گورنر پنجاب نے گلوکارہ میشا شفیع کی اپیل مسترد کردی

شہر بانو نقوی  جمعرات 19 جولائ 2018
علی ظفر نے لیگل نوٹس واپس نہ لیا تو سول اور فوجداری قوانین کے تحت کاروائی کروں گی، میشا شفیع

علی ظفر نے لیگل نوٹس واپس نہ لیا تو سول اور فوجداری قوانین کے تحت کاروائی کروں گی، میشا شفیع

 لاہور: گلوکارہ میشا شفیع کی جانب سے گلوکار علی ظفر کے خلاف محتسب عدالت میں دائر کی گئی درخواست گورنر پنجاب نے مسترد کردی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق گلوکارہ میشا شفیع نے گلوکار و اداکار علی ظفر کے لیگل نوٹس کا جواب دے دیا جو 4 صفحات پر مشتمل ہے جس میں کہا گیا کہ وہ کسی صورت الزام واپس نہیں لیں گی، علی ظفر پر تمام الزامات درست اور حقائق پر مبنی ہیں جب کہ میرے بیان کے بعد کئی اور خواتین نے بھی علی ظفر پر ان الزامات کو دہرایا ہے۔

میشا شفیع نے لیگل نوٹس میں دوبارہ اس بات کو دہرایا کہ علی ظفر نے کام کے دوران ایک نہیں متعدد مرتبہ  ہراساں کیا اور علی ظفر کے ٹوئٹس اور الزامات کو مسترد کرتی ہوں جس کے ذریعے میری ساکھ پر حملہ کیا گیا، علی ظفر  کے بیانات اور مہم  کی وجہ سے میرا خاندان متاثر ہوا اور یہ بیانات میری آواز کو دبانے کی کوشش ہے۔

جواب میں مزید کہا گیا کہ علی ظفر  کی سوشل میڈیا پر مہم جوئی کے باعث ٹوئٹر کے علاؤہ تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کرنے پڑے ہیں اور اس مہم جوئی سے مجھے دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا جب کہ علی ظفر نے اپنا لیگل نوٹس واپس نہ لیا تو سول اور فوجداری قوانین کے تحت کارروائی کروں گی۔

اس سے قبل گلوکارہ میشا شفیع کی جانب سے محتسب عدالت میں ایک اپیل دائر کی گئی تھی جو گورنر پنجاب نے رد کردی ہے، گلوکارہ نے علی ظفر کی جانب سے ہراساں کیے جانے کے خلاف ویمن پروٹیکشن ایکٹ 2010 کے تحت وفاقی محتسب میں اپیل دائر کی تھی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔