کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں، نواز شریف کے اوپن ٹرائل کے حق میں ہوں، علی ظفر

ذوالفقار بیگ  جمعـء 20 جولائ 2018
نوازشریف کی گرفتاری کامعاملہ یورپی یونین نے اٹھایا تھا،گفتگو۔ فوٹو: سوشل میڈیا

نوازشریف کی گرفتاری کامعاملہ یورپی یونین نے اٹھایا تھا،گفتگو۔ فوٹو: سوشل میڈیا

اسلام آباد: نگراں وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات و ادبی ورثہ بیرسٹر سید علی ظفر نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم کے اوپن ٹرائل کے حق میں ہوں، 25 جولائی کے انتخابات کے موقع پر سیکیورٹی خدشات لاحق ہیں تاہم پوری قوم مل کر اس سے عہدہ برا ہوگی۔

اسلام آباد میں ایکسپریس میڈیا گروپ کے دفتر کا خصوصی دورہ کیا۔ ایکسپریس نیوز کے بیورو چیف عامر الیاس رانا نے وفاقی وزیر کا استقبال کیا۔ انھوں نے مختلف شعبہ جات کا دورہ کیا اور کام کا جائزہ لیا جبکہ اسٹاف سے فرداً فرداً ملاقات کی۔ بیرسٹر علی ظفرنے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عام انتخابات 2018 طے شدہ وقت پر ہوںگے، اس حوالے سے الیکشن کمیشن اور وزارت داخلہ کیساتھ ملکر تمام تر اقدامات کو یقینی بنایا جارہا ہے۔

سابق وزیر اعظم نوازشریف کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ نوازشریف کی پاکستان آمد کے موقع پر امن و امان کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا جارہا تھا تاہم ہم نے یہ تمام مرحلہ خوش اسلوبی سے مکمل کرلیا، نگران حکومت اپنے امور کی انجام دہی آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر رہی ہے، نگران کابینہ نے فیصلہ کیا تھا کہ تمام سیاسی معاملات اور مسائل کو بہتر انداز میں حل کرایا جائیگا اور نگران حکومت اپنے مقررہ وقت تک آئین و قانون کے مطابق کام کرے گی اور خلاف آئین کوئی بھی کام نہیں کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا پہلا مقصد بروقت اور شفاف انتخابات کا انعقاد اور تمام سیاسی پارٹیوں کے خدشات کو دور کرنے کیلیے کوشش کرنا ہے، ہم میڈیا کی مکمل آزادی پر یقین رکھتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کو پہلی بار آزاد کردیا گیا ہے، اب پیمرا پر کسی قسم کی کوئی حکومتی پابندی باقی نہیں رہی ہے، اب وہ اپنے تمام فیصلے خود کرتا ہے، یہ اعتراض کیا جاتا تھا کہ ماضی میں پیمرا کو حکومت کنٹرول کرتی رہی ہے، ہم نے آتے ساتھ ہی ایسا آرڈیننس بنایا جس میں پیمرا مکمل طور پر آزاد ہوچکا ہے۔

انھوں نے کہا کہ یورپین یونین نے الیکشن کے بہتر انعقاد کے حوالے سے جو 55 تجاویز دی تھیں، ان تمام کو الیکشن کمیشن کے ایکٹ کے تحت منظور کرلیا گیا ہے، ملکی و غیر ملکی میڈیا سے متعلقہ افراد کو تمام ضروری سہولیات مہیا کی جائیںگی، اظہار رائے کی آزادی پر یقین رکھتے ہیں اور چاہتے ہیں یہ مزید مضبوط ہو۔

علی ظفر نے واضح کیا کہ نگران حکومت کے طور پر ان کا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں اور نہ ہی ان کا ذاتی طور پر سیاست سے کوئی تعلق ہے، ہم غیرجانبدار رہ کر الیکشن کا انعقاد کرائیںگے اور الیکشن کمیشن کے قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کیلیے تمام صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے۔

ایک اور سوال کے جواب میں نگران وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان ٹیلی وژن اور ریڈیو پاکستان میں بین الاقوامی معیار کے الیکشن سیل بنائے جائیںگے ، الیکشن کمیشن کیساتھ ملکر بروقت اور درست نتائج سب سے پہلے ان اداروںکی طرف سے جاری کئے جائیںگے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی وی پر کام کرنے والے تمام نیوز اینکرز، پروڈیوسرز اور شعبہ خبر سے وابسطہ افراد کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیرجانبداری سے تمام سیاسی پارٹیوں کو برابری کی بنیاد پر کوریج یقینی بنائیں اور تمام سیاسی پارٹیوں کے سربراہوں کو خصوصی کوریج دی جائے۔

علی ظفر کا کہنا تھا کہ اس بار انتخابی نتائج کے حوالے سے پی ٹی وی سب سے قابل اعتماد ذریعہ ہوگا اور صحافیوں کو الیکشن کوریج کی سہولت دینے کیلیے پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ میں الیکشن سیل بنا دیا گیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ سابق وزیر اعظم محمد نوازشریف کی گرفتاری کے حوالے سے یورپی یونین نے معاملہ اٹھایا تھا، ہم سمجھتے ہیں کہ جیل کے اندر ٹرائل آرٹیکل A 10- کی خلاف ورزی ہے اور نوازشریف کا اوپن ٹرائل ہونا چاہیے۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔