نادیدہ قوتیں اور سیاسی خلاء

سلمان نثار شیخ  ہفتہ 21 جولائ 2018
پاکستان کی بیشتر سیاسی جماعتیں اپنی پیدائش کے وقت غیرسیاسی قوتوں کی مرہون منت اور ان کے مہرے سے زیادہ کچھ نہیں ہوتیں۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

پاکستان کی بیشتر سیاسی جماعتیں اپنی پیدائش کے وقت غیرسیاسی قوتوں کی مرہون منت اور ان کے مہرے سے زیادہ کچھ نہیں ہوتیں۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

جگہ خالی ہو تو زمانہ اسے پارکنگ، کچرا کنڈی، کھیل کا میدان، جائے تقریبات، خانہ بدوشوں کا مسکن، پتھارے داروں کا ٹھکانہ، خود رو نباتات کا گھر یا ایسا ہی کوئی اور رنگ دینے میں دیر نہیں کرتا۔ آپ اپنا سونا چوراہے میں رکھ کر سوجائیں تو لوگ اسے آپ کی بیداری تک وہاں نہیں رہنے دیں گے۔ بعینہٖ پاکستان کی تاریخ بتاتی ہے کہ سیاسی خلاء جتنا زیادہ ہوتا ہے، اتنا ہی سیاسی، انتخابی، حکومتی اور انتظامی امور میں غیرسیاسی یا نادیدہ قوتوں کا عمل دخل بڑھتا چلا جاتا ہے۔ کمزور جمہوریتوں میں غیرسیاسی قوتیں ہمیشہ زیادہ طاقتور ہوتی ہیں چنانچہ وہ چھوٹی موٹی علاقائی، مذہبی، لسانی یا قوم پرست جماعتوں اور آزاد امیدواروں پر اپنی زور زبردستی کی بدولت بہت آسانی سے قابو پا لیتی ہیں۔ البتہ قومی یا مرکزی جماعتوں کی بڑی اور طاقتور سیاسی مشینری پر ان کےلیے قابو پانا آسان نہیں ہوتا اور اگر وہ اپنے روایتی زور زبردستی کے ہتھکنڈوں کو بروئے کار لا کر ان جماعتوں پر قابو پانے میں کامیاب ہو بھی جائیں تو یہ کامیابی محض جزوی اور وقتی ہوتی ہے۔

اب اگر کسی ملک میں بڑی سیاسی جماعتیں ملک کے کسی چھوٹے یونٹ کو یہ سوچ کر نظرانداز کر دیں کہ مرکزی حکومت تو ہمیں بڑے یونٹس میں اپنے وفادار ووٹ بینک کے طفیل مل ہی جائے گی تو پھر ان چھوٹے، پسماندہ، دورافتادہ اور زیادہ محنت طلب علاقوں میں غیرسیاسی یا نادیدہ قوتیں خلاء پا کر نہایت مضبوطی سے اپنے پنجے گاڑ دیتی ہیں جس کے بعد مرکزی سیاسی جماعتوں کےلیے ان علاقوں کو ان کے پنجۂ استبداد سے چھڑانا مشکل ہو جاتا ہے اور نادیدہ قوتیں ان علاقوں میں اپنی مرضی کی حکومتیں قائم کروا کر انہیں بطور پریشر گروپ استعمال کرنے لگتی ہیں۔ یعنی ان کی مدد سے مرکز سے اپنی مرضی کے فیصلے کروانے اور مرکزی حکومت میں کسی نہ کسی حد تک اپنی مرضی کی اکھاڑ پچھاڑ تک کروانے میں کامیاب ہو جاتی ہیں۔

پاکستان میں ایک طویل عرصے سے بلوچستان اور فاٹا میں یہی ہوتا چلا آرہا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک کے پی کا بھی یہی حال تھا۔ وہاں غیرسیاسی قوتیں بعض مذہبی جماعتوں کی مدد سے سالہاسال سے راج کر رہی تھیں مگر پھر قومی سیاسی افق پر پی ٹی آئی کی پیدائش نے اس صوبے کو مذہبی جماعتوں سے چھین کر غیرسیاسی قوتوں کو یہاں کے ووٹ بینک سے محروم کردیا۔

پاکستان میں بہت سی سیاسی جماعتیں اپنی پیدائش کے وقت غیرسیاسی قوتوں کی مرہون منت اور ان کے مہرے سے زیادہ کچھ نہیں ہوتیں لیکن پھر جیسے جیسے یہ جماعتیں جوان ہوتی جاتی ہیں اور عوام میں ان کی مقبولیت بڑھتی جاتی ہے، ویسے ویسے یہ اپنے خالقوں سے دور ہوتی چلی جاتی ہیں۔

یہاں تک کہ ایک وقت آتا ہے کہ یہ اپنے خالقوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر انہیں للکارنا شروع کردیتی ہیں اور یہ عمل بالکل فطری ہے۔ پیدائش کے وقت ان کی طاقت کا سرچشمہ غیرسیاسی قوتیں ہوتی ہیں چنانچہ وہ ان کے سامنے اپنا سرتسلیم خم رکھتی ہیں لیکن جوان ہونے کے بعد ان کی طاقت کا سرچشمہ عوام بن جاتے ہیں چنانچہ یہ اپنے پرانے آقاؤں کو الوداع کہہ دیتی ہیں جس کے بعد اِن میں اور اُن میں ایک نہ ختم ہونے والی جنگ کا آغاز ہو جاتا ہے۔

تاہم چند سال قبل تک یہ لڑائی سرد جنگ رہا کرتی تھی لیکن فی زمانہ نواز شریف فیکٹر کے طفیل یہ لڑائی کھلی جنگ کی صورت اختیار کر چکی ہے۔

خیر! جب سے ایم کیو ایم نے ’’بغاوت‘‘ کی راہ اپنائی ہے، تب سے وہ شہری سندھ میں اپنی بقاء کی جنگ ہارتی نظر آرہی ہے۔ اپنی قوت کے کئی دہائیوں پر محیط زمانے میں وہ خود کو مرکزی جماعت تو بنا ہی نہیں سکی تھی۔ چنانچہ اب یوں لگتا ہے کہ وہ جو ایک محدود حلقۂ انتخاب سالہاسال سے اسے میسر تھا، اب شاید وہ بھی کسی نہ کسی حد تک اس سے چھن جائے۔ اگر وہ اپنے زمانۂ عروج میں اپنی علاقائی یا لسانی شناخت کو تیاگ کر قومی دھارے کی سیاست میں داخل ہونے کی کوشش کرتی تو شاید آج اس کی بقاء کو ایسے سنگین خطرات لاحق نہ ہوتے۔

نواز شریف شاید متحدہ سے کہیں بڑھ کر نادیدہ قوتوں کو آنکھیں دکھا رہے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کی جماعت کو بقاء کا کوئی چیلنج درپیش نہیں۔ وہ وقتی یا جزوی طور پر کمزور تو ہوسکتی ہے لیکن اسے قومی سیاسی افق سے بے دخل ہرگز نہیں کیا جاسکتا۔

اُدھر پی پی پی، بی بی کی شہادت کے بعد سے جیسے جیسے اپنی نااہلی کے سبب قومی سیاسی اُفق پر معدوم ہوتی چلی جارہی ہے اور محض اندرون سندھ کی ایک علاقائی جماعت بنتی جارہی ہے، ویسے ویسے غیرسیاسی قوتیں اس پر حاوی ہوتی اور اس پر عرصۂ حیات مزید تنگ کرتی چلی جا رہی ہیں۔ یوں کل تک سندھ پر حکومت کرنے والی متحدہ اور پی پی کے کمزور ہونے اور عوام میں اپنا اثر و رسوخ کھونے کے نتیجے میں یہاں بھی نادیدہ قوتوں کا کردار بتدریج بڑھتا ہوا نظر آرہا ہے۔ جی ڈی اے اور پی ایس پی جیسی جماعتوں کی تخلیق سے یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ غیرسیاسی قوتوں نے سندھ میں پی پی اور ایم کیو ایم کی کمزوری سے پیدا ہونے والے سیاسی خلاء یا بلیک ہول کو اپنے من چاہے عناصر کی مدد سے پُر کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

البتہ پنجاب اور کے پی کی صورتحال مختلف ہے۔ یہاں غیرسیاسی قوتوں کو سر دھڑ کی بازی لگانے کے باوجود بھی شاید اتنا بڑا حصہ نہ مل سکے جیسا وہ بلوچستان اور فاٹا میں لیے بیٹھی ہیں اور سندھ میں لینے کی کوششوں میں لگی ہوئی ہیں۔

بی بی کی شہادت تک ہر الیکشن میں بالعموم پنجاب کا ایک محدود حصہ ان کے اور غالب حصہ میاں صاحب کے حق میں فیصلہ دیا کرتا تھا۔ بی بی کی شہادت کے بعد پنجاب کا ایک محدود حصہ خان صاحب کے اور غالب حصہ میاں صاحب کے حق میں فیصلہ دینے لگا ہے۔

خیبر پختونخوا کا افتاد طبع سے بھرپور ووٹر ایک عرصے سے خوب سے خوب تر کی جستجو میں مصروف رہا ہے۔ ماضی میں اس نے پی پی پی، ن لیگ، ایم ایم اے اور اے این پی کو بھرپور مواقع دیئے لیکن پاکستانی حکمران اشرافیہ کی مستقل روایت کے عین مطابق، ان سب نے عوام کی خدمت اور صوبے کی بہتری کےلیے کام کرنے کو کسر شان جانا۔ چنانچہ خیبر پختونخوا کا ووٹر بھی اپنی مستقل روایت کے عین مطابق، ایک ایک کرکے ان سب کو الوداع کہتا رہا۔ یہاں تک کہ اس نے 2013ء میں خان صاحب کو موقع دے ڈالا۔ خان صاحب کی جماعت نے بھی دیگر سیاسی جماعتوں کی طرح اپنے تمام انتخابی وعدوں کو پورا کرنا تو کسرِ شان سمجھا البتہ کچھ نہ کچھ وعدے بہرحال پورے کر دکھائے اور ماضی کے صوبائی حکمرانوں کی طرح صفر کارکردگی کا ریکارڈ توڑ ڈالا۔ چنانچہ اب یوں لگتا ہے کہ کے پی کے ووٹر نے آئندہ کےلیے کسی نہ کسی حد تک پی ٹی آئی پر اعتبار کرتے رہنے کا فیصلہ کرکے یہاں سے غیرسیاسی قوتوں کو لمبا دیس نکالا دے دیا ہے۔

ارشاد نبوی ﷺ ہے ’’اونٹ کو پہلے باندھو پھر کُھلا چھوڑ دو۔‘‘ بلوچستان اور فاٹٓا میں کُلی، سندھ میں جزوی اور پنجاب اور کے پی میں نہایت محدود مگر موجود سیاسی خلاء یا بلیک ہولز جب تک موجود رہیں گے، تب تک نادیدہ قوتیں قومی سیاست میں اپنا کھیل کھیلتی رہیں گی۔

چنانچہ میاں صاحب اور ان کے جانشینوں سے التماس ہے کہ چیخنے چلانے اور 70 سال سے سیاسی و غیرسیاسی قوتوں میں جاری سرد جنگ کو کُھلی جنگ بنانے سے تو شاید وہ اپنی کھوئی ہوئی قوت کو بحال نہ کر پائیں لیکن ملک کے پسماندہ اور نظرانداز کردہ خطوں کو ’’لاہور‘‘ بنا کر وہ یقیناً نادیدہ قوتوں کو ہرا سکتے ہیں۔

ایک شخص امام جعفر صادقؒ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ میں تبلیغ کرنے جارہا ہوں، آپ مجھے کوئی نصیحت کردیجیے۔ امام نے فرمایا، ’’کوشش کرنا کہ تبلیغ کےلیے تمہیں اپنی زبان استعمال نہ کرنی پڑے!‘‘

تھوڑے کو بہت جانیے اور تار کو خط سمجھیے۔ زندگی جنت اور جہنم عمل سے بنتی ہے، تقریر سے صرف ہوا بنتی ہے جو ہمیشہ بے وفا ہوتی ہے۔ آج اِدھر سے اُدھر چل رہی ہے تو کل اُدھر سے اِدھر چل پڑے گی۔ لیجیے! اقبال یاد آگئے:

تو ابھی رہ گزر میں ہے قیدِ مقام سے گزر
مصر و حجاز سے گزر پارس و شام سے گزر

تیرا امام بے حضور تیری نماز بے سرور
ایسی نماز سے گزر ایسے امام سے

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

سلمان نثار شیخ

سلمان نثار شیخ

بلاگر قلمکار، صحافی اور محقق ہیں۔ وہ اردو اور اقبالیات کی کئی کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔