جرم قذف کی دنیاوی و اخروی سزائیں (پہلا حصہ)

ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی  جمعـء 27 جولائ 2018
drtayyabsinghanvi100@gmail.com

[email protected]

حد کی تعریف: لغت میں حد کے معنی دو چیزوں کے درمیان حد فاصل کھینچنے کے ہیں تاکہ ہر دو ایک دوسرے سے علیحدہ رہیں یا ایک دوسرے سے آگے نہ بڑھ جائیں۔ حد کے معنی روکنے اور سزا کے بھی ہیں۔ اصطلاح شریعت میں ’’حدود‘‘ متعین کردہ سزاؤں کو کہتے ہیں۔ فقہی اصطلاح میں حد مقررہ سزا ہے جو بطور حق الٰہی واجب ہے جن میں کمی بیشی یا کسی نوع کی تبدیلی یا منسوخی سختی سے منع ہے۔

حد کی اقسام:حدود کے بارے میں علامہ ابن رشد نے جامع انداز میں فرمایا ہے کہ ’’جن جرائم پر شریعت نے سزائیں مقررکردی ہیں ان کو عقوباتِ محدودہ کہاجاتا ہے، اگر مال خفیہ طور پر بلا رضامندی مالک اس کی محفوظ جگہ سے نکال لیا گیا ہو تو وہ حد ’’سرقہ‘‘ ہوگی اور اگر جنگویانہ طریقہ اختیارکیا گیا ہو تو ’’حرابہ‘‘ ہوگی۔ بشرطیکہ بغیرکسی تاویل کے ہو، ورنہ ’’بغاوت‘‘ ہوگی جو جرم آبروریزی و ہتک کی صورت کے ہوتی ان کو ’’قذف‘‘ کہاجائے گا، قتل کے جرائم کی سزا یا تو ’’قصاص‘‘ ہوگی یا ’’دیت‘‘ حد کے اصل معنی روکنے کے ہیں اور ان سزاؤں کا نام حدود اس لیے رکھا گیا ہے کہ یہ انھی اعمال کے مرتکبین کو اور دوسروں کو بھی ان جرائم کے ارتکاب سے روکتی ہیں جن کی سزا یہ حدود ہیں۔

فلسفہ حدود کے بارے میں حضرت شاہ ولی اللہ ؒ محدث دہلوی نے اپنی شہرہ آفاق کتاب حجۃ البالغہ میں فرمایا ہے:’’بعض جرائم کے ارتکاب پر شریعت نے سزائیں مقررکی ہیں۔ یہ وہی جرائم ہیں جس کے ارتکاب سے زمین میں فساد پھیلتا ہے۔‘‘

قذف کی تعریف: عربی لغت میں قذف کے معنی تیر چلانا یا پھینکنے کے ہیں۔ جس طرح بات منہ سے نکلی اور پرائی ہوئی اسی طرح تیرکمان سے نکل کر، پتھر، ہاتھ سے پھینک کر، انسان کے اختیار سے باہر ہوجاتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے تہمت، بدکاری کو ’’رمی‘‘ سے تعبیر فرمایا:

’’جو لوگ پاک دامن عورتوں پر تہمت کے تیر پھینکتے ہیں‘‘ قذف کی اصطلاح تہمت بدکاری کے لیے خاص الخاص ہے۔اس کا اطلاق دیگر نوعیت کے اقسام اتہام پر نہیں ہوتا۔کسی پاک دامن مرد یا عورت پر بدکاری کی تہمت لگانا یا ایسی بات کہنا جس کا صریحاً مطلب یہ ہوکہ وہ بدکار ہے قذف کہلاتا ہے۔

علامہ بن رشد لکھتے ہیں کہ فقہا کا اس امر پر اتفاق ہے کہ جس قذف میں حد واجب ہے اس کی دوشکلیں ہیں پہلی یہ کہ مجرم، متضرر پر بدکاری کی تہمت لگائے۔ دوسری یہ ہے کہ وہ اس کے صحیح النسب ہونے کا انکار کرے۔کنایتاً، اشارۃً اور تعریضاً یعنی طنزاً کہنے کا اعتبار نہیں کیونکہ ان تمام صورتوں میں شک کی بھنک یقینا پائی جاتی ہے اور حد کسی ایسی دلیل سے ثابت نہیں ہوتی جس میں شبہ عدم موجود ہو۔

قذف کی شرائط۔ قاذف سے مراد وہ شخص ہے جو کسی پاک دامن مرد یا عورت پر تہمت لگائے، اپنے الزام کو چارگواہوں کی شہادت سے ثابت نہ کرسکے۔وہ چیز جو قاذف کو حد سے بری کرسکتی ہے وہ صرف یہ ہے کہ وہ چارگواہ عدالت میں پیش کرے جو یہ شہادت دیں کہ انھوں نے واقعی مقذوف کو فلاں مرد یا عورت کے ساتھ بالفعل بدکاری کرتے دیکھا ہے۔ مقذوف سے مراد وہ شخص ہے جس پر بدکاری کی تہمت لگائی گئی ہو۔ عاقل ہو، بالغ ہو، زندہ ہو یا مردہ ہو معلوم و معروف ہو۔ صریحاً زنا یا ولد الزمانا کی تہمت لگائی گئی ہو۔ اگر مقذوف مجروح عفت ہو تو قاذف قابل مواخذہ یا محاسبہ ہرگز نہیں۔ یا ایسی عورت پر الزام ہو جس کے ساتھ بچے ہوں لیکن والد نامعلوم ہو کیونکہ وہ عورت عفیفہ نہیں اگر مقذوف میں وہ باتیں پہلے سے موجود ہیں جو قاذف، مقذوف سے منسوب کررہاہے تو اس نے قاذف کے قذف سے پہلے خود اپنے پاؤں میں آپ کلہاڑی مارلی۔

مقاذف کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے جملے حقوق بحق مقذوف یا وہ متاثرہ لواحقین و متعلقین جن پر بہ سبب قذف ان کے نسب اور حیثیت عرفی پر حرف آرہا ہو، محفوظ ہیں اگر انھیں قاذف کے حق میں سزا مقصود و مطلوب ہو تو یہ ان کا قانونی حق بنتا ہے جس سے انھیں کوئی نہیں روک سکتا۔ قانونی کارروائی کا انحصارکلیتاً مقذوف کی مرضی پر موقوف ہے، مگر مدعی سست گواہ چست کی مثل کسی غیر متاثرہ فرد کو قاذف کے خلاف فرد جرم عاید کرانے کا حق نہیں پہنچتا۔ معاملہ عدالت تک پہنچ جانے کے بعد اب معافی کا اختیار نہ عدالت کو ہے نہ ہی مقذوف کو، نہ ہی رقم کی صورت میں معاوضہ سے معاملہ ختم ہوسکتا ہے، نہ ہی قاذف نالش استرداد دعویٰ کرسکتا ہے، نہ ہی معافی سے تلافی ہوسکتی ہے۔

اگر کوئی شخص کسی کی بدکاری کا عینی واحد شاہد ہے تو چپ رہے کسی سے اس کے بارے میں کچھ نہ کہے کیونکہ ثبوت اور چارگواہوں کی عینی شہادت کے بغیر بدکاری کا چرچا کرنے والا قاذف اور فاسق ہے خواہ وہ اپنی جگہ صادق ہی کیوں نہ ہو۔ ایک مسلمان پردہ پوش ہوتا ہے پردہ در نہیں پردے میں پڑی ہوئی نجاست کو پردے میں رہنے دے، بلا ثبوت پردہ نہ اٹھائے اگر وہ بدکاری کی خبر فرداً فرداً نشر کرتا پھرے گا تو سچا ہونے کے باوصف محدود گندگی کو جگہ جگہ پھیلانے کا اللہ کی نظر میں مجرم ہوگا۔ مردہ، قبر میں ہی دفن رہے تو ہوتا ہے اچھا قبر کھود کر پوری فضا میں تعفن پھیلانا ہوتا ہے برا نجاست کو بذریعہ عدالت صاف کرنے کے لیے یا تو لائے چار عینی گواہ ورنہ رہے انجان بنا۔

مسلم معاشرہ نیکی کا چمن، بدی کا مدفن ہوتا ہے۔ ازراہ تفنن بھی بدکاری کے چرچے شرعاً اچھے نہیں ہوتے کیونکہ اس طرح نیکی سکڑتی اور برائی پھیلتی چلی جاتی ہے۔ شرع میں بدکاری کا بیان لذت زبان کے لیے کرنا بھی منع ہے۔ اسلام میں ہنسی مذاق میں بھی جھوٹ بولنے کی اجازت نہیں ہے۔ یہ کاذب کے حق میں باعث ہلاکت ہے۔ حضورؐکا ارشاد ہے ’’جو شخص اس لیے جھوٹ بولتا ہے کہ لوگوں کو ہنسائے اس کے لیے ہلاکت ہے، ہلاکت ہے، ہلاکت ہے‘‘(ترمذی)

حضرت ابوبکر صدیقؓ سے مروی ہے کہ رسول اکرمؐ نے فرمایا:’’کیا میں تمہیں کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑا گناہ نہ بتاؤں، صحابہؓ نے کہا ’’ہاں‘‘ یا رسول اللہ آپؐ نے فرمایا! اللہ سے شرک کرنا، والدین کی نافرمانی، آپؐ اس وقت تکیہ کا سہارا لیے ہوئے تھے اٹھ بیٹھے اور فرمایا خبردار جھوٹی بات اور جھوٹی گواہی آپ یہی کہتے رہے یہاں تک کہ ہم نے کہا کاش آپ سکوت فرمائیں‘‘ (بخاری و مسلم)

جرم قذف کی سورۂ نور میں کئی عبرتناک دنیاوی اور خوفناک اخروی سزاؤں کا ذکر فرمایا ہے: (1) قذف کے مجرموں کو اسی (80) کوڑوں کی سزا دی جائے۔ ’’اور جو لوگ پاک دامن عورتوں پر بدکاری کی تہمت لگائیں، پھر چار گواہ اپنے دعوے پر نہ لاسکیں تو ایسے لوگوں کو اسی کوڑے مارو۔ (النور 4)

قاذف نے کسی معصوم اور بے گناہ پر تہمت بدکاری لگاکر اسے مبتلا عارکیا اس عارکو دورکرنے کے لیے مجرم کو 80 کوڑوں کی ابتلا مارکر سزادی جائے تاکہ آیندہ باز رہے۔ (2) ’’آیندہ کبھی بھی ان کی گواہی قبول نہ کرو‘‘(النور4) یہ سزا طبعی ہے کہ ہمیشہ کے لیے اس کی گواہی ناقابل قبول قرار دے دی جاتی ہے کیونکہ اس فاسد اور حاسد نے ایک سازش کے ذریعے نہ صرف یہ کہ ایک پاک دامن عورت اور مرد کی عفت اور ہتک عزت کی کوشش ناکام کی بلکہ پورے ایک خاندان کو ذلت و رسوائی کے غار عار میں دھکیلنے کا سامان کیا۔ لہٰذا ایسے بے حیا کی پیشانی پر کلنک کا ٹیکہ ہمیشہ کے لیے لگاکر معاشرے میں ناقابل اعتبار فرد قرار دے دیا جائے۔ سزائے اصلی یعنی ضرب تازیانہ اور سزائے طبعی یعنی عدم قبول شہادت کو یکجا کرنے کی غرض و غایت یہ ہے کہ جب تک وہ زندہ رہے جسمانی اور روحانی اذیت کو یاد کرکر شرم میں گھل گھل کر مرتا رہے۔             (جاری ہے۔)

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔