’’بال آف دی سنچری‘‘ عادل رشید کی بولنگ میں ثقلین نکھار لے آئے

سلیم خالق  ہفتہ 21 جولائ 2018
جادوئی گیند کو کوہلی جیسا بیٹسمین بھی نہ سمجھ پایا اور بیلز اڑگئیں، بولنگ مشیر۔ فوٹو: سوشل میڈیا

جادوئی گیند کو کوہلی جیسا بیٹسمین بھی نہ سمجھ پایا اور بیلز اڑگئیں، بولنگ مشیر۔ فوٹو: سوشل میڈیا

 کراچی:  عادل رشیدکو’’بال آف دی سنچری‘‘ میں ثقلین مشتاق کی بھی معاونت حاصل رہی، سابق پاکستانی آف اسپنر ان دنوں انگلش ٹیم کے ساتھ بطور بولنگ کنسلٹنٹ وابستہ ہیں،ان کے مشوروں کی بدولت عادل اور معین علی دونوں کی کارکردگی میں خاصا نکھار آگیا ہے۔

بھارتی بیٹسمین روایتی طور پر اسپنرز کیخلاف عمدہ بیٹنگ کرتے ہیں مگر انگلینڈ سے حالیہ ون ڈے سیریز میں عادل رشید اور معین علی نے انھیں خاصا پریشان کیا، عادل تین میچز میں 6 وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔

لیگ اسپنر نے تیسرے میچ میں کوہلی اور دنیش کارتھک کو بولڈ کرنے کے بعد سریش رائنا کو بھی پویلین بھیجا،49 رنز کے عوض 3 وکٹوں کی اس کارکردگی نے انگلینڈ کو سیریز میں فتح اور عادل کو مین آف دی میچ ایوارڈ دلایا، اس سے قبل دوسرے ون ڈے میں بھی انھوں نے 2 وکٹوں سے ٹیم کی جیت میں حصہ ڈالا تھا۔

معین علی کو کوہلی کی قیمتی وکٹ ملی تھی،اس حوالے سے نمائندہ ’’ایکسپریس‘‘ سے ووسٹر سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے ٹیم کے بولنگ مشیر ثقلین مشتاق نے کہا کہ انگلینڈ کی سیریز فتح میں دونوں اسپنرز کا اہم کردار رہا جس پر مجھے فخر ہے،خوشی کی بات ہے کہ میری رہنمائی سے ان کی بولنگ میں نکھارآنے لگا،کوہلی کو بولڈ کرنے والی گیند کو برطانوی میڈیا کی جانب سے’’بال آف دی سنچری‘‘ قرار دیے جانے پر ثقلین نے کہا کہ واقعی عادل کی وہ گیند جادوئی تھی، کوہلی جیسا بہترین بیٹسمین اسے نہ سمجھ پایا اور بیلز اڑ گئیں، ایسی بالز برسوں میں ایک بار ہی دیکھنے کو ملتی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ دھونی پر سست بیٹنگ کی وجہ سے بھارت میں تنقید ہو رہی ہے دراصل انگلش اسپنرز نے انھیں کھل کر کھیلنے ہی نہیں دیا۔ ’’دوسرا‘گیند کے موجد نے کہا کہ انگلینڈ آنے کے بعد پہلے میں لائنز ٹیم کے ساتھ منسلک رہا پھر سینئر اسکواڈ کو جوائن کر لیا، اب پھر بھارت اے سے میچ میں انگلش لائنز کی معاونت کر رہا ہوں، اسکے بعد بھارتی ٹیم سے ابتدائی تین ٹیسٹ کیلیے دوبارہ انگلینڈ کے کوچنگ اسٹاف کا حصہ بن جائوں گا۔

ثقلین نے کہا کہ عادل نے رواں برس ریڈ بال کی کرکٹ چھوڑ دی تھی حالانکہ میری رائے کے مطابق انھیں اب بھی ٹیسٹ میں حصہ لینا چاہیے، نوجوان انگلش بولرز میں آف اسپنر ڈومینک بیس بہت باصلاحیت ہیں، انھوں نے رواں برس پاکستان کیخلاف2ٹیسٹ کھیلے تھے، اسی طرح لیفٹ آرم اسپنر جیک لیچ بھی مستقبل میں نام کما سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ انگلینڈ اور بھارت کے درمیان پانچ ٹیسٹ کی سیریزکا پہلا میچ یکم اگست کو برمنگھم میں شروع ہوگا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔