سابقہ قبائلی علاقوں کی صنعتوں کو رجسٹریشن کی ہدایت

خصوصی رپورٹر  جمعرات 26 جولائ 2018
انکم ٹیکس آرڈیننس میں ترمیم کے تحت ٹیکس استثنیٰ کو کمپنی کی رجسٹریشن کے ساتھ مشروط کر لیا گیا ہے۔ فوٹو : فائل

انکم ٹیکس آرڈیننس میں ترمیم کے تحت ٹیکس استثنیٰ کو کمپنی کی رجسٹریشن کے ساتھ مشروط کر لیا گیا ہے۔ فوٹو : فائل

 اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے انکم ٹیکس آرڈیننس میں ترمیم کرتے ہوئے ضلع چترال، سوات، کوہستان سمیت مختلف اضلاع سے 30 ستمبر 2018 تک اپنے آپ کو ایف بی آر کے فیلڈ افسران کے پاس رجسٹر کرانے کی ہدایت کر دی ہے۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے انکم ٹیکس آرڈیننس میں ترمیم کرتے ہوئے اس میں نئی کلاز شامل کر دی گئی ہیں۔ انکم ٹیکس آرڈیننس میں ترمیم کر کے نئی شامل کی جانے والی کلاز کے مطابق کلاز 143کے بعد نئی کلاز 144بھی انکم ٹیکس آرڈیننس میں شامل کی گئی ہے جس کے تحت ڈسٹرکٹ چترال، دیر اور سوات، کوہستان ڈسٹرکٹ کا سابقہ قبائلی علاقہ، ملاکنڈ مانسہرہ ڈسٹرکٹ، ڈسٹرکٹ لورالائی، دالبدین، سبی ڈسٹرکٹ پشاور ڈسٹرکٹ سے ملحقہ سابقہ قبائلی علاقہ جات، کوہاٹ بنوں، لکی مروت، ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، سابقہ قبائلی علاقہ باجوڑ ایجنسی اورکزئی ایجنسی، مہمند ایجنسی خیبر ایجنسی، کرم ایجنسی، نارتھ وزیرستان ایجنسی اور ساؤتھ وزیرستان ایجنسی میں کاروباری افراد کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے آپ کو 30ستمبر 2018 تک ایف بی آر کے فیلڈ افسران کے پاس رجسٹرڈ کرائیں۔

دوسری جانب کلاز 145 میں کہا گیا ہے کہ ڈسٹرکٹ چترال، دیر اور سوات، کوہستان ڈسٹرکٹ کا سابقہ قبائلی علاقہ، ملاکنڈ مانسہرہ ڈسٹرکٹ، ڈسٹرکٹ لورالائی، دالبدین، سبی ڈسٹرکٹ پشاور ڈسٹرکٹ سے ملحقہ سابقہ قبائلی علاقہ جات اور دیگر مذکورہ بالا علاقوں میں ٹیکس استثنیٰ صرف ان کمپنیوں اور ایسوسی ایشن آف پرسنز کو دیا جائے گا جن کے رجسٹرڈ دفاتر اس علاقے میں موجود ہوں گے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔