’’ خدمت فلو ‘‘ کے شکار ، بیمار اور خدامار

سعد اللہ جان برق  جمعـء 27 جولائ 2018
barq@email.com

[email protected]

جب سے ہم نے سائیڈ بزنس کے طور پر یہ ’’تحقیق‘‘کا دھندہ شروع کیا ہے اور اس غرض کے لیے باقاعدہ ایک ’’ٹٹوئے تحقیق ‘‘ بھی خریدا ہوا ہے تب سے یہ پراجیکٹ پر پراجیکٹ تحقیق کے چلے آرہے ہیں جن میں بعضے تو بہت ہی فضول ہوتے ہیں مثلاً کیا یہ دنیا ابھی تک گول ہے اور انسانوں نے ابھی تک اسے چپٹا نہیں کیا ہے، کیا واقعی سورج میں سوراخ ہو گیا ہے کیا واقعی ’’ اوزون ‘‘ کے ٹکڑے، کوئی یہاں گرا کوئی وہاں گرا، کیا واقعی ٹرمپ اتنا ہی بدصورت ہے جتنا تصویروں میں نظر آرہا ہے ۔

واقعی پریانکا چوپڑا کی ناک پلاسٹک کی ہے، راکھی ساونت کا پورا چہرہ پلاسٹک کا ہے یا صرف آدھا ہے ،کیا واقعی پلاسٹک کے چاول اور آٹا بننے لگے ہیں، کیا پاکستان میں اب بھی ’’کچھ ‘‘ باقی ہے جو یہ گینگ اور گینکسٹر اس کے لیے لڑ رہے ہیں، کیا عمران خان واقعی وزیر اعظم بن رہا ہے اور آیندہ خاتون اول پیرنی ہوگی، مطلب یہ کہ جیسے لوگوں نے ہمارے صحن میں رستے بنائے ہوں لیکن بعض پراجیکٹ واقعی اس قابل ہوتے ہیں کہ ان پر ٹٹوئے تحقیق کو دوڑایا جائے مثلاً یہ جو ان کے چہرے واقعی ان کے اپنے ہیں اور کیا واقعی ان لوگوں نے شرم کو ذبح کرکے کھالیا، حیا کو گھول کر پی لیا ہے اور غیرت کو بیچ کر لوٹے خرید لیے ہیں ۔

سچ تو یہ ہے کہ ہم خود بھی اس تحقیقی پروجیکٹ میں دلچسپی محسوس کر رہے ہیں کہ آخر یہ ’’ پری چہرہ لوگ ‘‘ کیسے ہیں اور آخر یہ کس میٹریل کے بنے ہوئے ہیں کہ چکنے گھڑے بھی ان کے آگے کھردرے لگیں اور تقریباًہر ناپسندیدہ جانور ان کو دیکھ کر شرمانے لگے ۔

ہمارے سامنے پہلا سوال تو یہ ہے کہ آخر وہ کونسی ’’ بھڑ ‘‘ یا زنبور ہے جس کا کاٹا ’’ خدمت ‘‘ کیے بغیر آرام نہیں پاتا وہ بھی عوام کی ؟

اس معاملے میں ہم نے ایک ماہر آف بھڑیالوجی اینڈ زنبوریالوجی سے رجوع کیا تو اس نے صاف صاف بتا دیا کہ دنیا میں ایسی کوئی بھڑ یا زنبور یا مکھی نہیں پائی جاتی جو ملیریا ڈینگی یا سوائن کی طرح کسی کو ’’خدمت فلو ‘‘ لگا ہو حتیٰ کہ افریقہ کے جنگلوں، ہمالیہ کی چوٹیوں، بحرالکاہل کی گہرائیوں اور امریکا کے شہروں میں بھی ایسی کوئی مخلوق نہیں پائی جاتی۔ ہم اس کی باتوں پر تیقن کرکے مطمئن ہونے والے تھے کہ اچانک اس نے ایک اور چنگاری پھونکی کہ ہاں اگر کسی سیارے ستارے سے حالیہ دنوں میں ایسی کوئی مخلوق کسی اڑن طشتری یا کسی اور ذریعے سے یہاں پہنچی ہو اور سیدھے پاکستان میں لینڈ کرکے تمام لیڈروں کو کاٹ چکی ہو تو ایسا ہو بھی سکتا ہے ۔

بڑا ہی جانکاہ امکان ہے کوئی اب ہماری تحقیق کے دائرے میں زمینی مخلوقات کے ساتھ ایلین ٹائپ کے مچھر یا بھڑ وغیرہ بھی شامل ہو گئے ہیں اور یہ امکان تو صد فی صد ثابت شدہ ہے کہ وہ جو کئی ایلین ٹائپ کی مخلوق ہو سیدھی پاکستان میں لینڈ ہوئی ہے، کیونکہ ہم نے ایسی کوئی خبر نہیں سنی ہے کہ دنیا کے کسی اور ملک میں بھی اتنا زیادہ ’’ خدمت فلو ‘‘ پھیلا ہوا ہو اور اس ’’فلو ‘‘ کی شدت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اس مرتبہ ’’عوامی خدمت ‘‘کے عارضے میں مبتلا ہونے والے کسی بھی بے شرمی اور ڈھٹائی سے دریغ نہیں کر  رہے ہیں نہ صرف کروڑوں روپے خرچ کرنے پر تیار ہیں بلکہ کسی کی بھی خدمت میں سر رکھ کر ’’ خدمت ‘‘ کی بھیک مانگ رہے ہیں کہ خدا کے لیے ہمیں اپنی ’’خدمت ‘‘پر مامور کرکے ہماری جان بچاؤ ورنہ یہ ’’خدمت فلو ‘‘ ویسے ہی ہماری جان لے لے گی، جس طرح ہمارے آباؤ اجداد کی جان لے کر ’’ مزاروں ‘‘ میں تبدیل کر چکا ہے ۔ نہ تو ہمارا پانی کا گھونٹ حلق سے اتر کر دے رہا ہے نہ ہی کوئی کھیل ہی لڑ کر ہمارے منہ کے اندر گھسنے پر ’’ مارے بدبو کے ‘‘ تیار ہے، مطلب یہ کہ ہمیں ابتدا اپنی تحقیق کی اس ’’خدمت فلو ‘‘ کے کسی مریض کو دیکھ کر اسے انٹرویو کرکے اور معائنہ و مشاہدہ کر کے کرنا چاہیے ۔

اس غرض کے لیے ہم نے جس مریض کو چنا وہ ہمارا جانا پہچانا تھا۔ پہلے سنا ہے کہ جب اسے یہ مرض مطلب ہے ’’ خدمت فلو ‘‘ لاحق نہیں ہوا تھا ۔ اچھا بھلا آدمی تھا اور آدمی کا بچہ بھی ۔ لیکن پھر جب وہ ایک چھوٹے موٹے ٹھیکیدار سے اچانک بہت بڑا ٹھیکیدار بن گیا تو اسے یہ کم بخت ’’ فلو ‘‘ لاحق ہو گیا، تب سے اب تک اس بیچارے کو قرار نہیں ہے جب بھی کوئی الیکشن کا موقع آتا ہے اسے عوام اور ملک و قوم کی ’’خدمت ‘‘ کا فلو لاحق ہو جاتا ہے، واہی تباہی پھرتا ہے گلیوں میں کوچوں میں دیہات میں یہاں تک کہ ایک ایک فرد کے پاس جاکر ٹھوڑی پاؤں پکڑتا ہے کہ خدا کے لیے مجھے اپنا خادم رکھ لو، اگر تم نے مجھے اپنی خدمت کے لیے رکھ لیا تو ایسی خدمت کروں گا ایسی خدمت کروں گا کہ تم کو میرے باپ داد کے لیے دعائے مغفرت مانگنے کی ضرورت پڑجائے کہ خدا بخشے ان مرحومین کو جنہوں نے اپنا یہ سپوت ہماری خدمت پر لگا کر اپنے کارنامے بھلانے پر مجبور کر دیا ۔

اب تک پاکستان میں جتنی پارٹیاں بنی ہیں ان میں کئی کئی بار ان آؤٹ کر چکا ہے اور جو پارٹیاں ابھی نہیں بنی ہیں ان میں تو پہلے ہی شامل ہو چکا ہے۔ ایک الیکشن میں تو اسے اتنا شدید خدمت فلو ہو گیا تھا کہ روزانہ ایک پارٹی بدلتا تھا لیکن جب یقین ہو جاتا تھا کہ یہ پارٹی مجھے خدمت کے لیے ٹکٹ نہیں دے گی تو فوراً کسی اور میں شامل ہو جاتا وہاں بھی خدمت کی امید نہ ہوتی تو تیسری میں ۔ ایک مرتبہ تو عجیب اتفاق ہو گیا ایک پارٹی سے نکل کر دوسری میں گیا اور ایک بڑا جلسہ اس پارٹی کے سربراہ کے اعزاز میں منعقد کیا لیکن اس شمولیتی پارٹی میں جب اسے پتہ چلا کہ وہ پارٹی تو اس حلقے میں خدمت کا ٹکٹ کسی اور کو دے چکی ہے تو جلسہ ابھی جاری تھا کہ اس نے ایک اور پارٹی سے شمولیتی جلسے کا وعدہ لے لیا اور تاریخ بھی مقررکردی ۔

اس مریض کے مطالعے اور دوسرے کئی  ’’خدمت فلو ‘‘ کے مریضوں کا مشاہدہ کرنے کے بعد یہ تصدیق تو ہوگئی کہ یہ خدمت فلو ضرور کسی مخلوق کے کاٹنے سے لاحق ہوتی ہے، اب ہمیں اس مخلوق کا پتہ لگانا تھا اور خوش قسمتی سے یہ پتہ ہمیں چل گیا ۔

اور یہ محض اتفاقاً ہوگیا تھا ہم اس مرض کی اصل جڑ تلاشنے کے لیے ان بڑے بڑے اسپتالوں کو کھوج رہے تھے جو آج کل مختلف مقام پر ہنگامی طور پر قائم کیے گئے ہیں اور آج کل وہاں مریضان خدمت یا ’’ خدمت فلو ‘‘ کے مریض جوق در جوق ’’ شفا ‘‘ کے لیے جارہے ہیں، خوربین اور دوربین دونوں سے ہم متوقع مریضوں کا جائزہ لے رہے تھے کہ کہاں سے کس قسم کی مخلوق کس شکل میں آکر ان کو ڈنک مارتی ہے جس کے کاٹتے ہی وہ ۔ میں کس کی خدمت کروں ؟ میں کس کو کھاؤں میں کس کو ہڑپوں میں کس کی خدمت کرکر کے گور کنارے پہنچاؤں لیکن ایسی کوئی مخلوق دکھائی نہیں دی نہ مچھر بھڑ نہ زنبور ،تھک ہار کر ہم ایک کمرے میں پانی پینے کے لیے گئے تو اچانک یک دم ایک دھماکے کی طرح وہ مخلوق سامنے تھی جس کے کاٹے سے خدمت فلو کا مرض ایسا لاحق ہو جاتا ہے جس کا کاٹا نہ کھانا مانگتا ہے نہ پانی بلکہ ہوا تک نہیں مانگتا اگر مانگتا ہے تو صرف ووٹ مانگتا ہے ۔

پتہ ہے وہ ’’ بلا ‘‘ کیا تھی جو ان بیچاروں خدمت کے ماروں کو کاٹ رہی تھی؟ وہ یہ ’’ خود ‘‘ تھے ، خود ہی خود کو کاٹ کاٹ کر خدمت فلو میں مبتلا کر رہے تھے اور ان کا اپناکاٹا پانی کے بجائے ٹکٹ اور ووٹ مانگ رہا تھا تب ہم پر کھلا کہ یہ خاندانی لوگ خود ہی اتنے زہریلے ہوتے ہیں کہ کسی اور زہر کی ضرورت ہی نہیں پڑتی بیچارے خدمت کے مارے ، خدمت فلو کے گرفتار اور خدمت فلو کے بیچارے ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔