فوج نشانہ؛ آخر کیوں؟

محمد عمران چوہدری  منگل 24 جولائ 2018
ڈیلیور کرنے میں ناکامی، ذاتی مفادات کی تکمیل، خود کو خبروں میں رکھنا وغیرہ بھی فوج پر تنقید کی وجوہ ہوسکتی ہیں۔ (فوٹو: فائل)

ڈیلیور کرنے میں ناکامی، ذاتی مفادات کی تکمیل، خود کو خبروں میں رکھنا وغیرہ بھی فوج پر تنقید کی وجوہ ہوسکتی ہیں۔ (فوٹو: فائل)

اپنے قیام کی ابتدا ہی سے پاکستان کو جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ان میں سےایک اہل اور ایماندار قیادت کا فقدان بھی تھا۔ اس صورتحال کا ادراک قائد اعظم محمدعلی جناحؒ کو بھی تھا۔ ان سے منسوب یہ جملہ اس بات کی بہترین عکاسی کرتا ہے: ’’میری جیب میں کھوٹے سکے ہیں۔‘‘ قائداعظم کی وفات اور لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد حالت مزید ابتر ہوگئی جسے پنڈت نہرو نے ان الفاظ میں بیان کیا: ’’اتنی تو میں دھوتیاں نہیں بدلتا، جتنی پاکستان میں حکومتیں بدلتی ہیں۔‘‘

اور پھر یکے بعد دیگر آنے والے مارشل لاز کی بدولت آج صورتحال یہ ہے کہ ملک کے اکثر بڑے سیاستدان آمریت کی نرسری میں پروان چڑھے ہیں۔ صورتحال اس وقت مضحکہ خیز ہوجاتی ہے جب یہ سیاستدان بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر اسٹیبلشمنٹ پر تنقید کرتے ہیں۔ آج سے کچھ عرصہ پہلے تو یہ تنقید پردے میں رہ کر کی جاتی تھی مگر جب سے انہیں خیال سوجھا ہے کہ فوج عمران خان کو سپورٹ کررہی ہے، تب سے براہِ راست فوج کو نشانہ بنایا جارہا ہے یا بنوایا جارہا ہے۔ حالات کی نزاکت کے پیش نظر آئی ایس پی آر کے ترجمان کو وضاحت بھی کرنا پڑی۔ مگر اس وضاحت کے جواب میں ’’میں نہ مانوں‘‘ کا راگ الاپا گیا۔ آئیے ان ممکنہ وجوہ کا جائزہ لیتے ہیں جن کی وجہ سے ہمارے معزز سیاستدان فوج کو ہدف بناتے ہیں:

ایک وجہ تو یہ ہوسکتی ہے جو جنرل (ر) مشرف نے اپنے ایک انٹرویو میں بیان کی تھی کہ معیشت کی دگرگوں صورتحال کی وجہ سے آرمی چیف کو وزیراعظم کو اپروچ کرنا پڑتا ہے جسے وزیراعظم صاحب ’’مائنڈ‘‘ کرجاتے ہیں جس کے بعد میڈیا میں ایسے بیانات سننے کو ملتے ہیں کہ ادارے اپنی حدود میں رہیں، ہمیں ایک دوسرے کے مینڈیٹ کا احترام کرنا ہوگا وغیرہ۔

دوسری بڑی وجہ سیاستدانوں کی قابلیت ہوسکتی ہے۔ اس ملک میں آپ کو یونیورسٹی کا کلرک بھرتی ہونے کےلیے تو تعلیمی قابلیت کی ضرورت ہوتی ہے مگر چانسلر بننے کےلیے صرف سیاستدان ہونا کافی ہے۔ یہی وجہ ہے جعلی ڈگری کیس میں جب ایک لیڈر کو نااہل کیا گیا تو خبر کچھ یوں تھی: ’’جن کے دستخطوں سے لوگ ڈگریاں پاتے رہے، وہ خود نااہل ہوگئے۔‘‘ اسی قبیل کے لوگ اپنی نااہلیت پر پردہ ڈالنے کےلیے فوج پر تنقید کرتے ہیں۔

ڈیلیور کرنے میں ناکامی، ذاتی مفادات کی تکمیل، اپنے آپ کو خبروں میں اِن کرنا وغیرہ بھی فوج پر تنقید کی وجوہ ہوسکتی ہیں۔

اب جب کہ حالات و واقعات اس طرف اشارہ کر رہے ہیں، اغلب امکان ہے کہ آنے والی حکومت پی ٹی آئی کی ہوگی۔ اگر خان صاحب بھی روایتی سیاستدانوں کی طرح ڈیلیور کرنے میں ناکام رہےتو کل کو وہ بھی اپنی ناکامی کو خفیہ ہاتھوں کی کارستانی قرار دے رہے ہوں گے۔ لیکن اگر انہوں نے تعلیم، صحت، معیشت، عدلیہ، بیرونی قرضہ جات، بیوروکریسی وغیرہ پر فوکس کیا تو نہ صرف یہ کہ نکالنے والے سلیوٹ کرنے پر مجبور ہوجائیں گے، بلکہ وہ طیب اردوان کی طرح ہمیشہ کےلیے امر ہوجائیں گے۔ بصورت دیگر کون نہیں جانتا کہ امریکی عدالت کے مردہ اور ناقابل عمل فیصلے میں جان ڈالنے میں کتنی دیر لگے گی؛ اور تبدیلی کے متوالے شعور، آگہی سے آراستہ یہ نوجوان جو خان صاحب کی طاقت ہیں، اپنے حقوق کی تلاش میں ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کی طرح بنی گالہ پر ٹھڈوں کی بارش کررہے ہوں گے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

محمد عمران چوہدری

محمد عمران چوہدری

بلاگر پنجاب کالج سے کامرس گریجویٹ ہونے کے علاوہ کمپیوٹر سائنس اور ای ایچ ایس سرٹیفکیٹ ہولڈر جبکہ سیفٹی آفیسر میں ڈپلوما ہولڈر ہیں اور ایک ملٹی اسکلڈ پروفیشنل ہیں؛ آپ کوچہ صحافت کے پرانے مکین بھی ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔