیا ۔ پانچ روپے کے دو ۔ 5 روپے کے دو ۔ جیسے ہی میری آواز تیز ہوتی ہے ۔کچھ لوگ آتے ہیں اور میرا سارا مال خریدکر چلے جاتے ہیں ۔ میں نے اپنے اردگرد آتے جاتے لوگوں کو غور سے دیکھا اور پوچھا کہ میں نے کسی کو بھی بیج لگاتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔کہنے لگا تم احمق آدمی ہو ، آج کل بیج یا اسٹیکر لگانے کے لیے دو تو اُس میں منافع نہیں ہے۔ جس اسٹیکرکو نہیں لگنا ہے، اُس میں منافع زیادہ ہے ۔ میں نے ایک اورسوال داغ دیا کہ غفار بھائی یہ کیسا دھندہ ہے کہ جس میں چیزکو استعمال نہیں ہونا وہ زیادہ فروخت ہو رہی ہے، یہ تو دو نمبری ہے ۔کہنے لگا کہ یقین مانو، میں تو آج کل ایسے لوگوں کی لسٹ بنا رہا ہو،جن کو بلیک میں بیچ سکوں۔

میں نے فورا پوچھا اورکیا کیا بیچنے کا پروگرام ہے۔کہنا لگا کہ میں نے چائنا میں الگ الگ جیل کی تصویروں والی شرٹیں بنوا لی ہے ۔ میری لہجے میں اب چڑچڑاہٹ تھی ۔ اب کوئی جیل والی ٹی شرٹ کیوں پہنے گا۔ اُس نے زور سے میرا ہاتھ دبایا اور کہنے لگا کہ نہیں پہنے گا اسی لیے تو بنوا رہا ہوں ۔ فورا فروخت ہوجائے گی اور مال بھی اچھا ملے گا۔ اب میری باری تھی ۔ میں نے سوچا کہ غفارکو ڈرایا جائے ۔ میں نے اُس کے کان کے قریب جاکر سرگوشی کے انداز میں کہا کہ اس سے بڑا خطرہ ہو سکتا ہے ۔کوئی آپ کو دونمبری کے چکر میں پکڑسکتا ہے۔ایک بار پھر غفار نے میرا ہاتھ پکڑا اورکہنے لگا کہ ایک بار پکڑ لیا تھا ۔ میں نے زور سے نعرہ لگا دیاکہ تبدیلی آگئی ہے اور فورا ٹی شرٹ کوآگ لگا دی اورکہنے لگا کہ ان بے غیرتوں کا یہ ہی حال ہونا چاہیے ۔آپ نے پکڑ لیا ورنہ میں یہ ٹی شرٹ راؤنڈ پر جا کر جلانا چاہتا تھا ۔

ویسے ہی آج کل پکڑنے کی باتیں زیادہ ہو رہی ہے۔ غفار مجھے سیاسی ماحول میں بھی دھندہ کرنے کے ہنر سیکھا رہا تھا اور میں سوچ رہا تھا کہ اگرکسی دن غفارکوکوئی نیب ٹکرا گئی تو اُس کو جیل میں کون سی کلاس ملے گی ۔ جتنا فنکار آدمی یہ ہے اُس سے میں نے اندازہ لگایا کہ کم ازکم بی کلاس تو پکی ہے، مجھے ایک واقعہ یاد آگیا۔

میرے خیال سے یہ 1922ء کا واقعہ ہے ۔ ہندوستان کے مسلمان یہ خواب دیکھ رہے تھے کہ ان کی جدوجہد سے جلد ہی ترکی میں خلافت بحال ہوجائے گی ۔ جس طرح آج کل اردوان کو دیکھ دیکھ کو ہمارے کچھ انقلابی ’’باؤلے‘‘ ہوگئے ہیں ۔اس باؤلے پن کا علاج پھرکسی وقت بنگالی بابا سے پوچھ کر بتاؤں گا، مگر جب مجھے یہ خبر ملی کہ جیل میں ہمارے نامی گرامی لیڈران کو بہتر سہولیات نہیں مل رہی تو مجھے خلافت کا وقت یاد آگیا۔ انگریزوں نے خلافت تحریک کوکچلنے کے لیے اہم اہم لیڈروں کے ساتھ عوام کو بھی گرفتارکرنا شروع کر دیا ۔

انگریزگرفتار پہلے کرتے تھے اور مقدمہ بعد میں سنتے تھے  مگر سُنا ہے کہ جب سے ہم آزاد ہوئے ہیں ہم نے سارے قانون بدل دیے ہیں ۔ خیر میں کہنا یہ چاہ رہا تھا کہ ڈیرہ غازی خان کی جیل میں ایک اہم واقعہ ہوا۔ جیل میں ہندو، سکھ اورمسلمان رہنما موجود تھے۔ انگریزوں نے سیاسی قیدوں کو بہترکلاس دی ہوئی تھی ۔ جس میں انھیں اس بات کی اجازت تھی کہ وہ جیل کے کپڑوں کی بجائے اپنے کپڑے پہن سکتے ہیں۔ اس وجہ سے ہندؤں نے ٹوپی،سکھوں نے پگھڑی پہنی ہوئی تھی ۔ جیل کی اس کلاس میں صرف ایک باچا خان تھے جنھوں نے نا ٹوپی پہنی تھی اور نہ ہی پگڑی ۔ایک دن محکمہ جیل کا جرنیل دورے پرآیا جس کا نام کرنل واڈ تھا ۔ اُس نے جب دیکھا کہ ہندوؤں نے ٹوپی اور سکھوں نے پگڑی پہنی ہوئی ہے تو فورا حکم دیا کہ سب کے سروں سے گاندھی ٹوپی اورکالی دستاریں لے لی جائے ۔

جیل حکام جانتے تھے کہ یہ سیاسی قیدی ہیں،ان پر سختی نہیں کی جاسکتی لیکن کرنل کا حکم تھا۔اس کی تعمیل بھی ضروری تھی ۔دوسرے دن جیل سپرنٹنڈنٹ آیا اور سب کو باری باری کمرے میں بلا تا گیا اور سب کی ٹوپی اور پگڑیاں لے لی گئیں ۔ سیاسی لوگ تو سیاسی لوگ ہوتے ہیں۔ انھیں معلوم ہوتا ہے کہ کب ٹوپی پہننی ہے اورکب اتارنی ہے۔ اُس وقت تک مزاحمت نہیں کی لیکن بعد میں سب نے ملکر ایک مشورہ کیا اور فیصلہ کیا کہ ہمیں ٹوپی نہیں پہننے دی جا رہی اس لیے ہم احتجاج کرتے ہوئے کپڑے بھی نہیں پہنیں گے ۔ سب نے کپڑے اتارکر ’’لنگوٹ ‘‘ باندھ لی۔ احتجاج کی آوازیں جب دور دور تک جانے لگی تو ڈپٹی کمشنر مذاکرات کے لیے آیا ۔احتجاج کرنے والوں کے لیڈر سردارکھڑک سنگھ تھے۔انھوں نے کہہ دیا کہ جب تک ہمیں ٹوپی پہننے کی اجازت نہیں ملے گی، ہم احتجاج جاری رکھیں گے، جیل توجیل ہوتی ہے۔

جب بات نہیں مانی گئی تو جیل قانون کے مطابق احتجاج کرنے والوں کی سزا میں 9  مہینے کا اضافہ کردیا گیا۔آدھی احتجاجی قوم وہی ٹھنڈی ہوگئی۔ ہندو لیڈروں نے اپنا احتجاج ختم کردیا ۔اب پیچھے رہ گئے سکھ ۔ 9 مہینے گزرنے کے بعد پھر پوچھا گیا کہ اب کیا ارادہ ہے تو باقی لوگوں نے بھی احتجاج ختم کردیا ، لیکن اس میں صرف ایک آدمی بچ گیا جواپنے اصولوں پر ڈٹا رہا اُس کا نام تھا سردارکھڑک سنگھ ۔ باقی سب نے بھی ڈیل کی،کچھ رہا ہوگئے اور باقی نے کپڑے پہن کردوسری جیل میں منتقلی لے لی ۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ہمارے جیل قوانین وہ ہی جو انگریز بہادر ہمیں تحفے میں دے کرگئے ہیں ۔ یہاں شور شرابے کے بعد سزائیں بڑھ جاتی ہے ۔ یہاں پر وقت سے پہلے وہ ہی نکلا ہے جس نے ڈیل کرلی ہو یا پھر خاموشی اختیارکرلی ہو ۔ پچھلی بارکا تجربہ ہمارے سامنے ہیں، جس میں ڈیل ہی ہوئی ہے۔ اُس وقت بھی ترکی میں خلافت کے لیے بہت سے لوگ جیل چلے توگئے لیکن جیل برداشت نہیں کرسکے ۔کبھی فرصت ملے تو یہ ضرور پڑھیے گا کہ اُس کے بعد سردارکھڑک سنگھ نے کتنی مشکل جیل کاٹی۔

میں بھی بات کوکہاں سے کہاں لے کر چلاگیا ۔ اچھا خاصا آپ کو غفارکی کہانی سُنا رہا تھا، مگر بات دو نمبری سے شروع ہوکر جیل تک پہنچی اور جیل سے ڈیرہ غازی خان میں سردارکھڑک سنگھ تک چلی گئی۔ غفارکی کہانی پھر سُنا دوں گا۔ بس ابھی اتنا بتا دوں کہ غفار نے الیکشن کے بعد قربانی کے جانور تلاش کرنا شروع کردیے ہیں، فارمولا آسان رکھا ہے ۔ جو شریف جانور ہونگے اور بھاگیں گے نہیں اُسے وہ پالے گا اور جو ٹکریں ماریں گے اُسے قربان کردے گا۔ تیاری قربانی کی ہے لیکن خریداری شریف جانوروں کی ہے جوگھر میں کھونٹے سے بندھے رہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔