چیئرمین پی سی بی کیلیے جوڑتوڑ شروع

سلیم خالق  منگل 24 جولائ 2018
میرٹ پر عہدے سونپیں اور پھر اگر کوئی اچھا کام کر رہا ہے تواس کا تعلق کسی سے بھی ہو ذمہ داری واپس نہ لی جائے۔ فوٹو:فائل

میرٹ پر عہدے سونپیں اور پھر اگر کوئی اچھا کام کر رہا ہے تواس کا تعلق کسی سے بھی ہو ذمہ داری واپس نہ لی جائے۔ فوٹو:فائل

’’نئے چیئرمین کرکٹ بورڈ احسان مانی ہوں گے‘‘

’’پی سی بی کی سربراہی ماجد خان کوسونپنا اب یقینی ہے‘‘

’’ذاکرخان ہی بورڈ کے نئے سربراہ بنیں گے‘‘

جیسے جیسے ملک میں عام انتخابات قریب آ رہے ہیں ایسی قیاس آرائیوں میں اضافہ ہونے لگا، ایسا پہلی بار نہیں ہوا یہ ہر بار کا معمول ہے، حکومت کی تبدیلی سے پی سی بی کا سیٹ اپ بھی تبدیل ہو جاتا ہے،موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے اس وقت تو ایسا لگ رہا ہے کہ مسلم لیگ ن دوبارہ حکومت نہیں بنا سکے گی، چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ نجم سیٹھی کا تقرر اسی سیاسی پارٹی نے کیا تھا لہذا اب ان کی کرسی بھی ہلنے لگی ہے، پہلے بھی ذکر کیا تھا کہ بغیر کسی کام کے کئی برس سے تنخواہ و دیگر مراعات وصول کرنے والے ذاکر خان آج کل خاصے چہک رہے ہیں، لوگ سمجھتے ہیں کہ انھیں نئے سیٹ اپ میں اہم ذمہ داری ملے گی، حالانکہ سچ بتاؤں تو وہ چیئرمین تو کیا میرٹ پربورڈ میں جی ایم کی پوسٹ کے بھی اہل نہیں ہیں۔

انہی کے ساتھ ایک پی ایس ایل فرنچائز کے مالک کی بھی خواہش ہے کہ قذافی اسٹیڈیم لاہورکا سب سے بڑا کمرہ ان کو مل جائے،احسان مانی کو بورڈ میں لانے میں بھی کئی لوگ دلچسپی رکھتے ہیں، البتہ برطانوی شہریت ان کی راہ میں حائل ہو سکتی ہے، ویسے جہاں تک مجھے یاد ہے ڈاکٹر نسیم اشرف بھی امریکی شہری ہونے کے باوجود چیئرمین بورڈ بن گئے تھے، اب شاید آئین میں تبدیلی ہوئی ہے،اس کا کسی سے پوچھنا پڑے گا، دلچسپ بات یہ ہے کہ ابھی الیکشن ہوئے نہیں کہ جوڑ توڑ شروع ہو گئی، لوگ ویسے ہی کہتے ہیں کہ پاکستان میں وزیر اعظم کے بعد سب سے بڑی پوسٹ چیئرمین پی سی بی کی ہی ہوتی ہے لہذا یہ سب کچھ غیرمعمولی نہیں لگتا، البتہ ہر بار کئی نام سامنے آتے ہیں مگر بورڈ کی سربراہی ایسے شخص کو سونپی جاتی ہے جس کے بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا، اب دیکھتے ہیں کون سی حکومت آتی ہے اور اس کی ترجیحات کیا ہوتی ہیں۔

البتہ جو دو شخصیات ان دنوں جوڑ توڑ میں مصروف ہیں ان کو قوت نجم سیٹھی نے ہی فراہم کی، ذاکر خان جب کوئی کام نہیں کر رہے تھے تو کیوں انھیں ملازمت سے برطرف نہیں کیا؟ اسی طرح ایک فرنچائز نے جب واجبات ادا نہیں کیے تو کیوں اس کے خلاف ایکشن نہیں لیا گیا؟ اب یہ دونوں باتیں خود موجودہ چیئرمین کیلیے مسائل کا باعث بنیں گی، ہماری کرکٹ ٹیم اب سیٹ ہونے لگی اورآئندہ سال ورلڈکپ بھی ہونے والا ہے، ایسے میں پی سی بی میں عدم استحکام مسائل کا باعث بن سکتا ہے، گوکہ کرکٹ کو سیاست سے الگ رکھنا چاہیے مگر یہاں ہر بار جسے اقتدار ملے وہ اپنی پسند کا بندہ لے آتا ہے۔

اگر آئی سی سی مضبوط ہوتی تو کرکٹ میں سیاسی مداخلت پرضرور ایکشن لیتی مگر وہ اس پوزیشن میں نہیں ہے، حالیہ دنوں میں سری لنکا میں کیا کچھ نہیں ہوا مگر بات دھمکی سے آگے نہیں بڑھی، بھارت میں عدالتی کمیٹی کرکٹ کے معاملات دیکھ رہی ہے، اب دیکھتے ہیں پاکستان میں کیا ہوتا ہے مگر اطلاعات یہی ہیں کہ اسلام آباد میں حکومت کی تبدیلی کے ساتھ پی سی بی میں بھی ایسا ہوسکتا ہے،خوش قسمتی سے اب ہم کرکٹ میں رائٹ ٹریک پر آ گئے ہیں، کپتان سرفراز احمد اور کوچ مکی آرتھر کی جوڑی نے گرین شرٹس کو مضبوط جتھا بنا دیا۔

پی ایس ایل ایک بڑا برانڈ بن چکی،اس کے نشریاتی حقوق، ٹائٹل اسپانسر شپ وغیرہ سے ماضی کے مقابلے میں تین گنا رقم ملنے کی توقع ہے، کراچی اور لاہور میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی ہو گئی،شائقین کی بڑی تعداد ان میچز سے لطف اندوز ہوئی، اب نیوزی لینڈ ، آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ سے بھی بات چیت جاری ہے کہ یہاں آ کر کھیلیں، ان میں سے پروٹیز کے ٹور کا امکان زیادہ روشن لگتا ہے کیونکہ پاکستان کا دورہ کرنے والی ورلڈالیون میں بھی سب سے زیادہ انہی کے کرکٹرز شامل تھے، اب دیکھنا یہ ہوگا کہ نئی حکومت کیا کرتی ہے، ہوا کا رخ بدلتے دیکھ کر سابق کرکٹرز بھی ایکشن میں آ گئے ہیں، عام طور پر سیاسی معاملات سے دور رہنے والے ٹو ڈبلیوز وسیم اکرم اور وقار یونس نے بھی ٹویٹر پرعمران خان کے حق میں بیانات دیے، دیگر شخصیات بھی ایکشن میں ہیں،بعض لوگ تو کھلے عام کہتے پھر رہے ہیں کہ25 جولائی کے بعد ہمارا راج ہو گا۔

جس نے ہمارے ساتھ غلط سلوک کیا دیکھو اس سے کیسے حساب چکتا کرتے ہیں، کئی شخصیات چاہتی ہیں کہ نئے سیٹ اپ میں انھیں اہم ذمہ داریاں ملیں،اس کیلیے الیکشن کا بھی انتظار نہیں کیا جا رہا، سب کو لگتا ہے عمران خان آئیں گے اور انھیں لائیں گے، البتہ زمینی حقائق دیکھیں تو جو بھی پارٹی برسراقتدار آئی کرکٹ کا اس کی ترجیحات میں آخری نمبر ہوگا، ملک کو اس وقت کئی بڑے چیلنجز درپیش ہیں،ظاہر ہے پہلے انھیں دیکھنا ہوگا،موجودہ غیریقینی صورتحال سے پی ایس ایل ٹیمیں بھی پریشان ہیں،ان کی آمدنی کا تمام تر دارومدارنشریاتی حقوق، ٹائٹل اسپانسر شپ وغیرہ پر ہے،اکتوبر میں اس حوالے سے ٹینڈرز جاری کیے جائیں گے،اسی ماہ بھارت کیخلاف ہرجانہ کیس کی بھی سماعت ہوگی۔

تب تک نجانے بورڈ میں کیا کچھ ہو چکا ہو گا،لیگ کے تمام اعلیٰ عہدوں پر نجم سیٹھی کی قریبی شخصیات موجود ہیں اگر چیئرمین گئے تو ساتھ وہ بھی جائیں گی، یوں پورا سیٹ اپ بگڑ سکتا ہے، بدھ کو الیکشن سے سب کچھ واضح ہو جائے گا،آئیڈیل صورتحال تو یہ ہے کہ کوئی بھی اقتدار میں آئے بڑے ادارے اپنا کام کرتے رہیں مگر بدقسمتی سے پاکستان میں اعلیٰ عہدوں پر تقرریاں سیاسی وابستگیوں پر ہی ہوتی ہیں، اس لیے مسائل سامنے آتے ہیں، ایسا بالکل نہیں ہونا چاہیے، میرٹ پر عہدے سونپیں اور پھر اگر کوئی اچھا کام کر رہا ہے تواس کا تعلق کسی سے بھی ہو ذمہ داری واپس نہ لی جائے، اگر ایسا ہونے لگا تو ہمارا ملک خوب ترقی کرے گا، مگر فی الحال تو ایسا ایک خواب ہی محسوس ہوتا ہے۔

(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔