ما ں تجھے سلام…

شیریں حیدر  اتوار 12 مئ 2013
 Shireenhaider65@hotmail.com

[email protected]

ایک عورت مرتی ہے اور ایک ماں جنم لیتی ہے… بظاہر یہ ایک عام سی بات ہے مگر اس کی تہہ میں وہ راز مضمر ہے جو ایک عام عورت کا منصب اس قدر بلند کرتا ہے کہ جس جنت کی خواہش دنیا میں ہر کوئی کرتا ہے، وہ اس عام عورت کے قدموں میں پوشیدہ ہو جاتی ہے۔ اس درجے کی حقدار ٹھہرنے والی، کوئی عام عورت کیونکر ہو سکتی ہے۔ ماں جسے اللہ نے خالق کا درجہ دیا، تخلیق کے اس عمل میں وہ موت کے منہ سے اپنی اور اپنے بچے کی جان بچا کر لاتی ہے، اس ماں کی عظمت کو فرشتے بھی سلام کرتے ہیں، آئیں مل کر سب اپنی ماؤں کی عظمت کو سلام کریں، اس کی ان تکالیف کا احساس کریں جو اس نے ہمیں پروان چڑھانے میں جھیلیں اور آج ہم جس مقام پر بھی ہیں، اسی کی دعائوں کی وجہ سے ہیں۔

مجھے یاد ہے ماں، جب میں پیدا ہوئی تو میں بے بسی کی انتہا پر تھی، تو نے کرب کا ایک سمندر عبور کیا مگر مجھے چھوتے ہی تیرے لبوں پر ایک فاتحانہ مسکراہٹ نمودار ہوئی تھی، تیرا وجود چور چور تھا مگر تیرے مضبوط ہاتھوں نے مجھے پیار سے تھام لیا تھا، تو نے میرے لوتھڑے سے وجود کو اپنے لبوں کے نزدیک کر کے پہلا بوسہ دیا تھا ماں! تیرے ہاتھوں کا وہ لمس ابھی تک مجھے یہ احسا س دلاتا ہے کہ میرے پاس وہ مضبوط کندھے ہیں جن پر سر رکھ کر میں آج بھی ہر مشکل سے گزر سکتی ہوں، اس بوسے کی گرمی میرے ماتھے پر آج بھی تازہ ہے۔

مجھے نہیں یاد کہ کسی رات تو نے پوری نیند لی ہو ماں، کبھی میں نے سکون سے سونے دیا ہو تجھے… خود بستر بھگو کر میںچیختی کہ مجھے خشک بستر چاہیے اور تو، تو خود اس گیلے بستر پر جاگتی سوتی رہتی۔ میں اس پر بس کہاں کرتی تھی بھلا، تھوڑی دیر میں ہی میں تجھے ذرا بھی غافل پاتی تو رونا شروع کر دیتی، تو اپنا آرام تج کر بیٹھ جاتی اور میری بھوک مٹاتی، پھر اپنے کندھے سے لگا کر تھپک تھپک کر سلاتی اور جب میں نیند کی گہرائی میں اترتی تو تیرے لیٹتے ہی مجھے کچھ اور یاد آ جاتا۔ عمر کا یہ پہلا برس میں نے بہت تنگ کیا نا ماں! ایک برس، جس میں تین سو پینسٹھ دن اور اتنی ہی راتیں ہوتی ہیں۔ اس پر ہی بس نہیں…

میں نے جونہی ذرا سی طاقت پائی تو میں بستر پر ہر طرف لڑھکنے لگی اور تو میرے ہر طرف حفاظتی بند بناتی رہتی، میں نے رینگنا شروع کیا تو تو نے میرے سامنے سے ہر چیز اٹھانا شروع کر دی، گھر کے سارے سوئچ بورڈوں پر ٹیپیں لگا دیں کہ میں کسی میں انگلی نہ گھسیڑ دوں، میں بیٹھتی تو میرے گرد تکیوں کا حصار بنا دیتی، تیری انگلی تھام کر میں نے کھڑے ہونا اور چلنا شروع کیا تو دن بھر تو میرے پیچھے پیچھے چلتی اور میرے راستے کی ہر ہر رکاوٹ کو ہٹاتی۔ میں چھینک بھی مارتی تو تو بے چین ہو جاتی، میرا پیٹ خراب ہوتا تو تیری خوراک پر پابندی لگ جاتی، میری تکلیف پر تو رات رات بھر جاگ کر گزارتی… صرف ایک میں ہی تو تیری ذمے داری نہ تھی، تیرے کاندھوں پر گھر کے ہر کام کا بوجھ تھا مگر تو وہ کام اس وقت کرتی جب میں سو رہی ہوتی تھی، تا کہ جب میں جاگوں تو تیرا سارا وقت میرے لیے ہو۔ کوئی میری تعریف کرتا تو تو زیر لب سورتیں پڑھ کر میری نظر اتارتی۔ میں کوئی بری بات نہ سیکھوں، اس کے لیے تو نے مجھے اچھے بچے کی تعریف بتا دی تھی اور تیرا مخصوص فقرہ… ’’اچھے بچے ایسا نہیں کرتے!‘‘ عمر کے اس حصے میں بھی میرے لیے مشعل راہ ہیِ آج بھی راہ سے بھٹکنے نہیں دیتا۔

’’اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت اولین محبت ہے، جھوٹ نہیں بولنا، کسی کا دل نہیں دکھانا، چوری نہیں کرنی، کسی کا نقصان نہیں کرنا، کسی کی تکلیف میں اس کی مدد کرنی ہے، دوسروں کے لیے وہ پسند کرو جو تمہیں اپنے لیے پسند ہے، گناہ سے بچو اور نیکی کا راستہ اپناؤ، اپنے رشتہ داروں سے متعلقہ فرائض پورے کرو، ملک سے محبت کرو، بزرگوں کا احترام کرو، بڑوں کا ادب اور بچوں سے شفقت کا برتا ؤ کرو، خیرات دو…‘‘ اور جانے کتنے ہی سبق ہیں ماں جو گھٹی میں ڈال دئیے تھے تو نے اور آج تک سب کے سب یاد ہیں۔

تو نے علم کی محبت دل میں ڈالی، کتاب کی قدر کرنا سکھایا،اور تیرے سکھائے ہوئے سب سبق یاد ہیں آج تک… اگر کچھ بھول جاتا ہے تو وہ یہ ہے ماں کہ تو نے کتنی تکلیف سے، اپنے آرام کو تج کر، اپنے سکون کو بھول کر، اپنی خواہشات کا گلا گھونٹ کر تو نے، میرے ناتواں وجود کی پرداخت کی، مجھے آدمی سے انسان بنایا، مجھے دنیا میں سب سے کامیاب دیکھنا چاہا، میرے لیے تیرے ہاتھ ہمیشہ اللہ کے سامنے اٹھے رہے اور آج تک اٹھے ہوئے ہیں۔

اپنے ہر امتحان میں میں نے تجھ سے توقع کی اور تو نے مصلے پر راتیں جاگ جاگ کر گزاریں، میری کامیابیوں کے لیے دعائیں کیں، میری حفاظت کے لیے میرے گرد اپنی دعاؤں کے حصار باندھے، میری ناکامی پر تو تڑپ اٹھی، دل تیرا بھی دکھا مگر تو نے ایک مسکراہٹ لبوں پر سجا کر کہا، ’’گرتے ہیں شہ سوار ہی میدان جنگ میں، ہارو گے نہیں تو جیت کا مطلب کیسے سمجھ میں آئے گا!‘‘ میرے لیے اپنے ہاتھوں سے لذیذ کھانے بناتی، میری صحت کا خیال رکھنا ہمیشہ اپنی ذمے داری سمجھا، میری بیماری میں اپنے آزمودہ نسخوں سے میرے لیے قہوے بناتی۔

میرے سرہانے بیٹھ کر میرا سر دباتی، بخار میں میرے ماتھے پر ٹھنڈے پانی کی پٹیاں رکھتی، دل ہی دل میں کچھ پڑھ کر مجھ پر پھونکتی۔ پھر کیا ہوا… وہی جو ہم سب کے ساتھ ہوتا ہے۔ ہم عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں، ماں… جس کی زندگی ہمارے گرد گھومتی ہے، وہ ہماری زندگیوں میں پس منظر میں چلی جاتی ہے، شوہر یا بیویاں، اپنے بچے، ملازمتیں، کاروبار، دوستیاں، گھر، سیر و تفریح… ہمارا محور بن جاتے ہیں اور ماں ہماری راہیں دیکھنے کے فرض پر مامور ہو جاتی ہے۔ ہمارے پاس جب اپنی مصروفیات میں سے وقت نکلتا ہے ہم اسے ذرا کی ذرا دیر کو جا کر مل آتے ہیں۔

وہ بیمار پڑ جائے تو ہم اسے کال کر لیتے ہیں یا عیادت کو جاتے ہیں تو ہماری نظر بار بار کلائی کی گھڑی کی طرف اٹھ رہی ہوتی ہے، کیونکہ ہماری ایک اہم میٹنگ شروع ہونے والی ہوتی ہے یا کوئی اور ایسی ہی مجبوری۔ اگر ماں کو ایک مستقل تیماردار کی ضرورت ہو یا وہ اسپتال میں داخل ہو جائے تو ہم سارے بہن بھائی ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں… ’یہ بھائی کا فرض ہے‘‘ ، ’’نہیں بھابی کا ‘‘ ، ’’بیٹیوں کو ماں کا خیال رکھنا چاہیے…‘‘ اس طرح کے خیالات کا تبادلہ ہوتا ہے اور بالآخر ایک نرس پر سب کا اتفاق ہو جاتا ہے کہ اس میں رقم خرچ ہوتی ہے، وقت نہیں… جس ماں نے وقت کا ایک ایک لمحہ اولاد پر خرچ کیا ہوتا ہے اس کی اولاد کتنی لاچار ہو جاتی ہے کہ اس کے پاس وقت کی کمی ہے… یہ ہر نسل کا المیہ ہے۔ اصل میں انسان فطرتا ناشکرا ہے، احسان فراموش ہے اور جب کسی اوپری مقام پر پہنچ جاتا ہے تو ان چیزوں کی قدر کرنا چھوڑ دیتا ہے جن کے سبب وہ اس مقام تک پہنچتا ہے۔

جن کی مائیں نہیں ہیں وہ تو اپنی ماؤں کے لیے دعاؤں کے نذرانے بھیج سکتے ہیں مگر جن کے پاس یہ نعمت موجود ہے، ان کے ہاتھ میں ابھی بھی وقت کی طنابیں ہیں، ابھی سے اپنی ماں کی قدر کریں، اگر آپ سے کوئی غفلت ہو چکی ہے تو اس سے معافی مانگ لیں اور اگر نظر انداز کرنے کی کوتاہی ہوئی ہے تو اس کا ہر طرح ازالہ کریں۔ ماں کا ظرف اور اس کا دامن بہت وسیع ہوتا ہے، اس کے آنچل میں محبت کی گرمی اور خوشبوکا امتزاج ہے۔ آج آپ اسے محبت دیں، کل یہ محبت پلٹ کر آپ کی اولاد کی طرف سے آپ کو ملے گی۔ سب اپنی ماں کو عقیدت کے پھول پیش کریں اور اسے کہیں… ماں تجھے سلام!!!!

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔