لوئر دیر میں خواتین ووٹ نہیں ڈال سکیں گی، جماعت اسلامی اور پی پی میں معاہدہ

خواتین آبادی کا53فیصدہیں،صوبائی وزیراطلاعات نے معاہدے کی شکایت الیکشن کمیشن کو بھجوادی،نجی ٹی وی کاانکشاف. فوٹو: فائل

خواتین آبادی کا53فیصدہیں،صوبائی وزیراطلاعات نے معاہدے کی شکایت الیکشن کمیشن کو بھجوادی،نجی ٹی وی کاانکشاف. فوٹو: فائل

لوئردیر / سوات: صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع لوئردیر کے ایک صوبائی حلقے میں جماعت اسلامی اور پیپلزپارٹی نے خواتین کے ووٹ ڈالنے پر پابندی کا معاہدہ کرلیا، صوبائی وزیراطلاعات نے الیکشن کمیشن پاکستان کو واقعے کی شکایت بھجوادی۔

نجی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے بتایاہے کہ لوئردیر کے حلقہ پی کے94 میں خواتین کے ووٹ ڈالنے پر پابندی کا معاہدہ کرلیا گیا۔ یہ معاہدہ پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی کے درمیان ہواہے۔ پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی کے معاہدے میں کہا گیاہے کہ خواتین کو حلقے میں ووٹ ڈالنے نہ دیاجائے۔ ٹی وی کے مطابق صوبائی وزیر اطلاعات مسرت قدیم کا کہناہے کہ خواتین کے ووٹ ڈالنے پر پابندی کے معاہدے کی شکایت الیکشن کمیشن پاکستان کو بھجوادی گئی ہے۔ انھوں نے کہاہے کہ خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکنا جرم ہے۔ ہمیں اندازہ تھاکہ کچھ علاقوں میں عورتوں کو ووٹ ڈالنے سے روکنے کی کوشش کی جائے گی۔ صرف لوئردیر میں نہیں، ایسا بہت سے علاقوں میں ہواہے۔ ہم معلومات اکٹھی کر رہے ہیں۔ بونیر سے ایسے ہی واقعے کی خبر ہمیں 3,4روز قبل ملی تھی مگر کوئی کنفرم نہیں کررہا۔ عورتوں کو ووٹ ڈالنے سے روکنے کی سزا قید اور جرمانہ ہے۔

دوسری جانب الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق ان کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں ہے کہ وہ پولنگ کے دن خواتین کو گھروں سے نکال کر پولنگ اسٹیشنوں تک پہنچائیں۔ ملاکنڈڈویژن کے ضلع لوئردیر سے ذرائع کے مطابق صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی کے97 میں مقامی عمائدین اور مشران نے خواتین کے ووٹ ڈالنے پر پابندی لگائی ہے اور اس کی وجہ سیکیورٹی خدشات بتائے گئے ہیں۔ اس علاقے سے بائیںبازو کی جماعتوں میں پیپلزپارٹی کے علاوہ عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار بھی میدان میں ہیں۔ دوسری جانب علاقوں میں حقوق انسانی کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم دیہی اجتماعی اور ترقیاتی سوشل ورکرز کونسل کے صدر اکبرخان کے مطابق دیر میں 1970ء اور 1977ء کے عام انتخابات میں آخری بار خواتین نے ووٹ ڈالا تھا تاہم اس کے بعد مذہب اور سخت گیر پشتون روایات کی وجہ سے خواتین کو ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔

صحافی سید انورشاہ کے مطابق الیکشن کمیشن کے علاقائی اعلیٰ اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایاکہ الیکشن کمیشن کے پاس ایسا کوئی اختیار نہیں ہے کہ خواتین کو پولنگ کے دن گھروں سے باہر نکال کر پولنگ اسٹیشنوں تک لایا جائے۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ملاکنڈڈویڑن کی آبادی 50لاکھ کے قریب ہے جس میں 53فیصد آبادی خواتین کی ہے لیکن شانگلہ، اپردیر، لوئردیر  ایسے اضلاع ہیں جہاں خواتین کے حق رائے دہی کا استعمال پختون یا علاقے کے روایات کے منافی سمجھا جاتاہے۔ شانگلہ میں کچھ عرصہ قبل صوبائی حلقہ پی کے87 میں منعقد ہونے والے ضمنی انتخابات میں بھی خواتین کو ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس علاقے میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد ایک لاکھ 45ہزار854 تھی جبکہ اس میں خواتین ووٹرز کی تعداد 59 ہزار تھی۔

الیکشن کمیشن کے مطابق 2008 کے عام انتخابات میں بھی لوئر و اپردیر اور شانگلہ میں خواتین کے ووٹ ڈالنے پر پابندی کے باعث ان علاقوں میں خواتین کی اکثریت حق رائے دہی سے محروم رہی تھی تاہم بونیر کے چند پولنگ اسٹیشنز پر کچھ خواتین نے ووٹ ڈالے تھے۔ ادھر نمائندہ ایکسپریس کے مطابق سوات میں خواتین کی تنظیم ’خوئندوٹولنہ‘ کی سربراہ تبسم بشیر نے میڈیا کو بتایا کہ یہاں مختلف مقامات پر جرگے کرکے خواتین کو ووٹ ڈالنے سے منع کیاجا رہاہے۔ جس پولنگ اسٹیشن پر خواتین کا ووٹ کم ہوگا اس کے نتائج ہمیں قبول نہیں ہوںگے۔ انھوں نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیاکہ وہ خواتین کے ووٹ ڈالنے کو یقینی بنائے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔