میرا ووٹ میرا حق

شبیر احمد ارمان  منگل 24 جولائ 2018
shabbirarman@yahoo.com

[email protected]

خواتین کی فلاح و بہبود میں سرگرم عمل سماجی ادارہ ویمن ڈیولپمنٹ فاؤنڈیشن پاکستان عرصہ دراز سے خواتین کی ترقی کے لیے کوشاں ہے، گزشتہ دنوں اس کے زیر اہتمام ’’ میرا ووٹ ، میرا حق‘‘ کے عنوان سے سیاسی جماعتوں کے نمایندوں کے ساتھ ایک مباحثے کا اہتمام کیا گیا ، تقریب کا آغاز آصفہ نے کلام پاک کی سعادت حاصل کرتے ہوئے کیا۔

اس تقریب کی میزبانی کے فرائض محترمہ حرا امبرین نے ادا کیے ، پروگرام مینیجر ظفر اقبال نے مہمانوں کو خوش آمدید کہا ، سی ای او صبیحہ شاہ نے اپنے خطاب میں ویمن ڈیو لپمنٹ فاؤنڈیشن پاکستان کے پرو گراموں کے حوالے سے ایک تعارفی پریزیٹیشن پیش کی اور اس میں ویمن ڈیولپمنٹ فاؤنڈیشن پاکستان کی تمام تر سرگرمیوں کو نمایاں طور پر پیش کیا۔

انھوں نے کہا کہ اس طرح کی سرگرمیاں مزید ہوتی رہیں گی جاری تقریب بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ، ٹی ڈی ای اے اور فافین نے ان کی فاؤنڈیشن کے ذریعے انتخابات سے پہلے کی مختلف سر گرمیاں کروائیں جن میں خواتین کے لیے آگہی کی نشستیں،کمپیوٹرائز قومی شناختی کارڈ کی ضرورت اور اس کا اجراء ، خواتین کی ووٹ کی اہمیت اور ان کے ووٹ ڈالنے کے فرض کی ادائیگی کے لیے نشستیں کروائیں ، مختلف سیاسی جماعتوں کے نمایندوں سے ملاقاتیں ، ان کے اجلاسوں کے تجزیے اور منشور مطالبات کا اجراء بھی اس میں شامل رہے ۔

مختلف حلقہ جات کی خواتین کو انتخابات کے دن تجزیہ اور مشاہدہ کرنے کی تربیتی نشست کروائی گئیں خواتین کو بااختیار بنانے اور بہتر مساوات کو یقینی بنانا ممکنہ طور پر سب سے موثر چیزوں میں سے ہے جو کسی بھی معاشرے کی ترقی کے لیے بہت اہم ہیں ۔

بے شک یہ ایک معاشرہ ہے جو خواتین کو ان کی صلاحیتوں کی مکمل حد تک زندگی کے تمام شعبوں میں شراکت دینے کے لیے حوصلہ افزائی نہیں کرتا اور ایسے معاشرے میں خواتین کے حق رائے دہی کے اختیار کو بھی بہت محدود کردیا جاتا ہے ۔ فی زمانہ خواتین کے اس حق کے استعمال کو بہت محدود کردیا گیا ہے ۔ٹی ڈی ای اے اور ایف اے ای این ملک میں شہری آزادی ، حق خودارادیت ، بہتر حکومت اور جمہوریہ میں امن کے لیے کوشش کرنے کی صلاحیتوں کو بڑھانے کے اقدامات کرتا ہے ۔ویمن ڈیولپمنٹ فاؤنڈیشن پاکستان کی اس تقریب کے اہتمام اور منعقد کرنے میں ان دونوں رہا ۔

بعد ازاں ایک مباحثے کا اہتمام کیا گیا جس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے نمایندوں نے شرکت کی اور خواتین کے حقوق ، کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ کی ضرورت اور اس کا اجراء ، خواتین کے ووٹ کی اہمیت اور ان کے ووٹ ڈالنے کے فرض کی ادائیگی پر اپنی جماعت کا نقطہ نظر پیش کیا ۔ مباحثے کی نظامت کے فرائض ناجیہ اشعر نے انجام دیے ۔اس موقعے پر پاکستان تحریک انصاف کی ہما راحت نے کہا کہ بلین ٹری سونامی پروگرام کے تحت ان کی پارٹی مقامی سطح پر مکمل اختیار خواتین کو ہی دیا جس سے ہماری پارٹی کی پالیسی بہت واضح ہیں کہ خواتین کو وہ تمام حقوق مکمل طور پر دیے جائیں جن کا وہ حق رکھتی ہیں۔ میرا یہاں ہونا ہی اس بات کا ثبوت ہے۔

ایم کیو ایم پاکستان کی منگلا شرمہ نے کہا کہ ہماری اولین روز سے یہ پالیسی ہے کہ خواتین کے ساتھ کبھی بھی امتیازی سلوک روا نہ رکھا جائے اور اسی وجہ سے آپ کو کبھی بھی ایم کیو ایم پاکستان میں خواتین و حضرات کے درمیان غیر متوازن تناسب نظر نہیں آئے گا ۔ نیشنل پارٹی کی شاہینہ رمضان نے کہا کہ ہماری جماعت نے ہمیشہ امتیازی قوانین کے خلاف آواز اٹھائی ہے اور اس پر مکمل عمل پیرا ہیں ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے صائب خان نے کہا کہ روز اول سے ہم خواتین کے حقوق کے عملدار رہے ہیں ، بے نظیر بھٹو خود بھی ایک ہمہ جہت خاتون تھی اور ہماری جماعت بی بی شہید کے نقش قدم پر چل کر ان کے وعدے کو نبھائے گے ۔ مباحثے کے اختتام پر ناجیہ اشعر نے اختتامی کلمات ادا کیے اور فروداشت پیش کیں ۔

مباحثے کے بعد ڈبلیو ڈی ایف پی کی جنرل سیکریٹری عابدہ میمن نے حاضرین کے سامنے انگریزی زبان میں تینوں گروپس کا منشور پیش کیا ۔ پروگرام مینجر ظفر اقبال نے حاضرین کے سامنے اردو زبان میں تینوں گروپس کا منشور تقابل پیش کیا ۔ڈبلیو ڈی ایف پی کے قائم مقام صدر یوسف بلوچ نے اظہار تشکرکرتے ہوئے تمام شرکاء ، معززمہمانان گرامی ، رضا کاروں کو خراج تحسین پیش کیا ۔ بعد ازاں رضاکارانہ خدمات پیش کرنے پر ناجیہ اشعر ، سجاد علی خان اور حرا امبرین کو تعریفی اسناد پیش کی گئیں ۔

تقریب میں ٹی ڈی ای اے ، ایف اے ای اور ڈبلیو ڈی ایف پی کی جانب سے مشترکہ مطالبات منشور پیش کیا گیا جو کہ درج ذیل ہے ۔

٭خواجہ سرا : 1: کاغذات نامزدگی میں خواجہ سراؤں کے لیے علیحدہ خانہ بھی ہونا چاہیے ۔2:خواجہ سرا تحفظ حقوق 2017ء بل کو خواجہ سرا برادری کی تجاویزکے بعد نافذکیا جائے ۔3: پاکستان پینل کوڈ میں تبدیلی کرکے خواتین وحضرات کے ساتھ خواجہ سراؤں کا ذکر بھی کیا جائے ۔4: آئین میں ترمیم کرکے یہ اعلان کیا جائے کہ جنس کی بنیاد پرکوئی تفریق نہ کی جائے ۔5: پاکستان پینل کوڈ میں تبدیلی کی جائے اور خواجہ سراؤں کے خلاف جنسی تشدد کو سوڈومی کے بجائے عصمت دری کا نام دینے پر غور کیا جائے ۔

6: قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں خواجہ سراؤں کے لیے نشستیں مخصوص کی جائیں ۔7: پولنگ اسٹیشنز پر ، پولنگ کے فرائض انجام دینے والے عملے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خواجہ سراؤں کے بارے میں سنجیدہ رویہ رکھنا چاہیے ۔ 8: الیکشن کمیشن اور نادرا کو خواجہ سراؤں کے اداروں اور گرووں سے رابطے کرکے ان کے شناختی کارڈ بنانے کویقینی بنایا جائے ۔ 9: کمپیوٹرائز قومی شناختی کارڈ حاصل کرنے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر خواجہ سراؤں کو سہولت فراہم کی جائے ۔ 10: الیکشن کمیشن کو چاہیے کہ وہ خواجہ سراؤں ، معذورافراد اور خواتین کے ووٹ ڈالنے کے حق کو ووٹرز تعلیمی مہم کا حصہ بنائے ۔

٭معذور افراد : 1: الیکشن کمیشن کو ، معذور افراد کو پوسٹل بیلٹ کے ذریعے ووٹ دینے کے حق کی آگہی پیدا کرنی چاہیے ۔ 2: پولنگ اسٹیشنز کی رسائی کو یقینی بنایا جائے ۔3: رسائی کوڈ کو اس طریقے تیار کیا جائے اور ان پر عمل کیا جائے کہ ان تمام عوامی عمارتوں، ذرایع نقل و حمل، مال اور عوامی خدمات تک عالمی اصولوں اور ڈیزائن کے لیے رسائی حاصل ہو ۔ 4: الیکشن کمیشن ، نادرا ، سماجی و فلاحی اداروں اور صحت کے اداروں کو ، معذور افراد کوکمپیوٹرائز قومی شناختی کارڈ جاری کرنے کے لیے مکمل تعاون کیا جائے ۔ 5: پولنگ اسٹیشنز پر پولنگ کے فرائض انجام دینے والے اورقانون نافذ کرنے والے اداروں کو معذور افراد کے بارے میں سنجیدہ رویہ اختیار رکھنا چاہیے ۔

6: الیکش کمیشن کو چاہیے کہ وہ خواجہ سراؤں ، معذور افراد اور خواتین کے ووٹ ڈالنے کے حق کو ووٹرز تعلیمی مہم کا حصہ بنائے ۔ 7: الیکشن کمیشن ، نادرا ، سماجی اداروں اور صحت کے اداروں کو معذور افراد کو پوسٹل بیلٹ کے ذریعے ووٹ دینے کے حق آگہی پیدا کرنی چاہیے ۔8: وفاقی حکومت ، سندھ ، پنجاب ، خیبر پختونخواہ کی حکومتوں کو معذورافراد کی وردی کے لیے، معذور افرادکے حقوق کی حفاظت اور فروغ دینے کے قوانین کو نافذ کیا جائے ۔٭خواتین : 1: خواتین کو بلدیاتی ، صوبائی اور وفاقی سطح پر اسمبلیوں میں 33فیصد نشتیں دی جائیں ۔

2:نادرا کو چاہیے کہ خواتین کو ان کے دروازے پر ایم آر وی کے ذریعے پہلی بار کمپیوٹرائز قومی شناختی کارڈ رجسٹریشن کروانے کے لیے بغیر کسی معاوضے کے سہولت دی جائے ۔ 3: حکومت کو چاہیے کہ خواتین پرکمپیوٹرائز قومی شناختی کارڈ رجسٹریشن اور ووٹ کی رجسٹریشن لازمی کی جائے ۔ 4: سیاسی جماعتوں کو اپنی جماعتوں کے اندر اور اسمبلیوں کے اندر خواتین کو فیصلے کرنے پوزیشن دینے کے لیے اقدامات کیے جائیں ۔ 5: ای سی پی کو چاہیے کہ وہ تمام سیاسی جماعتوں کو پابند بنائیں کہ وہ جنرل نشستوں کے لیے 33فیصد ٹکٹ خواتین کو دیں ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔