سیاسی منظرنامہ، دھرنے کا کھیل

احتشام بشیر  منگل 24 جولائ 2018
اس وقت ملکی سیاسی صورتحال کچھ یوں ہے کہ صرف ایک ہی جماعت کیلئے میدان خالی چھوڑا جارہا ہے۔ (فوٹو: فائل)

اس وقت ملکی سیاسی صورتحال کچھ یوں ہے کہ صرف ایک ہی جماعت کیلئے میدان خالی چھوڑا جارہا ہے۔ (فوٹو: فائل)

آج کل ہر طرف الیکشن کے چرچے ہیں، جہاں دو چار دوست بیٹھ جائیں نشست کا آغاز بھی الیکشن اور اختتام بھی الیکشن پر کلام سے ہوتا ہے، ہر کوئی اپنے نظریات کے مطابق کسی نہ کسی سیاسی جماعت کو سپورٹ کر رہا ہے۔ دفاتر ہوں یا حجام کی دکان، گھر ہو یا مسافر گاڑی، ہر طرف الیکشن کا معاملہ ہی زیر بحث ہے۔ روٹی لینے تنور پر بھی جائیں تو وہاں بھی کوئی نہ کوئی پوچھ لیتا ہے کہ بھائی اس بار کس کو ووٹ دے رہے ہو؟ اس بار کون سی جماعت اقتدار میں آرہی ہے؟ اور ان سوالوں کا اگر جواب دیں تو پھر کم سے کم ایک گھنٹے کا وقت تو بحث میں گزر جاتا ہے۔ اسی وجہ سے وقت بچانے کیلئے سوال کرنے والے کا مدعا سن کر چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ بکھیر کر نکنے کی کرتے ہیں۔

ہمارا دوست باچا بھی ہر وقت کچھ نہ کچھ سوال کرتا رہتا ہے، قہوہ پینے کیلئے باچا کے ہاں اکثر چلے جاتے ہیں اور ان کی دکان پر وقت بحث مباحثے میں اچھا گزر جاتا ہے۔ گزشتہ دنوں دفتر سے فارغ ہو کر تھکاوٹ دور کرنے ان کی دکان پر گئے تو معمول کے مطابق انہوں نے قہوے کا آرڈر دیا۔ ابھی سکون سے سانس ہی لیا تھا کہ باچا صاحب نے سوال کر ڈالا: سناؤ یار! الیکشن کی کیا پوزیشن ہے؟ سنا ہے پی ٹی آئی کا بڑا زور ہے؟ کہتے ہیں اس بار پی ٹی آئی جیت رہی ہے؟

میں نے جواب دیا کہ معلوم نہیں کون جیتے گا، یہ تو الیکشن کے دن ہی معلوم ہوگا، ہر امیدوار جیتنے کیلئے کوشش کر رہا ہے۔

باچا پھر بولے نہیں یار! تمہاری بات ٹھیک ہے لیکن عمران خان کے جلسوں میں بڑا رش ہوتا ہے، لوگوں کی بڑی تعداد عمران خان کو دیکھنے اور سننے کیلئے جلسوں میں جاتی ہے، کل کا جلسہ عمران خان کا کتنا بڑا تھا۔

میں سوال سننے کے بعد بولا جلسے تو بلاول بھٹو زرداری، شہباز شریف اور ایم ایم اے والوں کے بھی ہو رہے ہیں، اسفندیار ولی کے جلسے میں بھی بہت رش تھا، لوگ تو ہر کسی کو سننے جاتے ہیں، تمہیں 2013 کا الیکشن یاد ہے؟ اس وقت بھی عمران خان نے کتنے بڑے بڑے جلسے کئے تھے لیکن اس کے باوجود عمران خان پنجاب سے اکثریت حاصل نہیں کرسکا۔ جلسوں کے بل بوتے پر تو کوئی جیت نہیں سکتا۔ میں نے پھر جھٹ سے سوال کیا کہ باچا تم ووٹ کسے دو گے؟ باچا فوراً بولا یار ابھی سوچا نہیں لیکن اسے ووٹ دوں گا جو میرے ملک کیلئے اچھا ہو، ہم جیسے غریبوں کے مسائل حل کرے اور جو ملک کو مشکلات سے نکالے۔ بالکل اسی طرح دوسروں کی بھی سوچ ہے، جن لوگوں کی کسی بھی سیاسی پارٹی سے وابستگی نہیں ہوتی وہ اسی طرح الیکشن کے دن سوچتے ہیں کہ ووٹ کسے دینا چاہیے؟ باقی تمہاری مرضی ہے کہ ووٹ کسے دیتے ہو، مجھے آرام کرنے دو۔ اتنی دیر میں قہوہ آیا اور میں قہوہ پینے لگا۔

ساتھ ہی باچا ایک اور سوال کر بیٹھا۔ یار ایک بات ہے، عمران خان کہتا ٹھیک ہے کہ کرپشن کا خاتمہ کیا جائے گا، نوجوانوں کو نوکریاں دی جائیں گی، توانائی کا بحران ختم کیا جائے گا۔ عمران خان یہ بھی کہتا ہے کہ پاکستان کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلائے گا، بیرونی سرمایہ کاری ملک میں لائی جائے گی، اور قرضوں کے بوجھ سے پاکستان کو نجات دلائی جائے گی، تم مانو یا مانو بات ٹھیک کرتا ہے۔ قہوہ پی کر میں نے جواب دیا، یار تمہاری بات ٹھیک ہے لیکن مجھے یہ بتاؤ کیا دوسری سیاسی جماعتوں کا ایسا منشور نہیں؟ کیا دوسری جماعتیں نہیں چاہتیں کہ ملک سے کرپشن کا خاتمہ ہو؟ ملک پر قرضوں کا بوجھ کم ہو؟ نوجوانوں کو روزگار ملے؟ عمران خان کی جماعت اور دوسری سیاسی جماعتوں کے منشور میں کوئی خاص فرق تو نہیں، سب ایک ہی طرح ہیں۔

باچا کے بار بار سوالوں سے مجھے مزید تھکاوٹ محسوس ہونے لگی۔ میں باچا سے بولا، یار باچا آرام کرنے دو۔

اس دوران میں باچا کی دکان پر ایک کونے میں کروٹ لے کر آرام کرنے لگا، اور سوچتا رہا کہ ملک میں جو سیاسی فضا بن رہی ہے اس میں واقعی ایک ہی سیاسی جماعت نظر آ رہی ہے۔ 2013 کے الیکشن سے قبل دو ہی سیاسی جماعتیں مقابلے میں تھیں، مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی۔ ان دنوں کے درمیان ہی حکومت کی دوڑ ہوئی، اس وقت بھی دونوں جماعتوں کا یہی منشور تھا، کسی نے ’’قرض اتارو ملک سنوارو‘‘ مہم چلائی، تعلیم کے فروغ کیلئے تعلیم بالغاں کا پروگرام بھی شروع کیا گیا، غربت کے خاتمے کیلئے روٹی، کپڑا اور مکان کا بھی نعرہ لگا، انکم سپورٹ پروگرام بھی شروع ہوا اور صحت کارڈ بھی دیئے گئے۔

اقتدار میں آنے کیلئے کسی بھی سیاسی جماعت کو عوام کو سبز باغ تو دکھانے ہوتے ہیں، اب تک یہی ہوتا رہا ہے اور آئندہ بھی ایسا ہی ہوگا لیکن اس بار کچھ مختلف ہے اس بار صرف ’’تبدیلی‘‘ کا تڑکا لگا دیا گیا ہے۔

اس وقت جو ملکی سیاسی صورتحال ہے، صرف ایک ہی جماعت کیلئے میدان خالی چھوڑا جا رہا ہے۔ سیاسی اکھاڑے میں کپتان کا بھرپور مقابلہ کرنے والے باپ بیٹی نواز شریف اور مریم نواز کو راستے سے ہٹا دیا گیا ہے، یہ دونوں عمران خان کیلئے خطرہ تھے اسی لئے الیکشن سے قبل ہی نواز شریف اور مریم نواز کو سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا۔ پیپلزپارٹی بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پنجاب میں وہ پوزیشن برقرار نہیں رکھ سکی جو پوزیشن بے نظیر بھٹو کے وقت تھی۔ اس طرح پنجاب میں مسلم لیگ نواز کا مقابلہ کرنے کیلئے اب تحریک انصاف ہی ہے اور تحریک انصاف کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نوازشریف میں ہی تھی۔ پیپلزپارٹی کی جانب سے بھی اپنے تحفظات کا اظہار کر دیا گیا ہے، بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی کو انتخابی مہم سے روکنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

2013 کے الیکشن میں خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف نے میدان مارا، باقی کوئی جماعت پی ٹی آئی کے قریب ترین نشستیں بھی حاصل نہ کرسکی۔ 2013 کے مقابلے میں اس بار خیبرپختونخوا کی سیاسی فضا مختلف ہے، پی ٹی آئی حکومت کی اتحادی جماعت اسلامی، ایم ایم اے کا حصہ بن چکی ہے اور دوسری طرف عوامی نیشنل پارٹی جس کی انتخابی مہم 2013 میں محدود تھی، اب کی بار اے این پی بھرپور طریقے سے انتخابی مہم چلا رہی ہے، اس لئے پی ٹی آئی کو اب خیبرپختونخوا میں ایم ایم اے اور اے این پی کا سخت مقابلہ کرنا ہوگا۔

ایسی سیاسی صورتحال میں جبکہ تمام سیاسی جماعتوں کی جانب سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے، آنے والے الیکشن کے بعد سیاسی منظرنامہ کچھ بہتر نظر نہیں آرہا۔ اگر پی ٹی آئی کامیابی حاصل کرلیتی ہے اور حکومت بنانے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو کپتان کو عمل کے ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ چاہے کوئی دوسری جماعت پی ٹی آئی کو حکومت ملنے کی صورت میں ٹف ٹائم دے یا نہ دے لیکن ن لیگ، پی ٹی آئی کے خلاف میدان میں نکلے گی اور ملکی سیاسی مظرنامے میں دھرنا دھرنا کا کھیل پھر نظر آنے لگے گا۔ فی الحال تو صورتحال سے ایسا ہی لگ رہا ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔