ترک صدر طیب اردگان کا میسوٹ اوزل سے اظہار یکجہتی

خبر ایجنسی  بدھ 25 جولائ 2018
اوزل کے چار صفحات پر مشتمل بیان سے جرمنی میں تہلکہ مچا ہوا ہے جبکہ ترک وزیروں کی جانب سے اس کی ستائش کی جارہی ہے۔ فوٹو: سوشل میڈیا

اوزل کے چار صفحات پر مشتمل بیان سے جرمنی میں تہلکہ مچا ہوا ہے جبکہ ترک وزیروں کی جانب سے اس کی ستائش کی جارہی ہے۔ فوٹو: سوشل میڈیا

 انقرہ: ترک صدر طیب اردگان نے میسوٹ اوزل کے جرمن فٹبال ٹیم چھوڑنے کے فیصلے کو سراہا ہے۔

طیب اردگان نے ملکی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ میں نے ترک نژاد فٹبال اسٹار اوزل سے اس فیصلے کے سامنے آنے کے بعد فون پر بات کی، انھوں نے نسلی تعصب کی بنیاد پر جرمن فٹبال ٹیم کی نمائندگی جاری رکھنے سے انکار کیا۔ ان کا یہ رویہ بالکل حب الوطنی کا عکاس ہے، جرمن ٹیم کی فتوحات کیلیے پسینہ بہانے والے نوجوان پلیئرز کیلیے اس طرح کا متعصبانہ رویہ کیونکر قابل قبول ہوسکتا ہے، اسے قطعی برداشت نہیں کیا جاسکتا تھا۔

اوزل کے چار صفحات پر مشتمل بیان سے جرمنی میں تہلکہ مچا ہوا ہے جبکہ ترک وزیروں کی جانب سے اس کی ستائش کی جارہی ہے، اوزل کو ورلڈ کپ کے دوران مئی میں طیب اردگان کے ہمراہ بنائی گئی تصویر کی وجہ سے ہدف تنقید بنایا گیا تھا۔

اوزل 2014 کی ورلڈ چیمپئن جرمن اسکواڈ کے اہم ممبر رہے تھے، تاہم اس بار روس میں منعقدہ ورلڈ کپ کے دوران اردگان کے ہمراہ تصویر کو لیکر جرمن فٹبال ایسوسی ایشن ( ڈی ایف بی ) حکام، اسپانسرز اور میڈیا بھی اوزل پر تنقید کرتا رہا تھا،اوزل نے اپنے فیصلے میں لکھا تھا کہ گرینڈل اور ان کے حامیوں کی نظروں میں جب ہم جیتتے ہیں تو جرمن ہوتے ہیں لیکن جب ہم ہارگئے تو مجھے امیگرنٹ گردانا گیا۔

دوسری جانب ترک وزیر انصاف عبداللہ حامت گل نے اوزل کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہا انھوں نے فاشزم کے وائرس کیخلاف بہت خوبصورت گول کیا ہے۔دوسری جانب جرمن کوچ جوکیم لیو نے اوزل کی ریٹائرمنٹ کے فیصلے پر حیرت کا اظہار کیا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔