شوق نیلسن منڈیلا بننے کا !

علی احمد ڈھلوں  جمعـء 20 جولائ 2018
ali.dhillon@ymail.com

[email protected]

آج کل پاکستان میں کرپشن کے کیسز میں قید ایک شخص پر نیلسن منڈیلا بننے کا بھوت سوار ہے۔ اُس شخص نے شاید نیلسن منڈیلا کی تاریخ کو پڑھا بھی نہیں ہوگا۔ ورنہ وہ اُس کا نام لیتے ہوئے بھی کوسوں دور رہتے ۔نیلسن منڈیلا جنوبی افریقہ کا وہ لیڈر ہے جس نے نسلی امتیازکو نہ صرف اپنے ملک میں ختم کیا بلکہ دنیا بھر کو اس موذی مرض سے نجات دلائی۔

نیلسن کی پیدائش 1918ء میں جنوبی افریقہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ہوئی تھی ۔ وہ مدیبا قبیلے سے تھے اور جنوبی افریقہ میں انھیں اکثر ان کے قبیلے کے نام یعنی مدیبا کہہ کر بلایا جاتا تھا ، ان کے قبیلے نے ان کا نام ’’رولہلاہلا دالب ہگا‘‘ رکھا تھا لیکن ان کے اسکول کے ایک ٹیچر نے ان کا انگریزی نام نیلسن رکھا ، ان کے والد تھیبو راج خاندان میں مشیر تھے اور جب ان کی وفات ہوئی تو نیلسن منڈیلا 9 سال کے تھے ۔ ان کا بچپن تھیبو قبیلے کے سربراہ جوگنتابا دلندابو کی نگرانی میں گزرا ، انھوں نے قانون کی تعلیم حاصل کی تھی اور 1952ء میں جوہانسبرگ میں اپنے دوست اولیور ٹیبو کے ساتھ وکالت شروع کی، ان دونوں نے نسل پرستانہ پالیسیوں کے خلاف مہم چلائی اور سیاسی پارٹیوں میں دلچسپی لینا شروع کر دی تھی۔

1949ء میں سیاسی جماعت اے این سی میں عہدہ بھی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔ وہ ہر جگہ سیاہ فام لوگوں کے ساتھ امتیازی سلوک دیکھتا تو بہت افسردہ رہتا۔اور  اُن کے لیے کوشش کرتا رہتا۔1952ء میں نیلسن منڈیلا پہلی بار گرفتار ہوئے۔ مارچ1960ء میںایک دردناک واقعہ پیش آیا۔ شارپ ویل میں سیکیورٹی فورسز نے ایک مظاہرے میں شریک 69 سیاہ فاموں کو گولیوں سے بھون ڈالا جب کہ 400سے زائد زخمی ہوئے۔اس قتل عام نے تحریک کو پوری دنیا میں پھیلادیا، دنیا بھر کے اخبارات نے اس درندگی کی تصاویر صفحہ اول پر شایع کیں۔ جنوبی افریقہ کے اندر بھی بدترین بحران پیدا ہوگیا۔ اس واقعہ نے تحریک آزادی کو ایک ہی دن میں برسوں کی پیش رفت عطاکی۔ سیاہ فاموں نے اپنے شناختی پاس اجتماعی اندازمیں جلاناشروع کردیے۔

تحریک ایک نئے مرحلے میں داخل ہوئی تو منڈیلا کو ایک بارپھر گرفتارکرلیاگیا۔انھیں ایک ایسی کوٹھڑی میں بندکردیاگیا جس کے فرش میں اجابت کے لیے بس ایک سوراخ تھا ۔ پھر انھیںایسے کمبل دیے گئے جو خشک خون اور قے سے بھرے ہوئے تھے اور جن پر جوئیں، کیڑے اور لال بیگ رینگ رہے تھے، ان سے گندے نالے کی طرح بدبو کے بھبھوکے اٹھ رہے تھے۔

منڈیلا اور ان کے ساتھیوں پر طویل مقدمہ چلا تاہم فیصلہ دیتے ہوئے جج نے لکھا ’’استغاثہ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہاہے کہ اے این سی ایک کمیونسٹ تنظیم ہے۔ ‘‘یہ کہہ کر جج نے تمام قیدیوں کو بری کرنے کا حکم دیدیا۔ رہائی کے بعد نیلسن منڈیلا اپنے گھر نہیں گئے بلکہ وہ ایک ایسی مخلوق کا حصہ بن گئے جو اندھیرا چھاجانے کے بعد نمودار ہوتی تھی۔ان کی سرگرمیوں کا مرکز جوہانسبرگ ہی رہا تاہم جب خطرہ زیادہ محسوس کرتے تو کسی دوسرے علاقے کی طرف جانکلتے۔حکومت کسی بھی قیمت پر نیلسن منڈیلا کو گرفتار کرناچاہتی تھی لیکن وہ بھیس بدل بدل کراپنی سرگرمیاں سرانجام دے رہے تھے۔ انھیں گرفتارکرنے کے لیے جگہ جگہ چیک پوسٹیں قائم کی جاتیں، ان کے لیے کوڈورڈ’’ کالاجنگلی‘‘ استعمال ہوتا۔تاہم حکومت ایک عرصہ تک اپنے مقاصد میں کامیاب نہ ہوسکی۔

اس دوران منڈیلا نے زیرزمین رہنے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پورے ملک کا خفیہ دورہ کیا۔ کیپ ٹاؤن کے مسلمانوں، نٹال کے شوگرورکرز اور پورٹ الزبتھ کے فیکٹری ورکرز سے ملاقاتیں کیں۔متعدد بار منڈیلا پولیس والوں کے عین درمیان میں ہوتے تھے لیکن اہلکار ’’کالے جنگلی‘‘ کی موجودگی سے بے خبر رہتے۔ایک بار ایک پولیس اہلکارنے پہچان لیا، منڈیلا کویقین ہوگیا کہ گرفتاری کا لمحہ آن پہنچا لیکن اہلکار نے انھیں آنکھ کے اشارے سے نکل جانے کا اشارہ کردیا۔اس طرح کے بہت سے واقعات رونما ہوئے، پولیس اہلکاروں کو اپنا  طرفدار پاکر منڈیلا کا عزم وہمت کئی گنا زیادہ بڑھ گیا۔  پھر منڈیلا نے اپنی حکومت کے خلاف گوریلا اور مسلح تحریک بھی شروع کی۔ جسکی وجہ سے حکومت نے اے این سی کو غیرقانونی قرار دے کر پابندی عائد کردی۔اس دوران منڈیلا نے ایتھوپیا سے الجزائر تک دنیا کے مختلف ممالک کا دورہ کیا۔ واپسی پر5اگست1962ء کو بچوں سے ملنے کے لیے جاتے ہوئے دھر لیے گئے۔

اسی دوران ان پر مزید مقدمات بھی قائم کیے گئے۔کہاجاتاہے کہ ان کی مخبری ایک امریکی سفارت کار نے کی تھی۔قریباً دوبرس تک مقدمہ چلا جس کے بعد انھیں عمرقیدکی سزا سناکرجزیرہ روبن میں قیدکردیاگیا۔یہاں انھیں 1982ء تک رکھاگیا۔اس جیل میں چند فٹ کا ایک کمرہ تھا، جہاں صرف ایک مضبوط کھڑکی تھی، ایک گندہ واش روم اورایک وقت کا کھانا دیا جاتا تھا۔ اس دوران اے این سی کی گوریلاکارروائیاں جاری رہیںجس نے جنوبی افریقن حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا۔ چنانچہ گیارہ فروری 1990ء کو انھیں رہاکردیاگیا۔ اگلے برس منڈیلا اے این سی کے صدرمنتخب ہوئے،1993ء میں انھیںنوبل امن انعام دیاگیا۔1994ء میں ملک میں پہلی بار سیاہ فاموں کو برابری کا درجہ دے کر انتخابات منعقد کرائے گئے جن میں منڈیلا کو قوم نے بھاری اکثریت سے ملک کا صدر منتخب کرلیا۔

منڈیلا 76برس کی عمر میں ملک کے پہلے سیاہ فام صدر بنے۔صدر بنتے ہی انھوں نے مخالفین کو مروانے کے بجائے سب کو معاف کر دیا۔ وہ اکیاسی برس کی عمر تک یہ بھاری بھرکم ذمے داریاں ادا کرتے رہے، انھوں نے وطن کی ازسرنوتعمیر اور ترقی میں اہم ترین کردار ادا کیا۔ انھوں نے پوری دنیا کے باسیوں کو یہ سبق دیا کہ جب سماج میں بڑی تبدیلی پیدا کرکے انصاف کا نظام قائم کرنے اور اپنے ملک کو دنیا کی بہترین جگہ بنانے کا جذبہ ہوتو عمرکو خاطر میں نہیں لایاجاتا۔

بی بی سی نے 1999ء میں نیلسن مینڈیلا کا انٹرویو کیا،اینکرنے انٹرویو کے دوران نیلسن مینڈیلا سے پوچھا ، آپ کے خیال میں سیاستدان اور لیڈر میں کیا فرق ہوتا ہے؟نیلسن مینڈیلا نے مسکراتے ہوئے جوا ب دیا، سیاستدان اگلے الیکشن کا سوچتا ہے اور لیڈر اگلی ’’نسل ‘‘ کا۔ اینکر نے اگلا سوال پوچھا۔آپ کے خیال میں غربت کو ختم کرنے کا آسان ترین فارمولا کیا ہے؟ نیلسن مینڈیلا کے چہرے پر پھیلی مسکراہٹ گہری ہو گئی، نیلسن مینڈیلا تھوڑی دیر خاموش رہے اور پھر بولے، غربت کو ختم کرنے کا سب سے آسان اور موثر طریقہ ایک ہی ہے اور وہ ہے سستا اور فوری انصاف۔

اب آتے ہیں پاکستانی منڈیلا کی طرف جسے آج کل اڈیالہ جیل میں رکھا گیا ہے۔ وہاں کے باتھ روم، کچن ، چارپائی اور مچھر کھانے کو دوڑ رہے ہیں، حالانکہ موصوف اسی ملک کے تین دفعہ وزیر اعظم بنے اور جیلوں کا معیار بھی انھی کی مرہون منت ہے۔ عام خیال یہی تھا کہ شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ کے عادی نواز شریف جیل کی صعوبتیں برداشت نہیں کر سکتے اور یہی کچھ ہو رہا ہے ۔ یہ جیل 1986 میں راولپنڈی کے اڈیالہ روڈ پر، ڈسٹرکٹ کورٹس سے 13 کلومیٹر دورایک نئی جیل تعمیر کی گئی جسے سینٹرل جیل راولپنڈی کا نام دیا گیا۔ یہ اڈیالہ جیل سے ہی مشہور ہے۔سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو مشرف آمریت میں احتساب عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزاکے تحت گیارہ فروری 2001 میں گرفتار کیا گیا اور پانچ برس بعد وہ سات اکتوبر 2006 میں اڈیالہ جیل سے رہا ہوئے۔ زرداری بھی اسی جیل میں ایک عرصہ تک قید رہے۔

لیکن پاکستانی ’’منڈیلے‘‘جنھیں قید ہونے کے شوق نے جیل کی صعوبتوں سے کوسوں دور رکھا ہوا ہے۔ وہ نیلسن منڈیلا کبھی نہیں بھول سکتے۔ وہ نظریاتی لیڈر تھا، یہ نازک لوگ ہیں یہ جیلیں نہیں کاٹ سکتے ۔ دوست احباب کہیں سے بغاوت کی باتیں بھی سنا رہے ہیں مگر جو ہوا وہ ملک کے لیے کم از کم بہتر نہیں ہوگا۔ خیر کہاں 8فٹ کی منڈیلا کی کال کوٹھڑی اور کہاں جیل میں بہترین سہولتوں کے ساتھ رہنے والا شخص ۔ چلیں آپ منڈیلا کو چھوڑیں اپنے ہی لیڈر بھٹو کے بارے میں تاریخ کھنگال لیں جسے ڈسٹرکٹ جیل راولپنڈی میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں مگر مجال ہے کہ انھوں نے ایک بھی رعایت مانگی ہو۔ لہٰذاجیل کو سیاست کے طور پر استعمال نہ کریں، ملک میں اسی صورت انصاف کا بول بالا ہو سکتا ہے جب اداروں کا احترام کیا جائے اور احترام یہی ہے کہ انھی حالات میں اپنی سزا پوری کریں تاکہ ہمارے ملک میں بھی عدلیہ کی سربلندی ہو سکے اور ایک اعلیٰ مثال قائم ہوجائے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔