ڈیم فول

انیس باقر  جمعـء 27 جولائ 2018
anisbaqar@hotmail.com

[email protected]

زبان کی تخلیق کوئی سائنسی عمل نہیں بلکہ برجستہ بول چال کا ایک سفر ہے جو شعرا اور ادبا کے علاوہ زبان دانوں اور نقادوں کی گود میں پرورش پاکر بلوغیت کی منزلوں کو طے کرکے ہمارے دامن میں پھیلا ہوا ہے۔

اردو زبان کے ایک لفظ بالکل کو ہی لے لیں جسے عربی زبان کا ہونے کی وجہ سے بال کل کے بجائے اس طرح لکھا گیا ہے اور الف کی آوازگم ہے اسی طرح انگریزی زبان کی دہلیز پر ذرا چڑھیے ایک لفظ ڈیم ہے اور آواز بھی (Dam) ڈیم کی جس کے معنی پانی کے بند کے ہیں مگر دوسرا لفظ انگریزی کا ہی ہے (Damn) آواز میں این کی آواز متروک ہے۔

آواز میں ڈیم ہی کہا جائے گا مگر صاحب زبان اس کوکس موقع محل پر استعمال کریں گے۔ اس سے مفہوم واضح ہوجائے گا مگر ڈیم فول یعنی بے وقوف بنانے کے لیے سب و شتم کے معنی میں یہ برسہا برس سے استعمال کیا جارہاہے مگر فی الحال یہ لفظ سیاسی لیڈروں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے اور خصوصاً پاکستان کے لیڈروں کے لیے کہ انھیں آنے والے وقت کا ادراک نہ تھا۔

ذرا تاریخ کے صفحات کو پلٹیے۔ اکتوبر 1958کو مارشل لا لگا ایوب خان نے عنان حکومت سنبھالی اورکچھ عرصے بعد بھارتی وزیراعظم پنڈت جواہر لعل سے دریاؤں کا باقاعدہ معاہدہ  ہوا ۔ پاکستان میں حکومتی سطح پر خوشیاں منائی گئیں۔ کچھ دور اندیشوں پر نظر رکھنے والوں خصوصاً بائیں بازو کے لیڈروں نے اعتراض کیا، یہ ان دنوں کی بات ہے جب پاکستان کی آبادی 7½/8 کروڑ کے لگ بھگ تھی جس میں مشرقی پاکستان بھی شامل تھا مگر اس معاہدے کا اثر تو مغربی پاکستان  پر ہی پڑنا تھا ۔

صدر ایوب خان کو یہ ادراک نہ تھا کہ آبادی بڑھے گی تو آنے والی حکومتیں ڈیم نہ بنائیںگی بس منگلا اور تربیلا پر ہی انحصار کرتی رہیںگی۔ بھارت میں بھی ایک وقت ایسا آگیا تھا کہ 1969 میں دلی میں پانی پانی کا غل مچا تھا مگر بھارتی حکومت ڈیموں پر جٹ گئی اور عوامی ضروریات پر توجہ دی۔

بمشکل دو برس میں بڑے شہر پانی میں شرابور ہوگئے۔ یہ وہ وقت تھا جب پاکستان کی آبادی دس کروڑ سے تجاوز کر گئی تھی تو کالا باغ ڈیم کا شوشا چھوڑا گیا مگر کالاباغ ڈیم کی آواز پر قوم پرست لیڈروں نے ہر طرف غل مچانا شروع کردیا جس میں نیشنل عوامی پارٹی سر فہرست تھی خصوصاً نیشنل عوامی پارٹی کے جنرل سیکریٹری اور پشتو کے بلند پایہ شاعر لوگوں کو بیدار کرتے رہے۔

اجمل خٹک کے ہمراہ حبیب جالب بھی ہمنوا تھے یہاں تک کہ صورتحال یوں بنی کہ سندھ میں بھی کالاباغ ڈیم کے خلاف عوام الناس یکجا ہونے لگے۔ اجمل خٹک نے صرف یہی نہیں بتایا کہ کالاباغ ڈیم کے بجائے بھاشا ڈیم بہتر ہے اس سے کسی صوبہ کو بربادی کا سامنا نہ ہوگا اور کم لاگت میں بھی تیار ہوجائے گا۔ یہاں تک کہ ایک ایسا وقت آیا کہ نیپ (NAP) نابود ہوگئی۔

خستہ حالی نے ان کو اپنی آغوش میں لے لیا اور زرپرستوں کی حکمرانی نے پاکستان پر بھرپور یلغار کی پھر کس کو یاد تھا کہ پانی پانی کا غل کریں بس بجلی کا شور تھا۔ یہ شور کسی نے نہ سنا کہ بجلی تو اس لیے معدوم ہے کہ پانی سے بجلی پیدا کرنے کے تمام راستے بند ہیں اور اب مصنوعی طریقہ کار سے بجلی کی تجلی کا دیدار ہونے لگا۔ کہیں کوئلہ تو کہیں سی این جی کی مہربانی، قومی اثاثے کو نذر آتش کرکے بجلی پیدا کی جانے لگی اور آج بھی بجلی پوری طرح عوام کی ضروریات کو پورا کرنے کی اہل نہیں مگر لیڈروں کی یہ آواز نہ آئی کہ ہم ڈیم بنائیں گے۔

بڑے افسوس کی بات ہے لیڈروں کا کام چیف جسٹس کو کرنا پڑا۔ کیونکہ عالمی اداروں نے پاکستان کو متنبہ کیا ہے کہ 2026 کے بعد پاکستان میں پانی کا کال پڑنے کا اندیشہ ہے۔ اس کی تیاری ضروری ہے مگر جب مستقبل نے قربت دکھائی اور آثار نمایاں ہوئے تو چیف جسٹس نے پہل کی اور ٹوکن منی (Token Money) سے افتتاح کیا اور اب بھی اگر حکومتوں کو خیال نہ آیا تو اس بات کا امکان ہے کہ ملک کے مکین بد ترین مشکلات کا شکار ہوجائیں۔ اس بدلی ہوئی دنیا جو سن دو ہزار کا اعصا لیے کھڑی ہے ہر قسم کی مشکلات سے گزرسکتی ہے۔

مگر پانی کے بغیر زندگی ناممکن ہوجائے گی اور اگر اب بھی بھاشا ڈیم کو اولیت نہ دی تو بھارت کی غلامی قبول کرنی پڑ جائے گی۔ کیونکہ سندھ طاس معاہدہ جو ایوب خان نے کیا تھا اس کی بنیاد پر نہ تھی کہ دس کروڑ آبادی کے لیے جو پانی کافی تھا وہ 20 کروڑ کے لیے بھی کافی ہوگا۔ لوگوں کی تجوریاں بھری جارہی ہیں۔ چھوٹے چھوٹے ایم این اے اور معمولی وزرا اربوں کے اثاثہ جات کے مالک ہیں اور ہر پاکستانی 6 لاکھ روپے کا مقروض ہے یہ نشان عبرت ہے اور حکومت کے نمایندوں کو ہی قرض کا بوجھ اتارنا ہوگا۔ خواہ ان کا اعزازیہ جو ہر ماہ بغیر کسی نئی قانون سازی اور عوامی خدمت کے خطیر رقم کا ماہانہ وصول کرتے ہیں اور ملک میں کوئی انقلابی تبدیلی لانے سے قاصر ہیں۔ کیونکہ جدید گاڑیاں اور پاکستان کو امپورٹیڈ آئٹم کی جنت بناکر عوام کو مقروض کررہے ہیں۔

سندھ حکومت نے تعلیمی مد اور ٹرانسپورٹ کو مد فاصل سمجھ لیا ہے جب کہ مانا کہ پنجاب میں تعلیم اور ٹرانسپورٹ کی مد میں کام کیا گیا ہے اور ایک ایک ایم این اے کو اربوں روپیہ کے فنڈ دیے گئے کہ ملک کو فعال بنایا جائے مگر ملک میں جو بھی کام کیا گیا اس کا مقصد لوگوں کو اپنا ووٹر بنانا مقصود تھا۔ ڈیم کی باتیں حکمران کرتے رہے ہیں اور لوگوں کو ڈیم فول بنائے کے رہے ہیں خصوصاً بارش کے بعد سیلاب کے موقعے پر یہ باتیں برسات کے موسم میں ہوتی ہیں اور قیمتی آب سمندرکی نذرکردیا جاتا ہے۔

گزشتہ 20 برسوں سے ایک کھیل عوام کے ساتھ کھیلا جا رہا ہے اور کراچی کو مظلوم شہریوں کی دنیا میں دھکیل دیا گیا ہے لیکن ڈیم بنانے کے بہلاوے اور تسلی دی جارہی ہے اس لیے مجھے اس آرٹیکل کی سرخی کو ڈیم فول کا عنوان دینا پڑا۔ یعنی ڈیم کے نام پر سیاسی جنگ بعد میں اتفاق مگر پھر بھی ڈیم نہ بنا گوکہ بھاشا ڈیم کے کالاباغ ڈیم کے مقابلے میں ملکی فوائد زیادہ ہیں پھر بھی ڈیم کے لیے حکمرانوں نے ہاتھ نہ پھیلایا اور جو قرض لیا وہ منی لانڈرنگ کی نذر کیا اور کاروبار کے نام پر عوامی جعل سازی۔ ایندھن جلاکر بجلی بنانے والے حاکم مہنگائی کی بنیاد پر بجلی دیںگے اور ملکی مصنوعات عالمی منڈی میں بنگلہ دیش اور بھارت کا مقابلہ کرنے سے قاصر ہیں لہٰذا روپیہ کی ساکھ ڈالر کے مقابلے میں کم تر ہوتی جارہی ہے۔

پاکستان کی حکمراں جماعت کو ان پانچ برسوں میں جو 26 جولائی 2018 سے شروع ہورہاہے اس کا سہرا حکمران پارٹی کے سربراہ کے سر پر باندھنا ہوگا اور کراچی کے لوگوں کو پانی کی دعوت کرنی ہوگی کیونکہ انھوں نے خاصی توقع باندھ لی ہے کہ پی ٹی آئی ان کے دکھوں کا مداوا کرسکے گی اور ان کا سورج چڑھتا نظر آرہا ہے۔ امید ہے کہ اپنے نصف وعدوں کو کم از کم وفا کریں گے کیونکہ ان کے رہنما نے نہ صرف عوام سے وعدہ کیا ہے بلکہ اولیائے کرام کی درگاہوں پر بھی ایفائے عہد کیا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔