افسوس ہے کہ ریاست اپنی زمین کی ہی حفاظت نہیں کرتی، چیف جسٹس

ویب ڈیسک  جمعرات 26 جولائ 2018
تحقیق ہوئی تو بہت سی چیزیں کھل جائیں گی، چیف جسٹس فوٹو: فائل

تحقیق ہوئی تو بہت سی چیزیں کھل جائیں گی، چیف جسٹس فوٹو: فائل

 لاہور: چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے ہیں کہ افسوس ہے کہ ریاست اپنی زمین کی ہی حفاظت نہیں کرتی۔

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس کی سربراہی میں فاضل بینچ نے ایل ڈی اے کی اراضی پر قبضے کے خلاف کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران آئل کمپنیوں کے نمائندے اور پمپ مالکان پیش ہوئے۔ پیٹرول پمپ مالکان نے موقف اختیار کیا کہ ہم نے لاہور کے مختلف علاقوں میں اراضی لیز پرلی ہے جس کا کرایہ ادا کرتے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ لیزکا مطلب یہ نہیں کہ زمین ساری زندگی کے لیے آپ کودے دی۔ سال کا 15 ، 15 ہزار روپے کرایہ ادا کرکے چسکے لیتے رہے، 15 ہزار تو پیٹرول ڈالنے والے کی تنخواہ بھی نہ ہوگی، شرم آتی ہے کہ سرکاری زمین کی بندرباٹ کی گئی، افسوس ہے کہ ریاست اپنی زمین کی ہی حفاظت نہیں کرتی۔ تحقیق ہوئی تو بہت سی چیزیں کھل جائیں گی۔

نگراں وزیر قانون پنجاب ضیا حیدر رضوی نے عدالت کو بتایا کہ میری سربراہی میں کمیٹی قائم ہو گئی ہے جو اس کا جائزہ لے گی۔ سپریم کورٹ نے صوبائی وزیر کو حکم دیا کہ آج کمیٹی کا اجلاس بلائیں اور کل رپورٹ دیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔