احمد شہزاد کو الیکشن کے بعد راستے کا انتخاب کرنا ہوگا

عباس رضا / اسپورٹس رپورٹر  منگل 24 جولائ 2018
اوپنر صفائی پیش نہ کرپائے تو کم ازکم2سال کی پابندی عائد کر دی جائے گی۔ فوٹو: فائل

اوپنر صفائی پیش نہ کرپائے تو کم ازکم2سال کی پابندی عائد کر دی جائے گی۔ فوٹو: فائل

 لاہور:  الیکشن کے بعد احمدشہزاد کو اپنے راستے کا انتخاب کرنا ہوگا۔

احمد شہزاد کا ڈوپ ٹیسٹ کے لیے یورین سیمپل رواں سال 3 مئی کو فیصل آباد میں جاری پاکستان کپ ون ڈے ٹورنامنٹ کے دوران لیا گیا تھا، نتیجہ مثبت آنے پر ریویو بورڈ نے بھی تصدیق کردی کہ اوپنر نے ممنوعہ دوا کا استعمال کیا، پی سی بی نے انھیں10جولائی کو چارج شیٹ جاری کرتے ہوئے ہر قسم کی کرکٹ سے معطل کرکے جواب طلب کرلیا تھا۔

طریقہ کار کے مطابق احمد شہزاد کو بی سیمپل کا ٹیسٹ کرانے کیلیے18جولائی تک بورڈ سے رجوع کرنا تھا لیکن انھوں نے اس حوالے سے رابطہ نہیں کیا۔

یاد رہے کہ ڈوپنگ کیسز میں ہرکھلاڑی کے2 یورین سیمپل لیے جاتے ہیں، اگر وہ چیلنج کرے تب ہی بی سیمپل ٹیسٹ کیلیے بھجوایا جاتا ہے، اوپنر نے ایسا کرنے سے گریز کیا۔ گرفت میں آنے کیلیے دوسرا موقع یہ ہوتا ہے کہ وہ الزام کو چیلنج کردے، احمد شہزاد کے پاس جمعہ 27 جولائی تک کی ڈیڈ لائن ہے۔

ذرائع کے مطابق اوپنر اپنے دفاع میں کیس لڑنے کے لیے تیار ہیں، اگر وہ اپنی صفائی پیش نہ کرسکے تو زیادہ سزا ہوگی، پی سی بی اینٹی ڈوپنگ قواعد کے تحت انھیں کم ازکم 2سالہ پابندی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، اگر وہ یاسر شاہ کی طرح اپنا جرم تسلیم کرلیں اوران کو معاف کرنے کی معقول وجہ بھی ہوتو کم سزا پر جان چھوٹ سکتی ہے،لیگ اسپنر نے اہلیہ کی بلڈ پریشر کی دوا غلطی سے استعمال کرنے کا اعتراف کیا تھا،ان کو صرف3ماہ کے لیے کرکٹ سے دوری برداشت کرنا پڑی تھی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔