عسکری پارک کراچی کے کمرشل استعمال کو چیلنج کردیا گیا

ویب ڈیسک  جمعرات 19 جولائ 2018
پارک میں مرمت اور دیکھ بھال کے بغیر لگائے گئے جھولوں سے شہریوں کی جان کو خطرہ ہے، درخواست گزار فوٹو:فائل

پارک میں مرمت اور دیکھ بھال کے بغیر لگائے گئے جھولوں سے شہریوں کی جان کو خطرہ ہے، درخواست گزار فوٹو:فائل

 کراچی: سندھ ہائی کورٹ میں عسکری پارک کو کمرشل بنیادوں پر استعمال کرنے کیخلاف درخواست دائر کردی گئی۔

درخواست میں عسکری پارک انتظامیہ، مئیر کراچی، حکومت سندھ سمیت اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست گزار سماجی رہنما عمران شہزاد نے موقف اختیار کیا کہ کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں واقع عسکری پارک میں مرمت اور دیکھ بھال کے بغیر لگائے گئے جھولوں سے شہریوں کی جان کو خطرہ ہے، گرین بیلٹ ختم کرکے اور این او سی لیے بغیر جگہ کو کمرشل بنیادوں پر استعمال کرنا غیر قانونی ہے۔

درخواست گزار نے کہا کہ عسکری پارک کی انتظامیہ سے اونچے اور بڑے جھولوں کے متعلق تفصیلی جواب طلب کیا جائے، وسیع تر اور جدید جھولوں کے اطراف 300 گز کی خالی جگہ ہونا ضروری ہے، انتظامیہ کے پاس جھولوں سے زخمی ہونے والوں کے فوری علاج معالجے کے لئے بھی کوئی سہولیات دستیاب نہیں۔

درخواست میں استدعا کی گئی کہ عسکری پارک کو کمرشل بنیادوں پر استعمال نہ کیا جائے اور غیر قانونی لگائے جھولوں کو فوری ختم کیا جائے، سربمہر پارک کو فوری کھولنے کی اجازت نہ دی جائے،  پارک میں درخت اور گرین بیلٹ لگا کرعوام کا داخلہ مفت کردیا جائے۔

گزشتہ ہفتے جھولہ گرنے کے حادثے میں 14 سالہ بچی جاں بحق اور متعدد افراد زخمی ہوگئے تھے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔