آزادیِ فکر کی خاطر سول سروس میں جانے کا موقع ٹھکرایا، سابق وزیر اطلاعات جاوید جبار

رضوان طاہر مبین  جمعـء 20 جولائ 2018
فائرنگ اسکواڈ کے سامنے کھڑا ہونا نہیں بھول سکتا، سابق وزیر اطلاعات جاوید جبار کے حالات زیست۔ فوٹو: ایکسپریس

فائرنگ اسکواڈ کے سامنے کھڑا ہونا نہیں بھول سکتا، سابق وزیر اطلاعات جاوید جبار کے حالات زیست۔ فوٹو: ایکسپریس

’’ہمیں قتل کرنے کے لیے ایک قطار میں کھڑا کر دیا گیا۔۔۔ مسلح سپاہی نشانہ باندھ چکے تھے۔۔۔ اور اب کرنل کے حکم پہ کان لگائے ہوئے تھے، جو ’ایک‘ کہہ چکا تھا اور ’دو‘ کہنے کو تھا، ’تین‘ کہتا تو گولیاں چل جاتیں، یکایک ایک سینئر افسر آدھمکا، مرد، خواتین اور بچوں کو سنگینوں کے رحم وکرم پہ دیکھ کر چیخ پڑا کہ یہ کیا کر رہے ہو۔۔۔! یوں جاں بخشی ہوئی!‘‘

کسی سنسنی خیز ناول یا فلم جیسا یہ منظر 70 برس پہلے ریاست ’حیدرآباد‘ میں پیش آیا اور موت کو اتنے قریب دیکھنے والی شخصیت جاوید جبار کی تھی، اُن کی عمر تین برس تھی اور وہ اپنی والدہ کی گود میں تھے، قطار میں اُن کے اہل خانہ اور ملازمین تھے۔ کہتے ہیں کہ بچے کی یادداشت پانچ، چھے برس میں پختہ ہوتی ہے، لیکن تین برس کی عمر کا یہ واقعہ ان کے ذہن پر نقش ہے!

اُس روز طے شدہ وقت پر ہم نے اُن کے در پہ دستک دی۔۔۔ جب کواڑ کے پیچھے انہیں بہ نفس نفیس خوش آمدید کہتے پایا، تو حیراں ہوئے بغیر نہ رہے۔۔۔ ہماری بیٹھک اُن کی مطالعہ گاہ بنی، جہاں دروازے تا دریچے اور فرش تا چھت دیوار میں کتابیں ہی کتابیں تھیں۔۔۔ درمیان میں ایک میز پر بھی درجنوں ضخیم کتب دھری تھیں، یہیں ہمارا مکالمہ ہوا، جس میں ’عظمت حیدرآباد‘ کا ذکر آتا۔۔۔ گفتگو  ماضی حال اور مستقبل میں سفر کرتی، بائیں روحزن کی چلمن سے چھنتی ہوئی دھوپ بھی ماحول سجائے رہی۔۔۔ اس دوران انہیں باہر دروازہ کھولنے جانا پڑا کہ آج ان کے خادمین غیر حاضر۔ عقب میں آویزاں گھڑیال کی خفیف ٹِک ٹِک بار بار ’’سوال نامہ تشنہ نہ رہ جائے!‘‘ کا دھیان محو نہ ہونے دیتی۔۔۔ محدود وقت میں بہ یک وقت اِبلاغ، اشتہار، سماج اور سیاست پر گفتگو ایک امتحان تھا، جس میں سرخرو ہونے کی اپنی سی کوشش کی۔۔۔

وہ 13 جولائی 1945ء کو مدراس (جنوبی ہندوستان) میں پیدا ہوئے۔ نو سال کی عمر میں والدہ کے حکم پر موسم پر ایک انگریزی نظم لکھی، جو ’پُونا‘ کے جریدے ’سن شائن‘ میں شایع ہوئی۔ جس سے بہت ہمت بڑھی۔ ہندوستان کے مقبول جریدے ’ایلسٹریڈ ویکلی آف انڈیا‘ (The Illustrated Weekly of India) میں بچوں کے مقابلۂ مضمون نویسی میں کتاب بطور انعام پائی، تو لکھنے پر ایک مہر ثبت ہوگئی، اور لکھنے کا سلسلہ رواں ہوا، 15 تصانیف اُن کے نام ہیں، مزید دو کتب  آنے کو ہیں، ایک کا عنوان ’پاکستانیت کیا ہے؟‘ جب کہ دوسری میں بے نظیر کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ ہے۔

جاوید جبار کہتے ہیں کہ 13 ستمبر 1948ء کو حیدرآباد میں ہندوستانی فوج نے کئی جگہوں سے دھاوا بولا، بیڑ (اورنگ آباد) سرحد پر تھا، یہاں اُن کے والد ضلعے کے تعلق دار ( ڈپٹی کمشنر) تھے، اطاعت سے انکار پر ہمارے قتل کا حکم صادر کیا گیا، بعد میں ہمیں گرفتار کر لیا، رہائی کے بعد ہجرت کے سوا کوئی چارہ نہ تھا، والد کو یہاں اعلیٰ افسر کی ذمہ داریاں ملیں، پھر انہوں نے ہمیں بھی بلالیا۔ ’نپیئر بیرکس‘ کراچی میں رہے۔ 1958ء میں جاوید جبار ’کینٹ اسٹیشن‘ کے قریب واقع ’کنٹونمنٹ پبلک اسکول‘ کے طالب علم ہوئے، جہاں کی ’المنائی‘ کے وہ بانی چیئرمین بھی ہیں۔

کم سنی میں زندگی نے ایک اور موڑ کاٹا، اُن کے والدین میں طلاق ہو گئی! یہ نہایت کٹھن وقت تھا، وہ والدہ کے ساتھ ’حیدرآباد‘ لوٹ گئے۔ وہاں والدہ اور یہاں والد کی دوسری شادی ہو گئی۔ جاوید جبار سے بڑی ایک بہن ہیں، جب کہ سرحد کے دونوں طرف دیگر سوتیلے بھائی بہن بھی ہیں، جو سگوں کی طرح ملتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ والدین بہت اچھے تھے، لیکن بعض اوقات بہتری تلخ فیصلے میں ہوتی ہے، انسان کو پہچان لینا چاہیے کہ مجبوریوں کے سبب ساتھ چلنا ممکن نہیں۔ اُن کی والدہ کا تعلق مدراس سے تھا، مگر وہ حیدرآباد کی ایک روحانی شخصیت حضرت عبدالقدیر جیلانی کی مرید تھیں، جو جامعہ عثمانیہ میں پروفیسر تھے۔ تین چار برس بعد والد نے انہیں کراچی بلوایا، والدہ روکنا چاہتی تھیں۔ اُن کی خواہش بھی یہی تھی، لیکن پاکستان کے تصور میں اُن کے لیے اتنی کشش تھی کہ وہ یہاں آنا چاہتے تھے، کہتے ہیں کہ ’’میری عمر 11 سال تھی، یہ لمحہ میں کبھی نہیں بھول سکتا، جب والدہ کے پوچھنے پر اُن کے پیر صاحب نے مجھے بھیجنے کی صلاح دے ڈالی تو والدہ نے کس رنجیدگی کے ساتھ یہ مشورہ قبول کیا۔۔۔!‘‘

جاوید جبار کے والد نے انہیں شعبۂ کامرس میں داخل کرایا۔ انہیں بالکل دل چسپی نہ تھی، وہ سینٹ پیٹرکس کالج کے پرنسپل ’فادر ڈارسی‘ کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے والد سے بات کر کے ان کے ’آرٹس‘ پڑھنے کا راستہ نکالا۔ جامعہ کراچی میں 1964ء میں پہلی تشہیری مہم لکھی، جو ’امریکن لائف انشورنس‘ کے لیے تھی، جس کی شہ سرخی ’سائن اے ٹریٹی ود ٹومورو، ٹک آؤٹ لائف انشورنس ٹو ڈے ‘ (Sign a Treaty with tomorrow, Took out Life insurance today) یعنی آج بیمۂ زندگی پر دستخط کرکے (آنے والے) کل سے معاہدہ کریں۔ کہتے ہیں کہ اس کام کے 200 روپے ملے، جو آج کے 12 ہزار روپے کے برابر تھے۔ صحافت میں تو ایک کالم لکھنے کے دس، پندرہ روپے ملتے، اس لیے سوچا کہ لکھنے کا شوق یہاں لگایا جائے۔

جاوید جبار اپنے والد کو خوش کرنے کے لیے ’سول سروس‘ کے امتحان میں بھی بیٹھے، صوبے میں اول آئے تو سب نے کہا ’سی ایس پی‘ بن جاؤ، مگر وہ انکاری تھے کہ وہاں انہیں لکھنے، سوچنے اور بولنے کی آزادی نہیں رہے گی۔ نتائج سے قبل ہی وہ اپنی کمپنی ’ایم این جے‘ بنا چکے تھے کہتے ہیں کہ صرف شریک حیات نے اس فیصلے کی حمایت کی، جس سے ہمت ملی۔

ہمارا اگلا سوال شریک حیات کے انتخاب پر تھا۔ اس کا قصہ انہوں نے کچھ یوں کہا کہ وہ تقریری مقابلے جیتنے کے سبب معروف تھے۔ ایک مرتبہ سینٹ جوزف کالج کی پرنسپل نے ایک پروگرام میں مدد کے لیے انہیں بلایا، جہاں انہوں نے پہلی بار شبنم کو دیکھا، پھر کچھ عرصبے بعد دونوں خاندانوں نے یہ رشتہ طے کیا۔

جاوید جبار بتاتے ہیں کہ جب کراچی میں ٹی وی اسٹیشن قائم ہوا تو سینما کے اشتہار بنانے والے تو تھے، لیکن ٹی وی کی 30 سیکنڈ تک محدود اشتہار سازی کا تجربہ کم لوگوں کو تھا، انہوں نے ’ایم این جے‘ سے اس کمی کو پورا کیا۔

اچھے اشتہارات منفرد اور اچھوتے خیالات پر استوار ہوتے ہیں، ہم نے جاوید جبار سے ایسے تصورات کا ماخذ پوچھا، تو انہوں نے کہا ’’مطالعے، سفر اور ملاقاتوں سے جو تجربات ہوتے ہیں، اس کے سہارے ہمارے ذہن میں ایک نئی چیز آتی ہے، ہم اس خوب صورت تخلیقی عمل کو بیان نہیں کر سکتے، یہ ایک جادو ہے۔‘‘

جاوید جبار مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم کی کابینہ میں شمولیت کو اعزاز بتاتے ہیں کہ بے نظیر وزیراعظم بننے والی تھیں، اُن کے پاس ’سینیٹ‘ میں نمائندگی نہ تھی، انہوں نے اصرار کر کے مجھے وزیر بنایا۔ جس میں ہم نے پہلی بار ’پی ٹی وی‘ کو حزب اختلاف کی خبریں چلانے کی اجازت اور خبریں نشر کرنے کا فیصلہ کرنے کی آزادی دی۔ اندازہ لگائیں کہ جب خبرنامے میں پہلی خبر یہ چلی کہ آج پنجاب کے وزیراعلیٰ نوازشریف نے کہا ہے کہ ملک کی وزیراعظم بے نظیر بھٹو ساری قوم کو لادینیت کی طرف لے جا رہی ہیں۔ گویا ریاستی ٹی وی سے وزیراعظم پر الزام! اس خبر پر نصرت بھٹو بہت برسیں کہ آزادی کا مطلب یہ ہے کہ ایسی خبریں چلائی جائیں۔ واقعی یہ غیر ذمے داری تھی۔ لفظ بہ لفظ دینے کے بہ جائے ہم یہ کہہ سکتے تھے کہ ایک سنگین الزام لگایا گیا، جس کا جواب یہ ہے، اسے پہلی خبر کے طور پر چلانا ٹھیک نہ تھا۔

اخبارات کے صفحۂ اول پر اشتہارات کی زیادتی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاوید جبار نے کہا کہ ’’کسی موضوع پر بہتر طور پر گہرائی کے ساتھ تبصرہ کرنا ’مطبوعہ ذریعہ اِبلاغ‘ میں ہی ممکن ہو سکتا ہے، برقی ذرایع اِبلاغ میں ہم اس طور پر نہیں کرپاتے۔ اخباری مالکان اور مدیران کو چاہیے کہ جس حد تک ہو سکے، پڑھنے، لکھنے اور سوچنے کے رجحان کو پروان چڑھائیں۔‘‘ وہ ’مطبوعہ ذرایع اِبلاغ کو ’اصلی اور بہترین ذریعہ اِبلاغ ‘ کہتے ہیں کہ ’’میری نظر میں سب سے خوب صورت میڈیم پرنٹ ہے، کیوں کہ اس میں خاموشی ہوتی ہے۔ ریڈیو میں آپ نے آواز سننی ہے اور ٹی وی میں چہرہ بھی دیکھنا ہے، پرنٹ میں صرف مصنف اور آپ کا ذہن ہوتا ہے۔‘‘ برقی آلات پہ جلتے الفاظ کو بھی وہ اِسی میں شمار کرتے ہیں۔ وہ مطبوعہ کتاب سے اپنی پسندیدگی ظاہر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اچھی خبر یہ ہے کہ امریکا جیسے ملک میں گزشتہ دو سال میں برقی کتب کی نسبت کاغذی کتابوں کی فروخت بڑھی ہے۔

ہم نے سابق وزیر اطلاعات سے ’خفیہ فنڈ‘ کا سوال کیا تو انہوں نے نہایت اعتماد سے کہا ’خفیہ فنڈ‘ تھے، مگر میں نے کبھی اُسے منفی مقصد یا رشوت کے طور پر استعمال نہیں کیا کہ آپ یہ لکھیں تو ہم پیسے دیں گے۔ یہ زیادہ تر شدید مالی ضروریات کے حامل صحافیوں، علاج معالجے اور کچھ اداروں کی بقا کے لیے ’زرِتلافی‘ کے طور پر دیے، یہ ادارے غیر جانب دار تھے، نام نہیں لینا چاہتا۔

جاوید جبار کی آنے والی کتاب ’پاکستانیت‘ پر بھی ہے، ہم نے پوچھا کہ ’ہندوستانی مواد‘ پہ پابندی کی بات کی جاتی ہے، لیکن باہم مدغم ثقافت میں ہم حد کیسے کھینچ سکتے ہیں؟ تو انہوں نے ’ہندوستانی‘ کہہ کر کسی اچھی چیز کو رد کرنے کو غلط سوچ کہا کہ دنیا کے کسی بھی حصے سے کوئی بھی معیاری چیز آئے، ہمیں اسے قبول کرنا چاہیے۔ ہمیں اپنے آپ اور اپنے کام پر اعتماد رکھنا چاہیے، ہمارا ایمان اور شناخت اتنا کم زور تو نہیں کہ ایک فلم دیکھنے سے متاثر ہو جائے۔

رجحان ساز اشتہار سازی کرنے والے جاوید جبار نے دو فیچر فلمیں بھی بنائیں، اب تیسری کا قصد رکھتے ہیں۔ 1985ء میں وہ پہلی بار ’تھر‘ گئے، وہاں کے لوگوں کے لیے انہوں نے فلاحی تنظیم ’بانھ بیلی ‘ قائم کی۔ اقوام متحدہ کی پچاسویں سال گرہ پر دنیا بھر سے  50فلاحی تنظیموں کو خصوصی ایوارڈ ملا، جس میں پاکستان کی واحد تنظیم ’بانھ بیلی‘ تھی۔’بانھ بیلی‘ کے علاوہ جاوید جبار کی چھے دیگر مختلف تنظیمیں بھی ہیں۔

میگزین کی ادارت سے تھیٹر میں اداکاری تک!

جاوید جبار نے اپنے اسکول کے لیے ایک میگزین کلیرئن (Clarion) کا بھی اجرا کیا۔ اس زمانے میں وہ سائیکلو اسٹائل (Cyclostyle) کے ذریعے کاپیاں بناتے، کالج میں بھی میگزین کے لیے کام کرنے کا موقع ملا۔ جامعہ کراچی میں خواجہ قطب الدین اور طارق عزیز اُن کے سینئر تھے۔ 1964ء میں انہوں نے نوجوانوں اور طالب علموں کے لیے ایک جریدہ ’پاکستان اسٹوڈنٹ آبزرور‘ نکالا، جو ’سن ڈے پوسٹ‘ شایع کرنے والے ’امین آرٹ پریس‘ سے چھپواتے، اس میں جامعہ کراچی کی حکمت عملی کا تجزیہ اور طلبہ تحریک اور ان کے مسائل پر لکھا جاتا۔ بعض امور پر بہت تلخ انداز میں آواز اٹھائی، اداریے لکھے۔ ایک سرخی لگائی ’یونیورسٹی ویک اپ!‘ طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے ایک سرخی جمائی ’ڈاؤن ود بوگس لیڈرز!‘ جاوید جبار نے جب کھلے انداز میں لکھنے کا ذکر چھیڑا، تو ہمیں پابندیاں یاد آئیں، جس پر بولے کہ ’ہمیں تنبیہہ ضرور ہوئی، لیکن کبھی روکنے کی کوشش نہیں کی گئی، ہم نے کبھی غلط چیز شایع نہیں کی۔ یہاں محدود وسائل میں آزادی کی حدود، طباعت واشاعت، اشتہارات کا حصول وغیرہ سیکھا۔ جامعہ کراچی میں جاوید جبار نے ایک ’اسٹوڈنٹ تھیٹر گلڈ‘ بھی بنایا، جس کے تحت انہوں نے بھی کچھ اداکاری کے جوہر دکھائے۔ شیکسپئر کا جیولیس سیزر (Julius Caesar) میں ایک کردار ادا کیا۔ ایک امریکی مزاحیہ کھیل ’یو کانٹ ٹیک اِٹ ود یو‘ میں مرکزی کردار ادا کرنے کا موقع ملا۔ ’دا مین ہُو کیم ڈنر‘ میں ایک روپ میں انہیں ڈھائی گھنٹے ایک ’پہیا کرسی‘ پر گھومنا پڑا، اتفاق سے لگ بھگ 30 برس بعد اُن کے بیٹے بیرسٹر کمال قدیر جبار نے بھی اپنے اسکول میں وہی کردار ادا کیا، وہ اب دبئی میں ہیں۔

ہم نے اشتہارات کو حاوی کرلیا ہے

جاوید جبار آج کے دور میں اشتہارات کے کردار پر سخت فکر مند ہیں، اُن کا خیال ہے کہ پہلے متن (ادارتی مواد) اور اشتہار میں جگہ اور وقت کا ایک تناسب ہوتا تھا، اب اشتہارات جس طرح ذرایع اِبلاغ کے متن پر مسلط ہیں وہ ایک بدترین مثال ہے۔ حتیٰ کہ کراچی میں پولیس کے ہر نشان کے ساتھ ٹوتھ پیسٹ کا اشتہار دکھائی دیتا ہے، جو کہ ٹھیک نہیں، کیوں کہ پولیس ایک ریاستی ادارہ ہے۔ کئی جگہوں پر رینجرز نے بھی ایک رنگ ساز کمپنی کی خدمات حاصل کی ہیں۔ اسی طرح اردو اخبارات کے صفحۂ اول پر قرآنی آیات کے نیچے اشتہار ہوتا ہے۔ دنیا میں کہیں اشتہار اس طرح عقیدے کے ساتھ نتھی نہیں کیا جاتا۔ یہاں تک کے ملتان میں شاہ رکن عالم کے مزار کے اوپر ایک کولا ڈرنک کا اشتہار لٹک رہا ہے۔ مغرب میں یہ تصور نہیں کیا جا سکتا کہ چرچل کی قبر پر کسی ٹوتھ پیسٹ یا کولا کا اشتہار آویزاں ہو، ہم مسلمانوں نے اشتہارات کو خود پر حاوی کر لیا ہے۔

’خبری ذرایع اِبلاغ‘ عوامی ملکیت میں ہونے چاہئیں!

ہم نے جاوید جبار سے المیہ اور غمگین خبروں کی نشر و اشاعت کے ساتھ غیر سنجیدہ اور تفریحی اشتہارات کا ماجرا کہا، تو وہ بولے کہ خبر اتنی حساس چیز ہے، اس کا اختیار نجی شعبے کے بہ جائے صرف عوام کی ملکیت میں ہونا چاہیے۔ وہ تجویز دیتے ہیں کہ اسٹاک مارکیٹ کے ذریعے خبری ذرایع اِبلاغ کے حصص عوام میں فروخت کیے جانے چاہئیں اور کسی فرد یا کمپنی کو دو فی صد سے زیادہ حصص نہیں ملنے چاہئیں، تاکہ کسی کا نجی مفاد اس کی پالیسی پر حاوی نہ ہو اور اشتہار حاصل کرنے کی ہوس ختم ہو جائے۔ اس میں دو، دو فی صد حصہ بار ایسوسی ایشنز، ہیومن رائٹس کمیشن، اساتذہ کی تنظیموں اور دیگر سول سوسائٹی میں ہونے چاہئیں۔ پھر انہیں حق دیں کہ وہ ’بورڈ آف ڈائریکٹرز‘ منتخب کریں، تاکہ ذرایع اِبلاغ مالک کے مالیاتی فائدے کے بہ جائے عوام کے مفاد کو مدنظر رکھے۔ یہ ایک ماڈل ہے، نئی بات کہی جائے، تو لوگ باتیں کرتے ہیں، جب میں پیمرا کا قانون لکھ رہا تھا، تو کابینہ کے ایک دو وزرا نے کہا تھا ’جاوید صاحب یہ کیا کر رہے ہیں، یہاں دو یا تین چینل سے زیادہ کیسے ممکن ہیں؟‘ جب کہ آج 80 سے زیادہ چینلوں کو لائسنس مل چکا ہے۔

ہماری گفتگو میں ’پیمرا‘ کا ذکر ہوا تو ہم نے پوچھا کہ آپ اخبارات کو خبری چینل کا حق دینے کے خلاف کیوں تھے؟ کہتے ہیں کہ مکمل طور پر مخالف نہیں بلکہ میں توازن چاہتا تھا کہ ایسے گروپ کو اجازت نہ دیں، جہاں غیر ضروری طور پر ایک ہی جگہ سے اخبار، ریڈیو اور ٹی وی چلائے جا رہے ہوں، لائسنس دیتے ہوئے سوچ بچار کریں، میرے استعفے کے بعد وہ پہلو ہٹا دیا گیا اور ہر ایک کو اجازت نامے دے دیے گئے۔

’’مجھے ایک ’ایڈورٹائزنگ ریگولیشن ایکٹ‘ بھی بنانا چاہیے تھا!‘‘

عمرانیات کی خوب سمجھ رکھنے والے اشتہار ساز کے سامنے جب ہم نے اشتہاروں میں دکھائی جانے والی پرتعیش زندگی کے سبب متوسط اور نچلے طبقے میں پیدا ہونے والے مسائل اور احساس محرومی کا سوال رکھا، تو وہ بولے کہ اشتراکیت کی ناکامی کی وجہ سے بین الاقوامی منظر پر بڑے پیمانے پر اشیا کی کھپت کی سوچ پھیلائی جا رہی ہے، کہ چیزوں کے مالک بنے بغیر ہم خوش اور کام یاب نہیں ہو سکتے۔ اس کے سدباب کے لیے ضروری ہے کہ دانش وَر تحقیق کے بعد ایک ایسا نظام تشکیل دیں، جو سرمایہ کاری کو تو جاری رکھے، لیکن سماجی اصول واقدار اور سماجی انصاف کو بھی بہتر بائے۔ ساتھ ہی ریاست اور نجی شعبے کے کردار کا تعین ہو۔ یہ ایک تاریخی عمل ہے، جس میں شاید 10 سے 15 سال کے ارتقا کے بعد نعم البدل کی ایک سیاسی و معاشی سوچ ابھرے اور ’کنزمپشن اورینٹڈ‘ کے بہ جائے ایک متوازن کنزرویشن معیشت قائم ہو، جو قدرتی وسائل کا احترام کرے۔ اگر دنیا کے سات ارب انسانوں کو امریکا اور دبئی جیسی سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کی جائے گی، تو مزید ڈھائی دنیا درکار ہوگی۔ آلودگی پھیلائے بغیر ہمیں لگتا ہی نہیں کہ ہم ترقی کر رہے ہیں، ہم انسانیت کو خود کُشی کی طرف لے جا رہے ہیں۔‘‘

انہوں نے ماحولیاتی مسائل کا دکھڑا کہا تو ہم اس صورت حال میں اشتہارات کو دوشی قرار دیا، جس سے اتفاق کرتے ہوئے وہ گویا ہوئے کہ اگرچہ گزشتہ 20 برس سے وہ پیشہ ورانہ طور پر اس شعبے سے وابستہ نہیں، لیکن اشتہاریات کے ایک مشاہدہ کار اور طالب علم کے طور پر وہ مشتہرین اور اشتہارات کو ضابطے میں رکھنے کے لیے ایک قانونی دائرے کو ضروری قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں تین بار کابینہ میں رہا، ’پیمرا‘ (PEMRA) اور دیگر مختلف قوانین بنائے، مجھے ایک ’ایڈورٹائزنگ ریگولیشن ایکٹ‘ بھی بنانا چاہیے تھا، جس کے تحت یہ واضح ہوتا کہ اشتہاریات کا انداز کیا ہونا چاہیے، اور کس حد تک یہ متن پر حاوی ہو سکتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔