سیاست کے بدلتے رنگ

شبنم گل  جمعرات 26 جولائ 2018
shabnumg@yahoo.com

[email protected]

سیا ست کا بنیادی مقصد، ریاست کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنا ہے، مگر پاکستان کی سیاست کے منظرنامے پر ماسوائے تضادات کے کچھ اور دکھائی نہیں دیتا۔ موروثی سیاست کا زور ٹوٹنے لگا ہے،کیونکہ اکثر سیاستدان، عوامی توقعات پر پورے اتر نہیں پائے۔ عوامی سطح پر بے چینی کے آثار صاف دکھائی دے رہے ہیں۔

سیاسی جماعتوں کے دوران ہونے والی رسہ کشی کے باعث، ملکی ترقی، ساکھ اور خوشحالی کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ تعلیم، صحت، تحفظ اور اداروں کی بہتر کارکردگی مستقل سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔ ایسی صورتحال میں، عوام توقعات کا دائرہ محدود رکھیں تو بہتر ہے۔ البتہ بہتری کی امید کا ہاتھ تھامے رکھیں، جیسے امید کے سہانے سپنوں نے انھیں تا حال قدرے بہتر رکھا ہے۔ بالکل اسی طرح سے وہ اپنے حوصلے بلند رکھیں۔ شاید کوئی معجزہ رونما ہو ہی جائے۔

یہ معجزے جو کوریا، سنگاپور، سری لنکا، ویتنام، چین، جاپان اور یورپ میں رونما ہوئے۔ یہ معجزے اندر کی طاقت و عزم کا کرشمہ تھے، مگر ہم نے ماضی سے سبق سیکھنے کے بجائے اور برا کر دکھایا۔ ذی شعور لوگوں کے دل کس قدر جلے، ہماری کئی نسلیں ذہنی طور پر مفلوج ہو کر رہ گئیں اور خوشحالی کو بے ایمانی کی دیمک چاٹ گئی، مگر سماجی شعور کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔

ملک کے موجودہ حالات کی ذمے داری عوامی غفلت پر بھی عائد ہوتی ہے۔

عوامی غفلت منظور نظر رہنماؤں کے ہر غلط کام پر داد دیتی رہی اور اصلاح کا درپند کرد کیا۔ مغربی مفکر برٹرینڈ رسل اس صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں، ’’ایک قوم کا اتحاد اس کی عادتوں پر منحصر ہے۔ وہ عادتیں مشترکہ احساس تفاخر ہو سکتی ہیں۔ اصلی رشتہ شہریوں کا آپس میں ہونا چاہیے لیکن بیرونی دنیا کا اثر اور اختلاف بھی اثر انداز ہوتا ہے، اگر ایک قوم ایک دوسرے سے کٹی ہوئی اور الگ الگ ہو تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ لوگ ایک جیسا کشش اتصال اور ایک جیسی حب الوطنی کے جراثیم نہیں رکھتے‘‘ یہ حقیقت ہے کہ اس ملک کو فرقہ وارنہ سوچ اور تعصب نے شدید نقصان پہنچایا ہے۔ جس کا خمیازہ ہر دور نے بھگتا ہے۔

منفی اور غیر انسانی رویہ مستقل ہماری خوشی و خوشحالی کا تعاقب کر رہا ہے اورہم ہیں کہ اسے مسترد نہیں کر سکتے، اس کے خلاف آواز نہیں اٹھا سکتے اور نہ اسے روک سکے ہیں۔

یہ جمہوریت کا تیسرا دور ہے، جو فیصلہ کن ثابت ہو گا ۔ جس میں نئی قیادت سامنے آئے گی اور سیاست کے مثبت زاویے دریافت ہونگے۔ عمران خان کا یہ آخری موقع ہے، جسے وہ حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ دوسری جانب سندھ میں ذہنی بیداری کی ایک نئی لہر دوڑتی ہوئی محسوس ہو رہی ہے۔ جہاں پاکستان تحریک انصاف، عوامی ورکرز پارٹی، عوامی تحریک مقبول ہیں، جب کہ گرینڈ نیشنل الائنس سے بھی عوامی توقعات وابستہ ہیں۔ حالانکہ پیپلز پارٹی کے رہنما کے بقول الائنس میں عوام کے دھتکارے ہوئے سیاسی یتیم شامل ہیں جو انتخابات میں مینڈک کی طرح نکلتے ہیں اس کے بعد گوشہ گمنامی میں چلے جاتے ہیں۔

لیکن یہ دعوے غلط بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ عوام کچھ اور سوچ کے بیٹھے ہیں! اب وہ بیوقوف بننے کے موڈ میں ہرگز دکھائی نہیں دیتے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پی ٹی آئی،گرینڈ الائنس کے ساتھ ہو گی، لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سیاست محض کرسی حاصل کرنے کی دوڑ تک محدود ہو چکی ہے۔ جس کی مثال وہ زبان ہے جو نازیبا اور غیر معیاری ہو رہی ہے۔ یعنی جمہوری عمل میں، جمہوری قدریں مفقود دکھائی دیتی ہیں۔ جمہوریت کا مطلب مثبت سوچ و ربط باہمی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ارسطو نے اشتراک پر زور دیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ریاست، حکومت، انسان و معاشرے میں باہمی تعلق کا ہونا ضروری ہے۔

یہ ایک خوش آیند بات ہے کہ جمہوری عمل کے دس سال مکمل ہو چکے ہیں۔ آج ہمارے پاس، اظہار کی آزادی ہے، اپنی بات کہنے کے مواقعے ہیں، اختلاف رائے رکھنے کا حق ہے، لیکن ہماری ذمے داری بھی بڑھی ہے کہ قول وعمل کے تضاد کو ختم کرنا ہے، کیونکہ یہ فرق جمہوری قدروں کے منافی ہے، یہ کیسی جمہوریت ہوگی کہ جسم تو نظر آئے مگر روح غائب ہو۔ یعنی اصول تو موجود ہوں مگر عمل کا اطلاق ممکن نہ ہو۔

والٹ وٹمین جمہوریت کی تشریح کچھ اس طرح سے کرتا ہے کہ ’’ہر شخص جہاں اپنے وجود کی اہمیت سے واقف ہو، ذاتی ذمے داری سے آگاہ ہو۔ سوچ کی وحدت اور اخلاقی پختگی رکھتا ہو۔‘‘

لیکن اس فرسودہ نظام میں بیک وقت ان خوبیوں کا جمع ہونا نا ممکن ہے، اس وقت جو صورتحال سامنے ہے، یہ سالوں کے جبر کا نتیجہ ہے۔ سندھ میں بھی کمزور مخلوط حکومت بننے کے آثار نظر آتے ہیں ۔ جو یقینی طور پرکوئی بڑی تبدیلی لانے کی پوزیشن میں نہ ہونگے، لہذا عوام کو اس صورتحال میں سمجھ داری سے کام لینا پڑے گا۔

ہونا تو یہ چاہیے کہ نئی حکومت تشکیل پانے کے بعد ، ترجیحی بنیاد پر عوامی مسائل کا حل ڈھونڈنے میں مصروف عمل ہوجائے۔اس وقت صورتحال یہ ہے کہ تمام اداروں پر جمود طاری ہے اورکام کی رفتار سست اور جدید دنیا سے بہت پیچھے ہے۔ جسے فعال کرنے کے لیے مربوط حکمت عملی کی اشد ضرورت ہے، سیاسی ہتھکنڈے غیر موثر ہوتے جا رہے ہیں، سماجی شعور بیدار ہو رہا ہے اور تبدیلی کا عمل شروع ہو چکا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔