حجاب کی اہمیت

پروفیسر ڈاکٹر ثنا خالد  جمعـء 20 جولائ 2018
اسلام عورت کے بننے سنورنے یا فیشن کرنے پر قدغن نہیں لگاتا، بل کہ پردے اور حدود میں یہ سب کچھ کرنے کی اجازت دیتا ہے۔۔فوٹو: فائل

اسلام عورت کے بننے سنورنے یا فیشن کرنے پر قدغن نہیں لگاتا، بل کہ پردے اور حدود میں یہ سب کچھ کرنے کی اجازت دیتا ہے۔۔فوٹو: فائل

کسی بھی مذہب کی تعلیمات اس مذہب کی قوم کے سیرت و کردار کی تشکیل کے لیے مرتب کی جاتی ہیں اور ہر مذہب کے مذہبی اصول و قوانین اس کی مذہبی تعلیم و تربیت کی روشنی میں تہذیب و تمدن کے ساتھ مختلف حالتوں میں موجود ہیں۔

تمام مذاہب عالم کی تعلیمات ایک طرف اور دین حق اسلام کی تعلیمات ایک طرف ہیں۔ اسلام ایک مکمل ضابطۂ اخلاق اور دین فطرت ہے، جس کا ہر قانون نہ صرف کردار کی تشکیل کرتا ہے بل کہ افراد کی زندگی کو تحفظ اور روح و قلب کو سکون فراہم بھی کرتا ہے۔ اسلام کے یہ تمام قوانین مرد و زن دونوں پر مساوی نافذ ہوتے ہیں، فرق ان میں صرف صنفی شخصیت کے مطابق ہوتا ہے۔

اسلام نے عورت کے لیے جو احکام و قوانین متعین فرمائے ہیں ان میں سے حجاب یعنی پردے کا حکم نہایت اہم حیثیت کا حامل ہے۔ قدرت کے تمام احکامات کے پیچھے حکمت کار فرما ہے اور اسی میں دراصل انسان کی بھلائی پوشیدہ ہے۔ اگر انسان خود سمجھنا چاہے تو احکامات پردہ بھی بہت سی حکمتوں سے بھرپور ہیں، جو عورت کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔

حجاب بے شمار برائیوں اور عیوب سے بچاتا ہے۔ اہل مغرب کی تقلید کرنے والے اور نام نہاد روشن خیال اس کو معیوب سمجھتے اور اس کو عورت کے لیے ایک قید تصور کرتے ہیں۔ کچھ مغربی ممالک اسلام کی دشمنی میں حجاب و نقاب کو روکنے کے لیے نت نئی پابندیاں عاید کرنے کے لیے آئے دن کوئی نہ کوئی بِل پاس کرانے کے لیے کوشاں رہتے ہیں، اور ایسا وہ صرف اسلام دشمنی میں کرتے ہیں۔ اگر ہم دیگر مذاہب کا بھی مطالعہ کریں تو ہمیں یہ معلوم ہوگا کہ ہندو مذہب میں بھی پردے کا تصور موجود ہے، اور یہ بات قابل ذکر ہے کہ ہندؤوں کی کتب میں بھی اس کا ذکر موجود ہے کہ جب راون سیتا کو اٹھا کر لے جاتا ہے اور رام اس کی تلاش میں مارا مارا پھرتا ہے تو ایسے میں وہ اپنے بھائی لکشمن کو مدد کے لیے بلاتا اور اپنی پریشانی کا ذکر کرتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ سیتا کو اس کے ساتھ مل کر تلاش کرے، مگر لکشمن اس کے جواب میں انکار کرتا اور کہتا ہے کہ وہ سیتا کو کیسے پہچانے گا اس نے تو اس کا چہرہ بھی نہیں دیکھا۔ کیوں کہ سیتا اپنا چہرہ چھپاتی تھی اور جب انہوں نے سیتا کو تلاش کیا تو لکشمن نے سیتا کو اس کے پاؤں میں پہنی ہوئی پازیب سے پہچانا۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ ہندو مذہب میں بھی پردے کا تصور ہے اور ان کی مذہبی کتاب میں اس کا ذکر ملتا ہے۔

عورت گھر کی زینت ہے اور عربی زبان میں لفظ عورت کا مطلب ہی چھپا کر رکھنے کے ہیں اور انسانی فطرت ہے کہ وہ اپنی قیمتی متاع کو چھپا کر رکھتا ہے نہ کہ اس کی نمائش کی جائے۔ اسلام عورت کے بننے سنورنے یا فیشن کرنے پر قدغن نہیں لگاتا، بل کہ پردے اور حدود میں یہ سب کچھ کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ زیب و زینت کی جائے مگر حجاب کا خیال رکھا جائے، نامحرموں کے سامنے اس کی نمائش سے پرہیز کیا جائے، تاکہ معاشرے کے دیگر افراد کو گناہوں اور گم راہی سے بچایا جائے۔ شرم و حیا ہی تو دراصل عورت کا حقیقی زیور ہے، افسوس کہ ہم اسلام کی تعلیمات کو بُھلا چکے ہیں اسی وجہ سے تو ذلیل و رسوائی کی طرف چلتے جا رہے ہیں۔

اللہ ہمیں اسوۂ رسول کریم ﷺ پر عمل پیرا ہونے کی توفیق سعید عطا فرمائے۔ آمین

پروفیسر ڈاکٹر ثناء خالد

کسی بھی مذہب کی تعلیمات اس مذہب کی قوم کے سیرت و کردار کی تشکیل کے لیے مرتب کی جاتی ہیں اور ہر مذہب کے مذہبی اصول و قوانین اس کی مذہبی تعلیم و تربیت کی روشنی میں تہذیب و تمدن کے ساتھ مختلف حالتوں میں موجود ہیں۔ تمام مذاہب عالم کی تعلیمات ایک طرف اور دین حق اسلام کی تعلیمات ایک طرف ہیں۔ اسلام ایک مکمل ضابطۂ اخلاق اور دین فطرت ہے، جس کا ہر قانون نہ صرف کردار کی تشکیل کرتا ہے بل کہ افراد کی زندگی کو تحفظ اور روح و قلب کو سکون فراہم بھی کرتا ہے۔ اسلام کے یہ تمام قوانین مرد و زن دونوں پر مساوی نافذ ہوتے ہیں، فرق ان میں صرف صنفی شخصیت کے مطابق ہوتا ہے۔

اسلام نے عورت کے لیے جو احکام و قوانین متعین فرمائے ہیں ان میں سے حجاب یعنی پردے کا حکم نہایت اہم حیثیت کا حامل ہے۔ قدرت کے تمام احکامات کے پیچھے حکمت کار فرما ہے اور اسی میں دراصل انسان کی بھلائی پوشیدہ ہے۔ اگر انسان خود سمجھنا چاہے تو احکامات پردہ بھی بہت سی حکمتوں سے بھرپور ہیں، جو عورت کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔

حجاب بے شمار برائیوں اور عیوب سے بچاتا ہے۔ اہل مغرب کی تقلید کرنے والے اور نام نہاد روشن خیال اس کو معیوب سمجھتے اور اس کو عورت کے لیے ایک قید تصور کرتے ہیں۔ کچھ مغربی ممالک اسلام کی دشمنی میں حجاب و نقاب کو روکنے کے لیے نت نئی پابندیاں عاید کرنے کے لیے آئے دن کوئی نہ کوئی بِل پاس کرانے کے لیے کوشاں رہتے ہیں، اور ایسا وہ صرف اسلام دشمنی میں کرتے ہیں۔ اگر ہم دیگر مذاہب کا بھی مطالعہ کریں تو ہمیں یہ معلوم ہوگا کہ ہندو مذہب میں بھی پردے کا تصور موجود ہے، اور یہ بات قابل ذکر ہے کہ ہندؤوں کی کتب میں بھی اس کا ذکر موجود ہے کہ جب راون سیتا کو اٹھا کر لے جاتا ہے اور رام اس کی تلاش میں مارا مارا پھرتا ہے تو ایسے میں وہ اپنے بھائی لکشمن کو مدد کے لیے بلاتا اور اپنی پریشانی کا ذکر کرتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ سیتا کو اس کے ساتھ مل کر تلاش کرے، مگر لکشمن اس کے جواب میں انکار کرتا اور کہتا ہے کہ وہ سیتا کو کیسے پہچانے گا اس نے تو اس کا چہرہ بھی نہیں دیکھا۔ کیوں کہ سیتا اپنا چہرہ چھپاتی تھی اور جب انہوں نے سیتا کو تلاش کیا تو لکشمن نے سیتا کو اس کے پاؤں میں پہنی ہوئی پازیب سے پہچانا۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ ہندو مذہب میں بھی پردے کا تصور ہے اور ان کی مذہبی کتاب میں اس کا ذکر ملتا ہے۔

عورت گھر کی زینت ہے اور عربی زبان میں لفظ عورت کا مطلب ہی چھپا کر رکھنے کے ہیں اور انسانی فطرت ہے کہ وہ اپنی قیمتی متاع کو چھپا کر رکھتا ہے نہ کہ اس کی نمائش کی جائے۔ اسلام عورت کے بننے سنورنے یا فیشن کرنے پر قدغن نہیں لگاتا، بل کہ پردے اور حدود میں یہ سب کچھ کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ زیب و زینت کی جائے مگر حجاب کا خیال رکھا جائے، نامحرموں کے سامنے اس کی نمائش سے پرہیز کیا جائے، تاکہ معاشرے کے دیگر افراد کو گناہوں اور گم راہی سے بچایا جائے۔ شرم و حیا ہی تو دراصل عورت کا حقیقی زیور ہے، افسوس کہ ہم اسلام کی تعلیمات کو بُھلا چکے ہیں اسی وجہ سے تو ذلیل و رسوائی کی طرف چلتے جا رہے ہیں۔

اللہ ہمیں اسوۂ رسول کریم ﷺ پر عمل پیرا ہونے کی توفیق سعید عطا فرمائے۔ آمین

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔