کرکٹ کو جدت طرازی کا نیا تڑکا لگانے کی تجویز

اسپورٹس ڈیسک  بدھ 25 جولائ 2018
اب ایونٹ کیلیے ایک اور جدت طرازی کا انکشاف ہواکہ فی سائیڈ 12 پلیئرز پر مشتمل ہوسکتی ہے۔
 فوٹو: فائل

اب ایونٹ کیلیے ایک اور جدت طرازی کا انکشاف ہواکہ فی سائیڈ 12 پلیئرز پر مشتمل ہوسکتی ہے۔ فوٹو: فائل

 لندن: کرکٹ کو جدت طرازی کا نیا تڑکا لگانے کی تجویز سامنے آگئی۔

انگلینڈ نے 2020 سے ایک نیا مینز اور ویمنز ایونٹ شروع کرنے کا اعلان کررکھاہے، جس کو دی 100 کا نام دیا گیا،اس میں ہر ٹیم 100 بالز کھیلے گی۔ پہلے آخری اوور 10 گیندوں کا کرنے کی تجویز پیش کی گئی تھی پھر اس کو 5، 5 بالز کے 20 اوورز میں تقسیم کرنے کا منصوبہ سامنے لایا گیا۔

اب ایونٹ کیلیے ایک اور جدت طرازی کا انکشاف ہواکہ فی سائیڈ 12 پلیئرز پر مشتمل ہوسکتی ہے تاہم بیٹنگ اور فیلڈنگ کی اجازت صرف 11 پلیئرز کو ہی ہوگی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک پلیئر کو خالصتاً اس کی مہارت کی بنیاد پر میدان میں اتارا جاسکے گا۔ ایسا ہی کچھ بیس بال میں ہوتا ہے جس میں ایک ماہر ہٹر کو بعد میں اسپیشلسٹ بولر یا پھر فیلڈر سے بدل دیا جاتا ہے۔

12 اے سائیڈ فارمیٹ کے تحت کوئی ٹیم ایسا اسپیشلسٹ بیٹسمین میدان میں اتار سکے گی جس کی فیلڈنگ اچھی نہیں، جوابی اننگز میں وہ اس بیٹسمین کو باہر بٹھاکر اس کی جگہ ماہر بولر یا فیلڈر کو کھلاسکے گی۔ اس سے یہ فائدہ بھی ہوگا کہ ماہر ہارڈ ہٹر دوسری چیزوںکی پریکٹس سے بچتے ہوئے صرف اپنی بیٹنگ پر توجہ مرکوز کرپائیں گے۔

یاد رہے کہ اسی قسم کا تجربہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی جانب سے 2005 اور 2006 کے دوران 10 ماہ تک کیا گیا جس میں ایک ’سپرسب‘ ہوتا تھا، اسے بیٹنگ یا پھر بولنگ کیلیے میدان میں اتارا جاتا تھا مگر یہ تجربہ بُری طرح ناکام رہا تھا۔

دوسری جانب انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کی جانب سے واضح کیا گیاکہ دی 100 ایونٹ کے حوالے سے مختلف تجاویز پر غور کیا جارہا ہے مگر کسی چیز کو حتمی شکل نہیں دی گئی،اس حوالے سے ماہرین کا ایک خصوصی پینل کام جاری رکھے ہوئے ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔