گارمنٹس مینوفیکچررز نے وزیراعظم سے وقت مانگ لیا

حسیب حنیف  منگل 24 جولائ 2018
برآمدی حکمت عملی کیلیے ملاقات کی درخواست،کئی دن گزرگئے خط کاجواب نہ ملا، ذرائع۔ فوٹو: فائل

برآمدی حکمت عملی کیلیے ملاقات کی درخواست،کئی دن گزرگئے خط کاجواب نہ ملا، ذرائع۔ فوٹو: فائل

 اسلام آباد: نگران دور حکومت میں پاکستان ریڈی میڈ گارمنٹس مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (پریگمیا) برآمدات کے فروغ کے سلسلے میں حکومتی تعاون کے حصول کے لیے سرگرم ہو گئی، پریگمیا کی جانب سے برآمدات کے فروغ کے لیے لائحہ عمل طے کرنے کے لیے نگران وزیر اعظم کو لیٹر لکھ دیا گیا ہے۔

ایسوسی ایشن کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ ہم نے حکومت سے تعاون مانگا ہے تاہم کئی دن گزرنے کے باوجود ابھی تک کوئی جواب نہیں ملا۔ لیٹر میں کہا گیاکہ ٹیکسٹائل کا ویلیو ایڈڈ اپیرل سیکٹر وہ واحد سیکٹر ہے جس میں ساڑھے 5 فیصد سے زیادہ گروتھ ہوئی ہے اور اپیرل کی برآمدات 4.5 ارب ڈالر سے زائد ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ گارمنٹس سیکٹر زرمبادلہ کمانے میںبڑا کردار ادا کر رہا ہے جبکہ ریڈی میڈگارمنٹس سیکٹر کی جانب سے ٹیکس کی مد میں بھی بڑی ادائیگیاں کی جاتی ہیں۔

پریگمیا نے لیٹر میں کہا ہے کہ ریڈی میڈ گارمنٹس مینوفیکچرنگ اور ایکسپورٹ سیکٹر میں بڑے پیمانے پر لوگ برسرروزگار ہیں، اس سیکٹر کو فروغ دیتے ہوئے ملکی برآمدات کو مزید بڑھایا جا سکتا ہے۔

پریگمیا کی جانب سے حکومت کو یقین دہانی کرائی گئی کہ وہ مشترکہ مفادات کے معاملات میں حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کریں گے جبکہ پریگمیا نے نگران وزیر اعظم جسٹس (ر) ناصر الملک سے برآمدات کے فروغ کے لیے لائحہ عمل طے کرنے کے لیے ملاقات کے لیے وقت دینے کی بھی درخواست کی۔

یاد رہے کہ پاکستان ریڈی میڈ گارمنٹس مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کی جانب سے اپیرل سیکٹر کو درپیش مسائل کے سلسلے میں سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو بھی لیٹر لکھا گیا تھا جس میں پریگمیا نے بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے پر قابو پانے کے لیے اپنی خدمات کی پیشکش کی تھی لیکن سابق دور حکومت میں بھی ٹیکسٹائل کے ویلیو ایڈڈ سیکٹر کی وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات نہیں ہو سکی۔

اس وقت پاکستان میں ریڈی میڈ گارمنٹس سمیت پورے ٹیکسٹائل سیکٹر کو توانائی کی قیمت مد مقابل ممالک کے برابر نہ ہونے کے باعث مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس پر آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) سمیت ٹیکسٹائل کی تمام تنظیموں کی جانب سے حکومت سے متعدد مرتبہ اجلاس کیے جا چکے ہیں اور سابقہ دور حکومت میں ٹیکسٹائل ڈویژن کی جانب سے ٹیکسٹائل سیکٹر کے لیے بجلی اور گیس کے ریٹ کم کرنے کی تجویز بھی زیر غور تھی جس کی ایک سمری بھی تیار کی گئی لیکن اس پر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔