بلوچستان میں بھارتی مداخلت کے ثبوت

ایڈیٹوریل  ہفتہ 21 جولائ 2018
بلوچستان میں پنجابی آبادگاروں کو نشانہ بنانا بھی بھارت کا پرانا طریقہ واردات ہے۔ فوٹو:فائل

بلوچستان میں پنجابی آبادگاروں کو نشانہ بنانا بھی بھارت کا پرانا طریقہ واردات ہے۔ فوٹو:فائل

بلوچستان میں امن و امان کی خراب صورتحال اور اندرونی معاملات میں بھارتی مداخلت اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں، بھارتی ایجنٹ کلبھوشن کی گرفتاری اور اقرار جرم کے بعد بھارت کے پاس راہِ فرار کا کوئی آپشن نہیں، لیکن پھر بھی وہ ڈھٹائی سے کلبھوشن یادیو کا کیس خود عالمی عدالت لے گیا۔ اس سلسلے میں دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے صائب کہا ہے کہ بلوچستان میں بھارتی مداخلت کے شواہد اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کے ساتھ شیئر کریں گے۔

پاکستان میں بھارتی مداخلت ایک حقیقت ہے، بھارت اقوام متحدہ کے ذمے دار کارکن کی حیثیت سے دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے باز رہے، نئی دہلی میں ’’فری بلوچستان دفتر‘‘ کا قیام پاکستان کے خلاف بھارت کے ناپاک عزائم کی عکاسی ہے۔

بھارتی سرگرمیاں بین الاقوامی قوانین کے منافی اور خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔ پاکستان کے ساتھ بھارت کی مخاصمت سب کے علم میں ہے جب کہ بھارتی رہنما بھی مختلف مواقعوں پر پاکستان کے خلاف سازشوں کا برملا اعتراف کرتے آئے ہیں، بھارتی وزیراعظم مودی سقوط ڈھاکا میں بھارتی سازش اور بلوچستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا اعتراف کرچکے ہیں۔ بلوچستان میں بھارتی مداخلت کی تاریخ بھی پاکستان کی عمر جتنی ہی پرانی ہے۔ بھارت بلوچستان میں علیحدگی پسندی اور دہشت گردی کو ہوا دینے کے لیے بے دریغ پیسہ اور اسلحہ استعمال کررہا ہے۔

بھارت نے تعمیر و ترقی کے منصوبوں کی آڑ میں پاکستان سے ملحقہ سرحدی علاقوں میں دہشت گردی کے تربیتی مراکز قائم کرکے پاکستان کے خلاف نصف صدی سے جاری جنگ کو نیا رخ دیا۔ بھارت نے اپنے مذموم مقاصد کے لیے نوجوانوں کو خاص طور پر ہدف بنایا ہے، انھیں دہشت گردی کے مراکز میں تربیت دی جارہی ہے، آئے روز ہونے والے بم دھماکے، راکٹ حملے اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات اعلیٰ عسکری تربیت کا ثبوت ہیں، اتنے منظم اور فوجی انداز میں کی گئی کارروائیاں محض مقامی سطح پر دی گئی تربیت کا نتیجہ نہیں ہوسکتیں۔

بلوچستان میں پنجابی آبادگاروں کو نشانہ بنانا بھی بھارت کا پرانا طریقہ واردات ہے۔ قومی یکجہتی کی چولیں بنیادوں سے ہلادینے اور مختلف لسانی اکائیوں کو ایک دوسرے کے مدمقابل لانے کے لیے آگ وخون کا کھیل پوری سفاکی سے جاری ہے۔ بلوچستان کے غیور اور محب وطن عوام بھارتی سازشوں کے مقابل سینہ سپر ہیں، حکومت کی جانب سے باغی کرداروں کو بھی قومی دھارے میں شامل کرنے کی کوششیں جاری ہیں کیونکہ عوام کو بھارتی سازشوں سے بچانے کے لیے گولیوں کی نہیں بلکہ زخموں پر مرہم رکھنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کی جانب سے بھارتی مداخلت کے ثبوت عالمی اداروں کے سپرد کرنے کا اعلان بالکل صائب ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔