ملکی سیاست اور ہماری مذہبی و معاشرتی اخلاقیات

عبدالواحد  منگل 24 جولائ 2018
اخلاقیات سے عاری اور جھگڑالو لوگوں نے سوشل میڈیا کو یرغمال بنا رکھا ہے جو گالی کے سوا بات ہی نہیں کرتے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

اخلاقیات سے عاری اور جھگڑالو لوگوں نے سوشل میڈیا کو یرغمال بنا رکھا ہے جو گالی کے سوا بات ہی نہیں کرتے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

آج کل الیکشن کا دور دورہ ہے اور سیاستدان اپنے مخالفوں کو زچ کرنے کےلیے نت نئے ہتھکنڈے آزما رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر خرافات کا ایسا بھونچال آیا ہوا ہے کہ غلط اور صحیح کی پہچان کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ ایسے لگتا ہے جیسے سب پارٹیوں کے کارکنان نے بے غیرتی میں سبقت لے جانے کی قسم کھائی ہوئی ہے۔ ایسے اخلاقیات سے عاری اور جھگڑالو قسم کے لوگوں نے سوشل میڈیا کو یرغمال بنا رکھا ہے جو گالی کے سوا بات ہی نہیں کرتے۔ یہ کون سا کلچر ہم پروان چڑھا رہے ہیں؟ کس قسم کی قوم و ملت کی ہم آبیاری کر رہے ہیں؟

ہم ایک ایسا کلچر پروان چڑھا رہے ہیں جو ہماری مذہبی اور ثقافتی روایات کے بالکل منافی ہے۔ ہم شاید اپنے اسلاف کی درخشاں روایات کو بھول گئے ہیں۔ ہمارے نبی ﷺ تو دشمن کو بھی عزت دیا کرتے تھے۔ دشمن کو انصاف پہنچانے کےلیے اس کے مذہب کے مطابق فیصلے کیا کرتے تھے۔ اچھا ہوتا اگر تمام سیاسی پارٹیاں الیکشن سے پہلے سوشل میڈیا اور الیکشن کمپین کےلیے کوئی ضابطہ اور قانون بنالیتیں تاکہ بین الااقوامی سطع پر پاکستان کی یوں سبکی نہ ہوتی اور عام آدمی بھی کھرے اور کھوٹے کی پہچان کر پاتا اور ووٹ دینے کےلیے آسانی سے اپنا فیصلہ کر پاتا۔ ہر پارٹی کے ورکرز اخلاقی طور پر اس حد تک گر چکے ہیں کہ کسی کی بہن اور بیٹی کی کوئی عزت محفوظ نہیں۔ انتہائی نچلے درجے کی جنگلی اور حیوانی زبان کا استعمال کیا جارہا ہے جو بطور مسلمان ہماری شاندار روایات کے شایان شان نہیں۔

ہر سیاسی جماعت کو چاہیے کہ دوسروں پر تنقید کرنے کے بجائے اپنے منشور کی طرف توجہ دے تو میرے خیال میں سب پارٹیوں کےلیے بہتر ہوگا۔ پانچ سات سال پرانے الزامات لگانے کے بجائے لوگوں کو اپنا منشور دیجیے، وہ منشور جسے وہ پورا بھی کرسکیں۔ سبز باغ دکھانے والی روایت بہرحال ختم ہونی چاہیے۔ اس قوم نے ستر سال سے سیاستدانوں کا بہت جھوٹ سن لیا۔ اب عمل کرکے دکھائیں اور لوگوں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں۔ کتنی بد قسمتی کی بات ہے کہ ہر سیاست دان نے دعوے تو بہت کیے ہیں لیکن عملاً اس ملک کے عوام کےلیے کچھ نہیں کیا۔ پاکستان میں کوئی ایسا علاقہ نہیں جس کے مسائل نہ ہوں۔ چند بااثر خاندانوں کی سیاست میں اجارہ داری ہے جنہوں نے اس ملک کے مسائل کو کم کرنے کے بجائے اور بڑھا دیا ہے۔

دشمن ہر طرف سے ہم پر یلغار کیے ہوئے ہے لیکن ایک ہم ہیں کہ وہی ستر سال پہلے والی خرافات میں اٹکے ہوئے ہیں۔ ہر جگہ پر جھوٹ کی فراوانی ہے۔

پی ٹی آئی والوں نے جب تبدیلی کا نعرہ لگایا تو ہر طبقہ فکر کے لوگ اس کی طرف متوجہ ہو ئے۔ 2013 میں اسے صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت ملی تو ہر ایک نے وہ تبدیلی دیکھنے کی خواہش کی جس کا اس کے قائد عمران خان نے اپنی تقاریر میں برملا اظہار کیا تھا۔ لیکن یہ سیاسی جماعت بھی روایتی سیاست میں الجھ گئی اور کوئی خاطر خواہ نتیجہ عوام کو ڈیلیور نہ کرسکی۔ اس نے پانچ سال دھرنوں اور ن لیگی حکومت گرانے میں ضائع کردیئے۔ میری رائے یہ ہے (بلکہ میری طرح بہت سے لوگوں کا خیال ہے) کہ جتنا سرمایہ پی ٹی آئی نے دھرنوں اور افرا تفری پھیلانے پر خرچ کیا، وہی پیسہ اگر وہ اپنے صوبے کے پی کے میں عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کرتی تو آج پی ٹی آئی کو تمام پارٹیوں کا کچرا اکٹھا کرنے کی ضرورت نہ پڑتی۔

اگرپی ٹی آئی کاٹھ کباڑ اکٹھا کرکے جیتنے میں کامیاب ہو بھی گئی تب بھی وہ ایک ایسا کلچر پیچھے چھوڑ جائے گی کہ آئندہ دنوں میں اخلاقیات کا جنازہ نکل جائے گا۔ عمران خان کی ترجیح ان کے اپنے کارکن ہونے چاہئے تھے جنہوں نے 12 چودہ سال پارٹی کا ساتھ دیا تھا، ہر گرمی سردی میں اپنی پارٹی کے ساتھ کھڑے رہے۔ لیکن اپنے نظریاتی کارکنوں کو نظرانداز کرکے لوٹوں کو ٹکٹ دینے اور نوازنے پر گویا وہ اپنے قول و فعل میں تضاد کے مرتکب ٹھہرے اور آنے والے وقت میں اپنے لیے مسائل کا انبار لگالیا۔ انہیں چاہیے تھا کہ وہ پہلے اپنے کارکنوں کو ٹکٹ دیتے اور پارٹی فلور کراسنگ کرنے والوں کو انتظار کرواتے۔ اس طرح ایک تو ان کے اپنے کارکنوں کی حوصلہ افزائی ہوتی، وہ کامیابی کےلیے اور زیادہ محنت کرتے، تو دوسرے پارٹی فلور کراس کرنے والوں کی بھی حوصلہ شکنی ہوتی اور آئندہ ہر سیاستدان ایسا کرنے سے پہلے سو بار سوچتا۔

لیکن وقتی فائدے کےلیے کانٹے اپنی جھولی میں بھرلیے۔ آج جو لوگ دوسری پارٹیاں چھوڑ کر پی ٹی آئی میں شامل ہورہے ہیں، کیا عمران خان ان کے بارے میں دعوٰی کر سکیں گے کہ جب برا وقت پی ٹی آئی پر آئے گا تو یہ تمام لوگ اس کا ساتھ دیں گے؟ وقت آنے پر یہ فصلی بٹیرے نئی اڑان بھرنے کےلیے پر پھڑ پھڑا رہے ہو ں گے۔ ان کے نظریاتی کارکن پی ٹی آئی کی پالیسی میکنگ سے ناراض دکھائی دے رہے ہیں۔ جناب عمران خان کے اپنے کارکن ان کی باتوں پر کیسے یقین کریں گے کہ جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں وہ سچ ہے یا جھوٹ۔ عمران خان نے اپنے وقتی فائدے کےلیے اپنے ہی نظریاتی کارکنوں کو بدظن کردیا اور ان کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی۔

کرپشن اور اقربا پروری ہمارے معاشرے میں ناسور کی طرح پھیل چکے ہیں۔ غریب عوام کو ان کے جائز حق سے محروم کیا جا رہا ہے۔ غریب لوگ اپنے بچوں کی دو وقت کی روٹی پوری کرنے سے قاصر ہیں تو دوسری طرف سرے محل، دبئی محل، ایون فیلڈ فلیٹس اور بنی گالا محل کے شاہانہ ٹھاٹھ باٹ ہیں جو اس قوم کی لوٹی ہوئی دولت سے بنائے گئے ہیں۔ ان لوگوں کا احتساب ہونا چاہیے۔ کوئی ایسا فورم ہونا چاہیے جس پر سب لوگ متفق ہوں، جو ان لوگوں کا احتساب کرے اور ایسا احتساب جس پر کوئی انگلی نہ اٹھا سکے۔

پاکستان کی عدالتوں پر لوگوں کا یقین متزلزل ہے۔ ماضی کے تجربات اتنے حوصلہ افزا نہیں رہے۔ ہماری عدالتوں کو چاہیے کہ پہلے اپنی عزت بحال کروائیں؛ اور عوام کو سستا اور بروقت انصاف مہیا کریں۔ اگر ایک معمولی کیس کا فیصلہ پانچ سے دس سال میں کرنا ہے تو عام آدمی تو انصاف کے چکر میں اپنی جمع پونجی سب کچھ عدالتوں کے چکرمیں لٹا دیتا ہے۔ اگر دس یا پندرہ سال بعد کیس کا فیصلہ اس کے حق میں آ بھی جاتا ہے تب تک وہ بیچارہ سب کچھ لٹا چکا ہوتا ہے۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ فیصلے وہی لٹکانا چاہتا ہے جو غلط ہے۔ سچا آدمی کیس کا فیصلہ میرٹ پر اور بروقت چاہتا ہے۔

ہم ایک مردہ ضمیر قوم ہیں۔ کسی کی تکلیف اور دکھ کا احساس ہمیں نہیں ہوتا۔ ہم صرف اپنے آپ کو خوش دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہمارے دل و دماغ میں منفی سوچ سما چکی ہے۔ کہتے ہیں کہ سامنے والے کا چہرہ ایک آئینہ ہوتا ہے جس کے اندر وہی نظر آتا ہے جو انسان کے اپنے اندر ہوتا ہے۔ ہم اپنے مستقبل کی تربیت جھوٹ، دروغ گوئی اوربداخلاقیات سے کر رہے ہیں۔ آج ہم جو کچھ بورہے ہیں، جب یہ فصل پک جائے گی تو ہمیں احساس ہوگا کہ ہم نے کیا بویا۔

میری رائے یہ ہے کہ ہر پارٹی کو اپنا ایک اخلاقی پلیٹ فارم بنانا چاہیے جو اپنے اپنے کارکنوں کی اخلاقی تربیت کرے اور غلط اور صحیح کے بارے میں بتائے تاکہ ہم ایک ایسی فصل تیار کر سکیں جسے کاٹتے وقت ہمیں شرمندگی نہ ہو۔ آج کے اس دور میں ہم خود کو بہت زیادہ ہوشیار اور دانشور سمجھتے ہیں۔ ہم کسی کی عزت کی طرف انگلی اٹھانے میں دیر نہیں لگاتے۔ بغیر تحقیق کیے ہم ہر بات فوراً کہہ ڈالتے ہیں جو بہتان بازی کے زمرے آتی ہے، جس کی پکڑ اللہ کے نزدیک بہت زیادہ ہے۔

سیا ست اپنی جگہ لیکن سیاست کے ساتھ ساتھ ہمارا تعلق ایک ایسے مذہب سے بھی ہے جو اخلاقیات کا درس دیتا ہے، جس نے ہر عمر کے انسان کو خواہ وہ مرد ہو، عورت ہو، بچہ ہو یا بوڑھا، عزت کا مقام دیا ہے۔ پارٹی ورکرز اپنے خیالات اور سیاسی وابستگی کا اظہار ضرور کریں، یہ ہر شہری کا بنیادی حق ہے، لیکن اخلاق کے دائرے میں رہ کر اپنی سیاسی پارٹی کو پروموٹ کریں۔ ہر آدمی کا اپنا ایک نقطہ نظر ہوتا ہے، ضروری نہیں کہ جسے آپ پسند کرتے ہیں دوسرا بھی اسی کو پسند کرے۔ اسی لیے اخلاقیات کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔ اگر آپ کسی کی عزت کا خیال رکھیں گے تو دوسرا بھی آپ پر اخلاق کے دائرے میں رہ کر تنقید کرے گا۔ اور اگر آپ غلیظ زبان استعما ل کریں گے تو یوں سمجھیے کہ دوسرا بھی آپ سے دو ہاتھ آگے ہے۔ اس سے زیادہ کی توقع رکھیے۔

ہمارے نبی اکرم ﷺ عورتوں کا بہت احترام کیا کرتے تھے۔ حضرت فاطمہؓ جب بھی آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتیں، آ پ ﷺ اپنی چادر بچھاد یتے۔ اگر کوئی غیر مسلم بھی آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا تو آپ اسے بھی عزت دیتے اور خاطر تواضع فرماتے۔ آپ ﷺ کے دربار سے کبھی کوئی دھتکارا نہ گیا۔

ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اپنے سیاسی مخالفین پر کیچڑ پھینکنے کے بجائے اخلاقیات کے دائرے میں رہ کر ان پر تنقید کریں اور بالخصوص عورتوں کے بارے میں اخلاق سے گرے ہوئے کلمات کا استعمال نہ کریں۔ ذہن نشین رکھیے کہ ہمارا تعلق اسلامی گھرانوں سے ہے۔ یہ سیاست کا ماحول چند دن کا ہے، ہمیں ہمیشہ ایک ہی جگہ رہنا ہے۔ پھر ہم انسانیت کے درجے سے نیچے کیوں گریں؟ کسی کی بات کا جواب دلائل سے دے کر قائل کیجیے۔ اگر کوئی آپ کے نقطہ نظر سے متفق نہیں ہورہا تو اپنا فیصلہ زبردستی اس پر نہ ٹھونسیے۔ یہیں سے بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔

یہ میرے دل کی آواز تھی جو میں آپ لوگوں سے شیئر کرنا چاہتا تھا۔ اگر میری کسی بات سے آپ کو رنج پہنچا ہو تو بندہ معافی کا طالب ہے۔ ہر کسی کا میرے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ کو میری کوئی بات اچھی لگی ہو تو اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کی اصلاح کرنے کی کوشش کیجیے گا، ہوسکتا ہے کہ آپ کی معمولی سی کوشش سے کسی کی اصلاح ہو جائے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔