آج سیاستدانوں کا نہیں بلکہ عوام کا امتحان ہے، فنکاروں کا بھی ووٹ ڈالنے کا عزم

شوبز رپورٹر  بدھ 25 جولائ 2018
ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستانی عوام باشعور ہے اوراچھے برے کوسمجھتی ہے:شاہدہ منی، صنم ماروی، عدنان، یاسراختر، ثنا اوربی جی۔ فوٹو: فائل

ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستانی عوام باشعور ہے اوراچھے برے کوسمجھتی ہے:شاہدہ منی، صنم ماروی، عدنان، یاسراختر، ثنا اوربی جی۔ فوٹو: فائل

 لاہور: پاکستان میں آج ہونیوالے عام انتخابات میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والوں کی طرح فنون لطیفہ سے تعلق رکھنے والے فنکاروں نے بھی ووٹ ڈالنے کے عزم کا اظہارکرتے ہوئے اپنے پرستاروں سے اپیل کی ہے کہ وہ ووٹ کا حق ضروراستعمال کریں اورایسے نمائندے کو منتخب کریں، جوملک کی ترقی اورعوام کی خدمت کرے۔

’’ایکسپریس‘‘ سے گفتگوکرتے ہوئے میلوڈی کوئین شاہدہ منی، صنم ماروی، عدنان صدیقی، یاسراختر، ثنا اورڈریس ڈیزائنربی جی نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کے حالات بہت کشیدہ ہیں۔ ایک طرف پاکستان کے دشمن ہمیں تباہ وبرباد کرنے کیلیے دہشتگردی اوردیگرمسائل پیدا کررہے ہیں تودوسری جانب اینٹی مسلم طاقتیں بھی اس مسلم ریاست کوبرباد کرنا چاہتی ہیں۔ ایسے میں ہمیں اپنے قیمتی ووٹ سے ایسے نمائندوں کومنتخب کرکے اعلیٰ ایوانوں تک لیجانا ہے جوملکی اوربین الاقوامی معاملات کواپنی صلاحیتوں کے بل پراحسن انداز سے انجام دے سکیں۔

فنکاروں کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان کے تمام شعبے شدید بحران سے دوچارہیں۔ غیرملکی قرضے اتنے بڑھ چکے ہیں کہ ان کواتارنے کیلیے ہمیں دن رات کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ سیاستدانوں کا نہیں بلکہ عوام کاامتحان ہے۔ اگراب بھی عوام نے غلط نمائندے منتخب کیے توپھرپاکستان کوتباہی سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ قیام پاکستان سے آج تک اگرملک کے چاروں صوبوںکی ترقی کی جانب نظرڈالیں توترقیاتی کام نہ ہونے کے برابر ہیں۔ تعلیم، صحت، کھیل اوردیگرشعبوں میں کرپشن عام ہے۔

فنکاروں نے کہا کہ دہشتگردی، بے روزگاری اورلوڈ شیڈنگ نے عوام کی زندگی کوجہنم بنا کررکھ دیا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم پرانے چہروں کے بجائے ایسے لوگوں کو منتخب کرکے لائیں جوتقریریں نہیں بلکہ عملی طورپرکام کریں۔ اس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی عوام اب باشعور ہے اوراپنے اچھے برے کوسمجھتی ہے۔ اس بار پاکستان کے لوگ انہی نمائندوں کو منتخب کریں گے جوواقعی ہی ان ایوانوں میں بیٹھ کرعوام کی فلاح کے کام کریں گے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔