بلڈرز کو این او سی فوری جاری کیے جائیں، وزیر ماحولیات سندھ

اے پی پی  ہفتہ 21 جولائ 2018
ایسالگتاہے افسران فرائض انجام دینے میں دلچسپی نہیں رکھتے،آبادہاؤس میں اجلاس سے خطاب۔ فوٹو: فائل

ایسالگتاہے افسران فرائض انجام دینے میں دلچسپی نہیں رکھتے،آبادہاؤس میں اجلاس سے خطاب۔ فوٹو: فائل

 کراچی: سندھ کے نگراں وزیر اطلاعات، قانون اور ماحولیات جمیل یوسف اور ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) میں بلڈرز اور ڈیولپرز کی تحفظ ماحولیات سندھ میں این او سی کے لیے جمع کرائی گئی درخواستوں کے عمل میں تیزی لانے اور این او سی کے فوری اجرا پر اتفاق ہوگیا ہے، 

آباد ہاؤس میں صوبائی وزیر اور آباد کے چیئرمین محمدعارف جیوا کے درمیان ہونے والے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں آباد کے سینئر وائس چیئرمین فیاض الیاس، چیئرمین سدرن ریجن الطاف تائی، تحفظ ماحولیات سندھ کے ایڈیشنل سیکریٹری ممتاز ایچ سومرو، ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل تحفظ ماحولیات سندھ نعمان مغل اور ڈائریکٹر ٹیکنیکل وقار پھلپوٹو اور آباد کے ممبران کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔

اس موقع پر نگراں وزیر جمیل یوسف نے چیئرمین آباد عارف یوسف کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود بھی نوکر شاہی کی جانب سے کھڑی کی جانے والی رکاوٹوں سے بخوبی آگاہ ہیں، یہی وجہ ہے کہ انھوں نے متعلقہ افسران کے ہمراہ آباد ہاؤس کا دورہ کیا تاکہ بلڈرز اور ڈیولپرز کو این او سیز کے فوری اجرا میں رکاؤٹیں دور کی جاسکیں۔

ڈائریکٹر جنرل ادارہ تحفظ ماحولیات سندھ کو ایک خط ارسال کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ کاروباری افراد کو قوانین کے مطابق این او سی فوری جاری کیے جائیں، کاروباری افراد اپنا کثیر سرمایہ کاروبار میں لگاتے ہیں اس لیے وہ این او سیز کے لیے طویل مدت تک انتظار نہیں کرسکتے۔

صوبائی وزیر نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کے افسران اپنے فرائض انجام دینے میں دلچسپی نہیں رکھتے، تاہم نئے تعینات ہونے والے ایڈیشنل سیکریٹری ممتاز سومرو محکمے میں ہونے والے کاموں میں بہتری لانے کے لیے سخت محنت کررہے ہیں۔

جمیل یوسف نے موقع پر موجود متعلقہ افسران کو احکام جاری کرتے ہوئے کہا کہ تمام درخواستوں پر فوری عمل اور اپنی ذمے داریاں قواعد و ضوابط کے مطابق مقررہ وقت پر پوری کی جائیں۔ نگراں صوبائی وزیر نے آباد کی تجویز سے اتفاق کیا کہ سیپا ایکٹ کے سیکشن17(4) کے مطابق این او سی کے اجرا کا مقررہ وقت مقرر کردہ فارم پر درج ہونا چاہیے۔

جمیل یوسف نے آباد کی تجویز سے اتفاق کیا کہ بلڈرز اور ڈیولپرز کی این او سیز کے لیے تمام درخواستیں آباد کی جانب سے تحفظ ماحولیات سندھ کو بھیجی جانی چاہئیں جس کے تحت آباد اپنے ممبران اور محکمہ تحفظ ماحولیات کے درمیان معاون کا کردار ادا کرے گی۔

قبل ازیں آباد کے چیئرمین محمد عارف یوسف جیوا نے شکایت کرتے ہوئے کہا کہ این او سیز کے اجرا کا مقررہ وقت ہونے کے باوجود محکمہ تحفظ ماحولیات سندھ کی جانب سے تاخیری حربے استعمال کیے جاتے ہیں جس کے باعث بلڈرز اور ڈیولپرز شدید پریشانی سے دوچار ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔