ڈھول نہ پیٹیں منصوبہ بندی کریں

شاہد سردار  اتوار 22 جولائ 2018

جس طرح کسی ملک میں ٹریفک کے اژدھام کے دوران وہاں کے نظم و ضبط، قانون پسندی اور لوگوں کے مزاج سمیت بہت سی باتوں کا آسانی سے پتا چل جاتا ہے بالکل اسی طرح الیکشن کے موقعے پرکسی سماج میں موجود جمہوری روایات کی گہرائی وگیرائی اور اداروں کی پختگی کا گراف بھی خود بخود نمایاں ہوجاتا ہے۔

اس موقعے پر قوانین کی ہر سطح پر پاسداری اور آئینی ذمے داری پر مستعدی کے حوالے سے جو اچھا یا برا معیار نظر آتا ہے وہ ایک حد تک اس بات کا آئینہ بھی ہوتا ہے کہ انتخابات شفافیت اور غیر جانبداری کی کس کیفیت کے حامل ہوسکتے ہیں۔ رائج الوقت نظام پر عام آدمی کا اعتماد و یقین مستحکم کرنے کے لیے انتخابی عمل کی ساکھ کا قائم رہنا ضروری ہے۔

25 جولائی کو پاکستان میں عام انتخابات کے انعقاد کا اعلان وطن عزیزکے مخصوص حالات کے تناظر میں بلا شبہ آئینی و جمہوری عمل کے تسلسل کے حوالے سے نہایت اطمینان بخش پیش رفت ہے اور یہ امر بلا شبہ ایک نیک شگون ہی قرار دیا جائے گا کہ پاکستان کی 71 سالہ تاریخ میں مسلسل دو منتخب حکومتوں نے اپنی میعاد پوری کی ہے۔ اس سے قبل کسی بھی منتخب حکومت نے یہ سنگ میل عبور نہ کیا ۔

یہی وجہ ہے کہ جمہوریت پسند قوتیں حکومت کے آئینی مدت پوری کرنے کو بجا طور پر جمہوریت کے فروغ سے تعبیر کر رہے ہیں۔ ملکی معاملات کا آئین اور قانون کے مطابق ہی چلنا اور منتخب اداروں اور حکومتوں کا آخری لمحے تک اپنی مدت پوری کرنا، قومی و عوامی سطح پر جمہوریت شعور کے مستحکم ہونے کی ایک واضح اور خوش آئند علامت ہے۔

پاکستان کی 71 سالہ تاریخ میں اب تک جتنے بھی انتخابات ہوئے 1970 کے عام انتخابات کے بعد یہ سب سے اہم الیکشن ہے، جو 25 جولائی کو ہونے جارہا ہے،کہا جا رہا ہے کہ یہ پاکستان کے بارے میں فیصلہ کرے گا کہ آئندہ کا پاکستان کیا ہوگا؟ فی الحال اس وقت سیاست کے تمام سیاسی اور غیر سیاسی کھلاڑی ’’میچ فکسنگ‘‘ میں لگے ہوئے ہیں۔ اگرچہ کچھ ٹیمیں تبدیل ہوئی ہیں لیکن کھلاڑی سب وہی ہیں۔ ہر کسی کا کہنا ہے کہ موجودہ انتخابات ملکی تاریخ کے اہم ترین انتخابات ہوںگے، لیکن ان دعوؤں پر اعتماد کرنے کے لیے کوئی ٹھوس وجہ دکھائی نہیں دیتی۔

جس افراتفری کے ماحول میں یہ انتخابات ہورہے ہیں ، اس کے نتائج انتہائی خطرناک بھی ہوسکتے ہیں اور انتہائی متحیر کن بھی اور اس کی وجہ یہ ہے کہ مجموعی طور پر پورے کا پورا سیاسی ماحول اس قدر آلودہ ہوچکا ہے کہ اس سے دودھ اور شہد کی نہروں کا بہہ نکلنا محال ہے، اس کے بجائے کشمکش، تناؤ، ٹکراؤ اور عدم استحکام کا دہکتا ہوا لاوا زیادہ بہے گا۔ اس ضمن میں کسی کو غلط فہمی کا شکار ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ سیاسی تصورات کی مارکیٹ پر اچھی اور بری خبروں کا اثر اسی طرح ہوتا ہے جس طرح اسٹاک مارکیٹ پر۔

بد قسمتی سے ملک میں انتخابات ایسے حالات میں ہو رہے ہیں جب کوئی بھی سیاسی جماعت مضبوط نہیں ۔ پیپلزپارٹی اب پہلے والی سیاسی جماعت نہیں رہی یہ صرف اندرون سندھ تک محدود ہوکر رہ گئی ہے۔ مسلم لیگ ن کبھی ایسی سیاست جماعت نہیں رہی جو ان عوامل کا تدارک کرسکے جو انارکی کا سبب بنتے ہیں ۔ نون لیگ نے سیاست دولت کے لیے اور دولت سیاست کے لیے کا نظریہ رائج کیا اور جس طرح دولت بنائی یا سمیٹی گئی وہ حیرت کا باعث بنی۔ ایم کیو ایم چار دھڑوں میں بٹ کر اپنے تشخص اور اپنی طاقت پر خود سوالیہ نشان بن گئی ہے اور اب اس کا سحر ٹوٹ چکا ہے۔

پی ٹی آئی بہت زیادہ مقبول سیاسی جماعت بن گئی ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ تحریک انصاف میں بھی وہی آزمائے لوگ غالب آگئے ہیں جو پہلے دوسری سیاسی جماعتوں میں تھے۔ پاکستان تحریک انصاف کا ان لوگوں پر انحصار اس امر کی دلالت کرتا ہے کہ زمین پرکیفیتی تبدیلی کے کوئی آثار نہیں۔ سیاسی پنڈتوں کا کہنا ہے کہ جن لوگوں کو عمران خان کا مددگار سمجھا جا رہا ہے عمران خان ان کا حسن انتخاب نہیں بلکہ مجبوری ہیں۔ انھیں زرداری اور نواز شریف کے سامنے کھڑا توکردیاگیا ہے لیکن ان پر اعتماد نہیں کیا جا رہا۔ لہٰذا یہ انتخابات نہ تو ہمارے خوف و خدشات کا علاج کرنے جا رہے ہیں اور نہ ہی ان کی وجہ سے قوم کسی حقیقی تبدیلی کی طرف کروٹ لے گی۔

یہ ایک مسلم امر ہے کہ جمہوریت کے ذریعے سیاسی استحکام تب آتا ہے جب سیاسی جماعتیں مضبوط ہوں ۔ جمہوریت اجتماعی دانش، اجتماعی قیادت اور اجتماعی فیصلوں کا نام ہے، جو مضبوط سیاسی جماعتوں کے ذریعے ہی ممکن ہے، جب سیاسی جماعتیں مضبوط نہ ہوں تو جمہوریت نہیں آتی بلکہ انارکی پیدا ہوتی ہے۔

کڑوی سچائی یہی ہے کہ پاکستان میں سیاستدانوں نے سیاست کو اپنے اور دیگر سیاست دانوں کے لیے آگ بنا دیا ہے اور ایک دوسرے کو اس آگ میں جلانا چاہتے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ پر نگاہ کی جائے تو پتا چلتا ہے کہ سیاست صرف جاگیرداروں، وڈیروں، چوہدریوں اور صنعت کاروں سے منسوب ہوکر رہ گئی ہے۔ اسی لیے عام انسان کبھی ملکی ایوانوں تک نہیں پہنچ پاتا اور جدی پشتی (فیوڈل سسٹم) کے تحت چلایا جا رہا ہے ۔ پاکستان کی سیاست، سیاستدانوں اور اس کی بیوروکریسی پر نظریں دوڑائیں تو صہبا اختر کا یہ شعر اس پر پوری طرح صادق آتا ہے کہ:

شکارگاہ کی خواہش تھی ملک گیروں کو

بطور خاص میرا ملک انتخاب ہوا

کتنے عرصے سے پاکستان میں سیاست سب سے بری اور گندی چیز بنی ہوئی ہے یہ کتنے کرب کی بات ہے۔ ہوٹلوں اور چائے خانوں وغیرہ میں بڑے حروفوں سے لکھا ہوتا ہے کہ ’’سیاسی گفتگو سے پرہیزکریں‘‘ سمجھ دار لوگ اپنی نسلوں کو سیاست کے گند سے بچنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ سیاست کو ایک بدنام پیشے کا تصور خود سیاست دانوں نے اپنے عمل سے کیا ہے، جب کہ پاکستان کے علاوہ سیاست کو سب سے اہم اور مقدس عمل کہاجاتا ہے جو کروڑوں زندگیوں کی تقدیر کا فیصلہ کرتی ہے، ان کی منزل کا تعین کرتی ہے، راستہ دکھاتی ہے، لوگوں کو بہتر مستقبل فراہم کرتی ہے۔ انھیں تحفظ مہیا کرتی ہے لیکن ہمارے ہاں برسہا برس سے سیاست دان صرف ملک کو لوٹنے، مال بنانے اور اپنی نسل کو سنوارنے اور ملک کو اجاڑنے اور کھوکھلا کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ سیاست جیسا مقدس، حساس اور اہم ترین ادارہ یا شعبہ کردار کشی، وطن فروشی اور ضمیر فروشی کے جس مقام پر پہنچادیا گیا ہے اسے دیکھ کر سر شرم سے جھک جاتا ہے۔

بہر کیف 2018 کے انتخابات قوم اور تمام سیاسی پارٹیوں کے لیے موقع فراہم کرتے ہیں کہ وہ ماضی و حال کے تناظر میں خود احتسابی کے ذریعے اپنی غلطیوں اورکوتاہیوں کا اچھی طرح جائزہ لیں اور ایک مستحکم اور خوشحال پاکستان کے لیے تن من دھن سے کام کرنے کا عہد کریں۔ ماضی کے ڈھول پیٹنے کے بجائے مستقبل کی منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔ شخصیات سے زیادہ ایشوز کو اہمیت دینی چاہیے کہ شخصیات آتی جاتی رہتی ہیں لیکن جن اصولوں اور مقاصد کے حصول کے لیے پارٹیاں قائم ہوتی ہیں انھیں دوام حاصل ہوتا ہے ۔

تمام سیاسی پارٹیوں کو چاہیے کہ ملک و قوم کے حقیقی مسائل کا قابل عمل حل پیش کریں۔ انھیں الزام تراشی، اشتعال انگیزی، بد زبانی اور عدم تحمل کی روش ترک کرکے پوری سنجیدگی کے ساتھ اپنی سیاسی توجیہات کا محور ملک کو درپیش مسائل اور چیلنجوں کا قابل عمل حل پیش کرکے خود کو تاریخ میں امر کرلینے کے جتن کرنے چاہئیں توقع کی جانی چاہیے کہ ہمارے آئندہ پانچ سال گزرے ہوئے پانچ سالوں کے مقابلے میں زیادہ بہتر ہوںگے۔ ملک محفوظ و مستحکم ہوگا اور عوامی مسائل حل ہوںگے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔