روایتی سیاست کی مزاحمت نے نئے انتخابی رجحانات متعارف کرا دیئے

ڈاکٹر عرفان احمد بیگ  اتوار 22 جولائ 2018
بدترین بحرانی صورتحال میں بھی دو اہم ترین سیاسی شخصیات اقتدار کی کھینچا تانی میں مصروف تھیں

بدترین بحرانی صورتحال میں بھی دو اہم ترین سیاسی شخصیات اقتدار کی کھینچا تانی میں مصروف تھیں

 ( آخری قسط )

صدر جنرل ضیاء الحق بطور فوجی افسر اور پھر آرمی چیف اور بعد میں صدر مملکت اور وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو بطور سیاستدان اس نسل کی نمائندگی کرنے والے دو آخری سربراہان تھے جنہوں نے انگریز سرکار اور تحریک آزادی کودیکھا تھا اور اس وقت نوجوان کی حیثیت سے کسی نہ کسی انداز میں اس کا سر گرم حصہ رہے تھے لیکن 1977 سے 1988 تک یہ نسل سیاست سے رخصت ہوگئی تھی۔

بینظیر بھٹو اپنے والد ذوالفقار علی بھٹو کے بعد ان کے جا نشین کے طور پر سامنے آئیں اور 1985 کے غیرجماعتی انتخابات کے بعد اور خصوصاً اگست 1988 میں صدر ضیاء الحق کے انتقال کے بعد میاں محمد نواز شریف بھی نئے سیاسی قائد کے طور پر ابھر ے اور یہ تلخ حقیقت ہے کہ 1988 سے 1999 تک کے تقریبا ساڑھے دس برسوں میں جب یہ دونوںشخصیات پارلیمانی سیاست سے وابستہ اقتدار کی کشا کش میں رہیں تو دنیا بھر میں اور خصوصاً ہمارے خطے میں اہم ترین سیاسی،اقتصادی اور جغرافیائی تبدیلیاں رونما ہو رہی تھیں۔

پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کا انداز اور کردار بھی روایتی نہیں رہا تھا اور بڑی قوتوں کی وہ سرد جنگ والی پوزیشن بھی نہیں رہی تھی مثلًا جب 1990 میں بینظیر بھٹو اقتدار سے رخصت ہو رہی تھیں اور نواز شریف پہلی مر تبہ وزیر اعظم بن رہے تھے تو دیوار برلن گر چکی تھی اور سابق سوویت یونین کے ساتھ اس کے اشتراکی ممالک یعنی وارسا پیکٹ کا گروپ تحلیل ہو چکا تھا۔ اُ س وقت روس اپنی تار یخ کے بہت بڑے بحران کا شکار تھا اس کی معیشت اقتصادی زلزلے کا شکار تھی کہ پوری دنیا میں آزاد مارکیٹ اور سرمایہ دارانہ نظام مستحکم ہوچکا تھا۔ اب اشتراکی معاشیات و اقتصادیات کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ 1990 سے ذرا پہلے روسی کرنسی روبل جس کی قیمت امریکی ڈالر سے کچھ زیادہ تھی اب اتنی گر چکی تھی کہ ایک امریکی ڈالر 450 روبل کا ہو گیا تھا۔ روس کی سابقہ ریاستوں میں اور مشرقی یورپ کے بہت سے ملکوں میں خانہ جنگی کی سی صورت تھی یا اقتصا دی بحران تھے۔

اس صورتحال میں یورپی یونین کی تشکیل کے ساتھ ہی امریکا دنیا بھر میں متعارف کی جانے والی نئی اصطلاحات اور نئی اقتصا دی پالیسیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار تھا، افغانستان جنگ اور خانہ جنگی کے علاوہ مشرق وسطیٰ خصوصا عراق جنگ اور خانہ جنگی کے شعلوں کی لپیٹ میں آچکے تھے، نائن الیون جیسا اندوہناک واقعہ پیش آیا، امریکہ اپنے مفادات کے تحت بھارت کے قریب اور پاکستان سے دور ہو رہا تھا لیکن ہمارے ہاں سیاسی طور پر صرف دو جماعتوں اور دو شخصیات کے درمیان کشا کش کی صورت تھی، البتہ اس صورتحال کے دوران 28 مئی 1998 کا وہ اہم ترین دن ہے جب پاکستان نے بھارت کے پانچ ایٹمی دھماکوں کے مقابلے میں چھ ایٹمی دھماکے کئے مگر اس کے بعد سیاسی کھچاؤ اور بڑھ گیا اور پھر اکتو بر 1999میں جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھال لیا تو اس سال قومی بجٹ کا 50 فیصد قرضوں کی ادائیگی اور سود میں گیا۔

نائن الیون کے ایک سال بعد صدر جنرل پر ویز مشرف نے عام انتخابات کرائے جس کے نتیجے میں ق لیگ برسر اقتدار آئی اور پہلے مرحلے میں جب یہ اندیشہ تھا کہ شائد جنرل پرویز مشرف کی حمایت کے باوجود وزیر خزانہ شوکت عزیز وزارت عظمیٰ کے لیے اعتماد کا ووٹ حاصل نہ کرسکیں۔ ظفر اللہ جمالی کو ایک دو ووٹوں کی برتری سے وزیر اعظم بنا یا گیا اس کے بعد چند روز کے لیے چوہدری شجاعت وزیر اعظم رہے اور پھر شوکت عزیز نے باقی مدت پوری کی۔ حکومت نے اُس تیرہویں ترمیم کے مقابل آئین کی سترہویں ترمیم منظور کر لی جس کے تحت صدر کو کم و بیش ایسے ہی اختیارات حاصل ہو گئے جو آئین کی آٹھویں ترمیم کے ذریعے جنرل ضیاء الحق کو حاصل تھے۔

اس کے علاوہ صدر پرویزمشرف نے 1998 کی مردم شماری کے مطابق پارلیمنٹ کی نشستوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ خواتین اور اقلیتو ں کی مخصوص نشستیں بھی رکھیں۔ عام انتخابات میں امیدوار کے لیے بی اے کی تعلیمی حد مقرر کی گئی اور تیسر ی مرتبہ وزیر اعظم نہ بننے کی شق بھی رکھی گئی۔

2002 میں ہی صدر پرو یز مشرف کی جانب سے گوادر ڈیپ سی پروجیکٹ شروع کیا گیا جس پر بلو چستان میں بڑے سیاسی لیڈروں کی جا نب سے شدید احتجاج اور تحفظا ت کا اظہا ر کیا جا نے لگا تھا اور وقت کے ساتھ ساتھ اس کی شدت میں اضافہ ہوتا گیا۔ یہی وہ دور ہے جب افغانستان اور پاکستان کے ساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ میں بڑی قوتوں کے درمیان ایک نئی طرز کی سرد جنگ شروع ہو گئی اور ابتدائی برسوں میں یہ سمجھا جاتا رہا کہ امریکہ اور نیٹو ممالک یہ سرد جنگ بھی نہ صرف جیت جائیں گے بلکہ ماضی کی سرد جنگ کے مقابلے میں بہت کم مدت میں اور آسانی سے یہ جنگ جیت جائیں گے مگر آج احساس ہوتا ہے کہ یہ اندازے غلط تھے یا پھر امریکہ کی اسلحہ سازی کی مارکیٹ اور دنیا کو متواتر خوفزدہ رکھنے کے لیے امریکہ نے یہ حکمت عملی اپنائی ہے کیو نکہ اسی اسڑیٹجی پر امریکہ پہلی جنگ عظیم سے قائم ہے اور یہی حکمت عملی اس کے معاشی،اقتصادی اور سیاسی فائد ے میں ہے۔

پرویز مشرف نے اپنے دور حکومت میں الیکٹرونک میڈیا کو ترقی دی اور اُسے آزاد کیا۔ موبائل فون عام اور نہایت سستے ہوئے مگر ان کی وجہ سے تیز رفتار معاشرتی، سیاسی تبدیلیاں رونما ہوئیں اور پرویز مشرف پر نہ صرف شدید تنقید ہونے لگی بلکہ ان کے خلاف احتجاج ہونے لگا اور بدقسمتی سے انہوں نے اس احتجاج کو قو ت سے دبانے کی کوشش کی، جب کہ دوسری جانب پاکستان میں دہشت گردی 2005 میں خاصی شدت اختیار کرگئی تھی،اسی زمانے سے پرویز مشرف کا اقتدار کمزور ہونے لگا۔ 26 اگست 2006 کو نواب اکبر خان بگٹی شہید ہوگئے۔

9 مارچ 2007 کو پرویز مشرف نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا۔ 18 اکتوبر2007 کو محترمہ بینظیر بھٹو 8سالہ جلا وطنی کے بعد وطن واپس آئیں، 3 نومبر 2007 کو صدر پرویز مشرف نے ملک میں ایمر جنسی نافذ کردی، 15 نومبر 2007 کو اسمبلی اپنی پانچ سالہ مدت پوری کرکے تحلیل ہو گئی اور 25 نومبر2007 کو نواز شریف7 سالہ جلا وطنی کے بعد ملک میں واپس آگئے ۔ 27 نومبر2007 کو محترمہ بینظیر بھٹو کو لیاقت باغ راولپنڈی میں شہید کر دیا گیا جس کے ردعمل میں پورے ملک میں تاریخ کا سب سے بڑا اور تباہ کن احتجاج کیا گیا۔ اب حقیقت میں صدر جنرل پرویز مشرف کا اقتدار بہت کمزور ہو گیا تھا۔

18 فروری 2008 کو صدر جنرل پرویز مشرف نے انتخابات کروائے جس میں کل ڈالے گئے ووٹوں کی تعداد 35678035 تھی اور ٹر ن آؤٹ 44.10% تھا۔ پیپلز پارٹی نے 10666548 ووٹ لیے جو کل ڈالے گئے ووٹوں کا 30.79% تھے، قومی اسمبلی میں پی پی پی کی 91 جنرل نشستیں23 خواتین نشستیں اور 4 اقلیتی نشستوں کے ساتھ کل نشستیں118 تھیں، دوسرے نمبر پر زیادہ ووٹ مسلم لیگ ق نے لیے جن کی تعداد 8007218 تھی جو 23.12% تھے، ق لیگ نے قومی اسمبلی میں 38 جنرل 10خواتین اور 2 اقلیتی نشستوں کے ساتھ کل 50 نشستیں حاصل کیں، جب کہ مسلم لیگ ن کے کل حاصل کردہ ووٹ مسلم لیگ ق سے کم یعنی 6805324 تھے جو کل ڈالے گئے ووٹوں کا 19.65% تھے لیکن ان کی نشستیں ق لیگ سے زیادہ تھیں۔

ن لیگ نے 69 جنرل، 17 خواتین اور 4 اقلیتی نشستوں کے ساتھ کل 89 نشستیں حاصل کیں، ایم کیو ایم نے کل 2573795 ووٹ حاصل کئے جو کل ڈالے گئے ووٹوں کا 7.43% تھے ان کی 19 جنرل، 5 خواتین 1 اقلیتی نشست کے ساتھ کل نشستیں 25 تھیں۔ ان انتخابات میں متحدہ مجلس عمل صرف 8 نشستیں حاصل کر سکی۔ 24 مارچ 2008 کو یوسف رضا گیلانی پی پی پی کی وفاقی حکومت کے وزیر اعظم ہوئے۔

18اگست 2008 کو صدر پرویز مشرف نے استعفیٰ دے دیا اور 6ستمبر 2008 کو آصف علی زرداری 481 ووٹ لے کر صدرمملکت ہوئے۔ جب کہ پنجاب میں صوبائی اسمبلی کے انتخابات مسلم لیگ ن کے حق میں رہے۔ یہاں مسلم لیگ ن نے172 نشستیں لیں جب کہ پی پی پی نے صوبائی اسمبلی کی 106 نشستیں اور مسلم لیگ ق نے پنجاب اسمبلی کی 79 نشستیں حاصل کیں۔

اس کے بعد 2013 تک اگرچہ مسلم لیگ ن نے پی پی پی اور خصوصاً صدر آصف علی زرداری کے خلاف بہت کچھ کہا او ر کرپشن کے حوالے سے ان پر شدید الزامات عائد کرتے ہوئے عدلیہ کی جانب سے سوئس حکومت کو خط لکھنے کے لیے بھی عوامی سطح پر دباؤ ڈالا لیکن پی پی پی نے یہ تاثر دیا کہ وہ بینظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کے درمیان ہونے والے میثاق ِجمہوریت کا حد در جہ لحا ظ رکھیں گے جب کہ یہ حقیقت ہے کہ میاں نوازشریف اور شہباز شریف نے 2008 کے انتخابات کے بعد سے کرپشن کے حوالے سے متواتر پی پی پی حکومت اور خصوصا آصف علی زرداری کے خلاف بھرپور اور نہایت کامیاب مہم چلائی اس دوران چونکہ آصف علی زرداری کے خلاف عدالت ِ عظمیٰ میں سوئس بنک میں ملک کے اربوں ڈالر لے جانے کے الزامات میں کیس چل رہا تھاجس کے سبب وزیراعظم یوسف رضا گیلانی فارغ کردئیے گئے اور ان کی جگہ راجہ پرویز اشرف وزیراعظم ہوئے اور پھر ساتھ ہی زرداری اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان میموگیٹ مسئلے پر تناؤ بڑھ گیا۔ ملک میں امن وامان کی صورتحال بگڑتی چلی گئی۔

قر ضوں کے حجم میں بہت اضافہ ہوا بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ نے عوام کی چیخیں نکال دیں۔ یوں مسلم لیگ ن نے 2013 کے انتخابات کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کو جو ہدف بنایا تھا اس میں مسلم لیگ ن سوفیصد سے بھی زیادہ کامیاب رہی اور ملک کے سب سے بڑی آبادی والے صوبے میں جہاں پی پی پی ایک بڑی مستحکم جماعت رہی تھی اس کی جڑیں اکھڑ گئیں جبکہ پاکستان کی ایک نئی سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے اس دوران ان دونوں جماعتوں پر کرپشن،د ھاندلی اقربا پروری بیرونی طاقتوں کے ساتھ سازباز کے الزامات عائد کئے۔

تحریک انصا ف کی مقبولیت میں اضافے کی اہم ترین وجہ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی جانب سے ملک کے مسائل حل نہ کرنا ہے۔ خطے میں عمران خان بطور قو می سیاسی لیڈر ایک نیا تجربہ ہے اس سے قبل بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا، چین، ایران اور روس میں اس کی مثال نہیں ملتی کہ قو می سطح کا کو ئی کھلا ڑی کھیل کے میدان سے ملنے والی شہر ت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پہلے رضاکارانہ طور پر عوام کے لیے فلاحی اور رفاعی کام کرے، اپنی اچھی ساکھ بنائے اور اس کے بعد میدان سیاست میں آکر ایک ایسے ملک میں جو اس زمانے میں دنیا میں کرپشن کے اعتبار سے دوسرے نمبر پر ہو کرپشن کے خاتمے اور قومی ترقی کی بات کرے پھر اس کی خوش قستمی کہ 22 کروڑ کے ملک میں 50%  سے زیادہ نوجوان ہوں اور پھر ماضی کے مقابلے میں ووٹر کی عمر کی حد 23 سال سے کم کر کے18سال کردی جائے مگر ساتھ ہی ایک بدقسمتی عمران خان کی یہ ہے کہ وہ ہماری سماجی، روحانی، تہذیبی اقدار کا خیال کئے بغیر اچانک ایسا عمل کر جاتے ہیں جس سے ان کے مخالفین کو ان کے خلاف منفی پروپیگنڈا کرنے کا موقع ہاتھ آ جاتا ہے اور دوسری جانب ان کے چاہنے والوں کو تکلیف ہوتی ہے۔

اگر چہ پاکستان تحریک انصاف2007 کے انتخابات میں کوئی سیاسی پیش قدمی نہ کرسکی مگر 2007 سے 2013 تک تحریک انصاف نے کرپشن کے خاتمے کو اپنا نعرہ بنا کر نہ صرف پی پی پی کے ووٹ بنک کو قابو میں کیا بلکہ نوجوانوں کے ووٹوں پر مشتمل نئے اور اضافی ووٹ بنک کو بھی حاصل کیا۔

جب 11مئی2013 کے عام انتخابات ہوئے تو یہ پاکستان کی سیاسی اور انتخابی سیاست میں ایک واضح تبدیلی تھی، اس میں کل 45388404 ووٹ ڈالے گئے 19سیاسی جماعتوں نے قومی اسمبلی میں نمائندگی حاصل کی۔ مسلم لیگ ن نے مجموعی طور پر کل ڈالے گئے ووٹوں میں سے 14874104 ووٹ حاصل کئے جس کا تناسب32.77% تھا اور قومی اسمبلی میں مسلم لیگ ن کی 126 جنرل نشستیں تھیں۔ اس کے بعد قومی اسمبلی میں نشستوں کے اعتبار سے دوسرے نمبر پر پی پی پی تھی جس نے 33 جنرل نشستیں حاصل کیں، اگرچہ یہ دوسرے نمبر پر تھی مگر اس نے پی ٹی آئی کے مقابلے میں مجموعی طور پر کم ووٹ لئے تھے۔

پی پی پی کے کل ووٹوں کی تعداد 6911218 تھی جس کا تناسب 15.23%  تھا اس کے مقابلے میں پاکستان تحریک انساف نے 7679954 ووٹ حاصل کئے اور تناسب 16.92% تھا لیکن قومی اسمبلی میں اس کی نشستوں کی تعداد پی پی پی سے کم یعنی 28 تھی جب کہ عمران خان سمیت تمام پارٹیوں نے 2013 کے عام انتخابات کو تاریخ کے سب سے زیادہ دھاندلی زدہ انتخابات قرار دیا۔ تحریک انصاف کا یہ موقف تھا کہ مسلم لیگ ن نے دھاندلی کر کے تحر یک انساف کا مینڈیٹ چرایا ہے اور اس کے بعد ہی مشہور دھرنا دیا گیا جس میں عمران اور طاہر القادری خصوصاً نوجوانوں کی اکثریت کو یہ باور کروانے میں کامیاب ہوگئے کہ نہ صرف یہ کہ انتخابات میں دھاندلی ہو ئی ہے بلکہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی قیادت دونوں ہی کرپٹ ہیں اور ایک دوسرے کو سپورٹ کرتی ہیں۔ پی پی پی پنجاب کی قیادت کی مخالفت کے باوجود آصف علی زرداری اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے میثاق جمہوریت کا لحاظ رکھا اور نواز شریف کے خلاف زیادہ شدت اختیار نہیں کی۔

دوسری جانب عمرا ن خان اور تحریک انصاف کے دیگر رہنما اس موقف کو اختیار کئے رہے کہ مسلم لیگ ن اور پی پی پی دونوں در پردہ آپس میں ملے ہوئے ہیں اور سب سے اہم یہ کہ باوجود پروپیگنڈ ے کے عام آدمی کے مسائل میں اضافہ ہوا اور پھر سب سے اہم کہ پانامہ لیکس کے سامنے آنے کے بعد شریف خاندان قانونی اعتبار سے اپنی جان نہیں چھڑا سکا۔ اس وقت سے ن لیگ اور نوازشریف خاندان اپنا دفاع بنیادی طور پر یہ کہہ کر کر رہے ہیں کہ صرف احتساب کا عمل ہمارے خلاف کیوں، یہ نہیں کہہ رہے کہ ہم اپنی صفائی میں ثبوت پیش کر تے ہیں، پھر اس بار منی لانڈ رنگ کے یہ الزامات ملک کے کسی ادارے کے بجائے عالمی سطح کے ادارے کی جانب سے ہیں اور بدقسمتی سے آج الیکٹرانک میڈیا کے دور میں نواز شریف اور مریم نواز کے بیانات جو ریکارڈ پر ہیں ان سے مسلم لیگ ن کو نقصان پہنچا ہے۔

اب آئندہ انتخابات کے نتائج کیا ہوں گے اس کے بارے میں پیش گوئی کرنا تو ممکن نہیں مگر یہ ضرور ہے کہ 2013 میں ہونے والے گزشتہ انتخابات کے نتائج نے یہ ثابت کردیا ہے کہ اب پاکستان کی روایتی سیاست اور انتخابات کے رجحان میں تبدیلی آچکی ہے اور اس تبدیلی کا اندازہ 2013 میں ڈالے جانے والے ووٹوں کے اعتبار سے ہو تا ہے۔ یہاں البتہ ایک اندیشہ ضرور ہے جس کی جانب گذشتہ دنوں الیکشن کمیشن نے اشارہ کیا تھا کہ ان انتخابات میں بیرونی قوتوں کی جانب سے مداخلت کی افواہ سامنے آئی تھی، ویسے بھی انتخابات میں یہ رجحان جو نیا ہے یہ اس لیے بھی ہے کہ اب ایک جانب تو شہری آبادی میں اضافہ ہوا ہے تو اس کے سا تھ ہی آبادی میں اضافے کے سبب جو دیہی علاقے ہیں وہ بھی اب سماجی لحاظ سے شہری رنگ میں رنگ گئے ہیں۔ یوں اس بار سیاسی شعور کی صورتحال یہ ہے کہ ایک ہی گھر میں خاندان کے افراد مختلف جماعتوںکے حامی ہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ 1970 کے انتخابات کی طرح یہ انتخابات بھی سب اندازوں اور تجزیوں کو غلط بھی ثابت کر سکتے ہیں اور یہ عام انتخابات ملک کی تاریخ کے اہم ترین انتخابات ہوں گے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔