قتل کی سنگینی اور اس کی سزا

ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی سنبھلی  جمعـء 27 جولائ 2018
کسی بھی انسان کو قتل کرنا تو درکنار، ہم کسی بھی حال میں کسی بھی انسان کے قتل میں کسی بھی نوعیت سے معاون ثابت نہ ہوں۔ فوٹو: فائل

کسی بھی انسان کو قتل کرنا تو درکنار، ہم کسی بھی حال میں کسی بھی انسان کے قتل میں کسی بھی نوعیت سے معاون ثابت نہ ہوں۔ فوٹو: فائل

شریعت اسلامیہ میں جتنی تاکید کے ساتھ انسان کے قتل کی حرمت کو بیان کیا گیا ہے، عصر حاضر میں اس کی اتنی ہی بے حرمتی ہو رہی ہے، چناں چہ معمولی باتوں پر قتل کے واقعات روزانہ اخباروں کی سرخیاں بنتے ہیں۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ ان دنوں بعض مسلمان بھی اس جرم کا ارتکاب دینی خدمت سمجھ کر کرجاتے ہیں، حالاں کہ قرآن و حدیث میں کسی انسان کو ناحق قتل کرنے پر ایسی سخت وعیدیں بیان کی گئی ہیں جو کسی اور جرم پر بیان نہیں ہوئیں۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق کسی انسان کو ناحق قتل کرنا شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ ہے، بل کہ بعض علماء نے سورۃ النساء کی روشنی میں فرمایا ہے کہ کسی مسلمان کو ناحق قتل کرنے والا ملت اسلامیہ سے ہی نکل جاتا ہے۔

اگرچہ جمہور علماء نے قرآن و حدیث کی روشنی میں تحریر کیا ہے کہ کسی کو ناحق قتل کرنے والا بہت بڑے گناہ کا مرتکب تو ضرور ہے مگر وہ اس جرم کی وجہ سے کافر نہیں ہوتا ہے اور ایک طویل عرصہ تک جہنم میں دردناک عذاب کی سزا پاکر آخر کار وہ جہنم سے نکل جائے گا۔ نیز قرآن و حدیث کی روشنی میں علمائے امت کا اتفاق ہے کہ کسی کو ناحق قتل کرنے والے کی آخرت میں بہ ظاہر معافی نہیں ہے اور اسے اپنے جرم کی سزا آخرت میں ضرور ملے گی، اگرچہ مقتول کے ورثاء قاتل سے قصاص نہ لے کر دیت وصول کرلیں یا اسے معاف کردیں۔

حضور اکرم ﷺ نے بھی کسی کو ناحق قتل کرنے پر بہت سخت وعیدیں ارشاد فرمائی ہیں اور امت کو اس سنگین گناہ سے باز رہنے کی بار بار تلقین فرمائی ہے۔ اختصار کے مدنظر صرف دو حدیثیں پیش خدمت ہیں:

٭ حجۃ الوداع کے موقع پر آپؐ نے اپنے عظیم خطبے میں اس بات پر بھی زور دیا کہ کسی کا خون نہ بہایا جائے، چناں چہ ارشاد فرمایا: ’’ تمہارے خون، تمہارے مال اور تمہاری آبروئیں ایک دوسرے کے لیے ایسی ہی حرمت رکھتی ہیں جیسے تمہارے اس مہینے (ذی الحجہ) میں تمہارے اس شہر (مکہ مکرمہ) اور تمہارے اس دن کی حرمت ہے۔ تم سب اپنے پروردگار سے جاکر ملو گے، پھر وہ تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں پوچھے گا۔ لہٰذا میرے بعد پلٹ کر ایسے کافر یا گم راہ نہ ہوجانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔‘‘ (صحیح بخاری۔ باب حجۃ الوداع)

یعنی کسی شخص کو ناحق قتل کرنا کافروں اور گم راہوں کا کام ہے نیز ایک دوسرے کو کافر یا گم راہ کہہ کر قتل نہ کرنا۔

٭ حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا، مفہوم: ’’ کبیرہ گناہوں میں سے سب سے بڑے گناہ یہ ہیں: اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا، کسی انسان کو قتل کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا اور جھوٹی بات کہنا۔‘‘ (صحیح بخاری)

قتل کی اقسام اور ان کی سزا:

اگر کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو قتل کردے تو آخرت میں دردناک عذاب کے ساتھ دنیا میں بھی اسے سزا ملے گی، قتل کی تین قسمیں ہیں:

قتل عمد، قتل شبہ عمد اور قتل خطا

قتلِ عمد (یعنی جان بوجھ کر کسی کو ناحق قتل کرنے) کا حکم: قتل عمد وہ ہے کہ ارادہ کرکے کسی شخص کو آہنی ہتھیار سے یا ایسی چیز سے جس سے عموماً قتل کیا جاتا ہے، قتل کیا جائے۔ مثلاً کسی شخص کو تلوار یا گولی سے مارنا۔

قتل عمد شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ ہے اور مرنے کے بعد قاتل کو دردناک عذاب ہوگا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے (سورۃ النساء) اور (سورۃ الفرقان) میں بیان فرمایا جس کا مفہوم یہ ہے کہ جو شخص کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اللہ اس پر غضب نازل کرے گا اور لعنت بھیجے گا اور اللہ نے اس کے لیے بڑا عذاب تیار کررکھا ہے۔

قصاص یا دیت یا معافی: قتل ثابت ہونے پر مقتول کے ورثاء کو اختیار ہے کہ وہ اسلامی حکومت کی نگرانی میں قاتل سے قصاص لیں یعنی حکومت قاتل کو قصاصاً قتل کرے۔ شریعت اسلامیہ نے مقتول کے ورثاء کو یہ بھی اختیار دیا ہے کہ وہ قاتل کو قصاصاً قتل نہ کراکے قاتل کے اولیاء سے دیت لے لیں یا معاف کردیں۔

وراثت سے محرومی: اگر قاتل نے اپنے کسی قریبی رشتے دار کو قتل کردیا تو وہ مقتول کی وراثت سے محروم ہوجائے گا، مثلاً کسی شخص نے اپنے والد کو قتل کردیا تو وہ والد کی وراثت سے محروم ہوجائے گا۔

قتل شبہ عمد کا حکم: اگر کسی شخص نے کسی شخص کو ایسی چیز ماری جس سے عام طور پر قتل نہیں کیا جاتا ہے مثلاً پتھر، ڈنڈا، گھونسا، کوڑا وغیرہ مگر وہ اس کی وجہ سے مرگیا تو یہ بھی قتل ہوگا، لیکن اس قتل پر قصاص نہیں آئے گا، البتہ یہ بھی بڑا گناہ ہے کیوں کہ اس میں قصد پھر بھی ہے، اگرچہ قتل عمد سے کم ہے۔ اس کے علاوہ مقتول کے ورثاء کو دیت لینے کا حق حاصل ہوگا۔ اگر فریقین راضی ہیں تو دیت سے کم یا زیادہ قیمت پر بھی صلح کرسکتے ہیں۔

قتل خطا کا حکم: اگر کسی شخص سے غلطی سے کسی شخص کا قتل ہوجائے مثلاً جانور کا شکار کر رہا تھا مگر وہ تِیر یا گولی غلطی سے کسی شخص کے لگ گئی اور وہ مرگیا، اس میں قصاص تو نہیں ہے، البتہ شریعت اسلامیہ نے مقتول کے ورثاء کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ قاتل اور اس کے اولیاء سے دیت لیں یا معاف کردیں۔ مقتول کے ورثاء دیت لیں یا معاف کردیں لیکن قاتل کو اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنے کے ساتھ ساٹھ دن کے مسلسل روزے بھی رکھنے ہوں گے۔

نوٹ: قتل خطا میں بھی بے احتیاطی کا گناہ ہے، کفارہ کا وجوب اور توبہ کا لفظ اس پر دال ہے، اگرچہ قتل شبہ عمد کے مقابلے میں کم ہے۔ عمومی طور پر گاڑیوں کے حوادث میں مرنے والے افراد بھی قتل خطا کے ضمن میں آتے ہیں الَّا یہ کہ مرنے والی کی خود کی غلطی ہو۔ قتل عمد اور قتل شبہ عمد میں کفارہ (غلام کی آزادی یا ساٹھ روزے رکھنا) نہیں ہے، اگرچہ بعض علماء نے قتل خطا پر قیاس کرکے قتل عمد اور قتل شبہ عمد میں بھی کفارہ کے وجوب کا قول اختیار کیا ہے۔

قتل سے متعلق متفرق مسائل:

٭ سورۃ المائدہ کی روشنی میں فقہاء و علماء نے تحریر کیا ہے کہ اگر کسی شخص نے کسی شخص کے جسم کے کسی عضو کو تلف کردیا مثلاً آنکھ پھوڑ دی تو اسے اس کی سزا دی جائے گی، الَّا یہ کہ مجروح یعنی زخمی شخص اس کا معاوضہ حاصل کرلے یا وہ جارح کو معاف کردے۔

٭ کفارہ میں روزے خود قاتل کو رکھنے ہوں گے البتہ دیت قاتل کے اہل نصرت پر ضروری ہوگی جسے شرعی اصطلاح میں عاقلہ کہتے ہیں۔ دیت کی ادائی کی ذمے داری تمام گھر والوں بل کہ تمام قریبی رشتے داروں پر اس لیے رکھی گئی ہے تاکہ معاشرے کا ہر شخص قتل کرنے سے نہ صرف خود بچے بل کہ ہر ممکن کوشش کرے کہ معاشرہ اس جرم عظیم سے پاک وصاف رہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ایک شخص کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا اور ایک شخص کی زندگی کی حفاظت کو پوری انسانیت کی زندگی قرار دیا۔ غرض یہ کہ دیت کی ادائی خاندان کے تمام افراد پر رکھی گئی ہے تاکہ دیت کے خوف سے ہر شخص معاشرے کو قتل سے محفوظ کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے۔

٭ کفارہ کے روزے میں اگر مرض کی وجہ سے تسلسل باقی نہ رہے تو از سرنو رکھنے پڑیں گے، البتہ عورت کے حیض کی وجہ سے تسلسل ختم نہیں ہوگا۔ اگر کوئی قاتل اپنی کم زوری کی وجہ سے ساٹھ روزے رکھنے کی استطاعت نہیں رکھتا ہے تو اسے قدرت تک توبہ کرتے رہنا ہوگا۔

٭ دیت میں حاصل شدہ مال مقتول کے ورثہ میں شرعی اعتبار سے تقسیم ہوگا۔ جو وارث اپنا حصہ معاف کردے گا اس قدر معاف ہوجائے گا اور اگر سب نے معاف کردیا تو سب معاف ہوجائے گا۔ اگر کسی ایک شرعی وارث نے بھی اپنے حصہ کی دیت کا مطالبہ کرلیا یا معاف کردیا تو پھر قصاص نہیں لیا جائے گا۔ اب دوسرے ورثاء کے لیے دو ہی اختیار ہوں گے یا تو اپنے حصہ کی دیت لیں یا پھر معاف کردیں۔

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ کسی بھی انسان کو قتل کرنا تو درکنار، ہم کسی بھی حال میں کسی بھی انسان کے قتل میں کسی بھی نوعیت سے معاون ثابت نہ ہوں تاکہ ہم آخرت میں دردناک عذاب سے محفوظ رہیں۔ اگر کسی نے کوئی قتل کیا ہے تو حکومت وقت ہی کو اسے قصاصاً قتل کرنے کا حق حاصل ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں تمام گناہوں سے محفوظ رہ کر یہ دنیاوی فانی زندگی گزارنے والا بنائے اور ہمیں دونوں جہاں میں کام یابی عطا فرمائے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔