نئی حکومت سے عوام کی توقعات اور درپیش چیلنجز

ایڈیٹوریل  ہفتہ 28 جولائ 2018
عمران خان کی تقریر متاثر کن تھی عالمی سطح پر بھی اسے پسند کیا گیا۔ فوٹو: سوشل میڈیا

عمران خان کی تقریر متاثر کن تھی عالمی سطح پر بھی اسے پسند کیا گیا۔ فوٹو: سوشل میڈیا

پاکستان میں 25جولائی کو ہونے والے عام انتخابات میں پولنگ کا کٹھن اور دشوار مرحلہ مکمل ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل بھی روبہ اختتام ہے‘ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے الیکشن میں حصہ لینے والی پارٹیوں کے انتخابی نتائج بھی تقریباً مکمل ہونے سے ان کی پوزیشن بھی واضح ہو گئی ہے۔

مرکز میں پاکستان تحریک انصاف اکثریتی پارٹی کے طور پر ابھر کر سامنے آئی اور اب یہ یقینی امر ہے کہ وفاق میں اسی کی حکومت تشکیل پائے گی۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق قومی اسمبلی کی نشستوں پر پی ٹی آئی 117نشستوں کے ساتھ سب سے آگے جب کہ مسلم لیگ ن 63کے ساتھ دوسرے‘ پیپلز پارٹی 43کے ساتھ تیسرے اور آزاد ارکان 14نشستوں کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہیں جب کہ ایم ایم اے نے 7‘ ق لیگ 4 اور ایم کیو ایم نے6نشستوں پر میدان مارا ہے۔

خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھاری اکثریت حاصل کی اس کے پاس 63 نشستیں ہیں اور وہ یہاں بغیر کسی جماعت کے اتحاد کے اپنی حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائے گی۔

بلوچستان میں نئی سیاسی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی13نشستوں پر کامیاب ہوئی اور ایم ایم اے 10‘ بلوچستان نیشنل پارٹی 9 جب کہ 5آزاد امیدوار کامیاب ہوئے۔ امکان ہے کہ بی اے پی مختلف سیاسی پارٹیوں کو ساتھ ملا کر یہاں اپنی حکومت بنانے کی تگ و دو کرے گی‘ اس طرح یہاں ایک مخلوط صوبائی حکومت تشکیل پائے گی۔ سندھ میں پیپلز پارٹی 72نشستوں کے ساتھ سب سے آگے ہے اور یہاں بھی دیگر جماعتوں کے ساتھ اتحاد کے بغیر وہ اپنی صوبائی حکومت بنا سکتی ہے۔

سب سے دلچسپ مگر مشکل صورت حال پنجاب میں ہے جہاں براہ راست نشستیں 297 ہیں جن میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق مسلم لیگ ن 127‘ اور تحریک انصاف 122نشستیں حاصل کر کے ایک دوسرے سے چند قدم کے فاصلے پر آگے پیچھے بھاگتے ہوئے وکٹری کے  نشان کو چھونے کے لیے کوشاں ہیں‘ یہاں ق لیگ نے7‘ پیپلز پارٹی نے5‘ پی اے آر نے ایک جب کہ آزاد امیدواروں نے31 نشستوں پر معرکہ جیتا ہے۔

اس طرح یہاں حکومت سازی میں آزاد امیدوار بادشاہ گر کا کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں آ گئے ہیں۔ اب پنجاب کی وزارت اعلیٰ کا تاج کس کے سر پر سجتا ہے اس کا فیصلہ تو آنے والے چند روز میں ہو جائے گا تاہم سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہاں مسلم لیگ ن یا پی ٹی آئی کوئی بھی جماعت حکومت بنائے اسے چھوٹی پارٹیوں اور آزاد امیدواروں کو اپنے ساتھ ملانا ہو گا۔ اخباری اطلاعات کے مطابق پنجاب میں مخلوط حکومت بنانے میں مسلم لیگ ق کا کردار اہمیت اختیار کر گیا ہے اور سابق وزیراعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی اپنا وزن بڑھانے کے لیے آزاد امیدواروں کے ساتھ رابطوں کے لیے سرگرم ہو گئے تاکہ پنجاب کی حکومت میں ق لیگ کو مناسب حصہ مل سکے۔

سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر پنجاب میں مسلم لیگ ن حکومت سازی میں کامیاب ہو جاتی تو وہ مرکز میں تحریک انصاف کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہے اس لیے کسی ممکنہ گمبھیر سیاسی صورت حال سے بچنے کے لیے تحریک انصاف کی بھرپور کوشش ہو گی کہ پنجاب کا تخت بھی اس کے ہاتھ آ جائے۔ اس طرح بالخصوص پنجاب اور بلوچستان میں حکومت سازی کے لیے جوڑ توڑ کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ پی ٹی آئی میں پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے لیے کئی نام گردش کر رہے ہیں اور وزیراعلیٰ بننے کے خواہشمند امیدوار اپنے مقصد کے حصول کے لیے سرگرم ہو چکے ہیں۔

خیبرپختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ پرویز خٹک قومی اور صوبائی اسمبلی کی دونوں نشستوں پر کامیاب ہوئے ‘ ایسی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں کہ وہ ایک بار پھر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا بننے کے متمنی ہیں۔ سندھ میں پیپلز پارٹی 72نشستوں کے ساتھ ایک بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئی وہاں بھی حکومت سازی کے لیے جوڑ توڑ کا عمل جاری ہے‘ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہاں کا وزیراعلیٰ کون بنتا ہے۔

بلوچستان میں بی اے پی نے سب سے زیادہ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 13نشستیں حاصل کیں اس طرح وہ یہاں کی وزارت اعلیٰ کے حصول کے لیے بھاگ دوڑ کر رہی ہے‘ یہاں کی صوبائی اسمبلی کی براہ راست کل نشستیں 51 ہیں جب کہ 11نشستیں خواتین اور 3غیرمسلموں کے لیے مختص ہیں‘ اس طرح کل نشستیں 65 ہیں۔

عام انتخابات کسی بھی ملک کے نظام کو رواں رکھنے اور مستقبل کی حکومت سازی کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں‘ اس لیے ان کا تسلسل اور منصفانہ ہونا ناگزیر ہے۔ انتخابی نتائج تو سامنے آ چکے ہیں مگر شکست کھانے والی سیاسی جماعتوں نے ان انتخابات کے منصفانہ اور شفاف انعقاد پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے‘ مسلم لیگ ن‘ متحدہ مجلس عمل اور پیپلز پارٹی نے انتخابات میں انجینئرنگ دھاندلی کے الزامات عائد کیے ہیں جب کہ سیکریٹری الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ملک میں 25جولائی کو شفاف اور صاف عام انتخابات ہوئے اس حوالے سے انھیں کسی بھی حلقے سے منظم دھاندلی کی کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی۔

لیکن ہارنے والی جماعتوں کی جانب سے دھاندلی کے الزامات عائد کرنے کے بعد صورت حال وہی رنگ و روپ اختیار کر سکتی ہے جب 2013ء کے الیکشن کو تحریک انصاف نے دھاندلی کے الزامات لگاتے ہوئے انھیں متنازعہ بنا دیا تھا۔

مسلم لیگ ن کی مرکزی مجلس عاملہ کا غیرمعمولی اجلاس پارٹی صدر شہباز شریف کی زیر صدارت جمعرات کو ہوا جس میں دھاندلی کی شکایت کرنے والی سیاسی جماعتوں سے رابطے اور دھاندلی کو ثبوتوں کے ساتھ عوام کے سامنے لانے کے حوالے سے مختلف تجاویز پر بحث کی گئی‘ اس موقع پر شہباز شریف نے کہا کہ مسلم لیگ ن مرکز میں مضبوط اپوزیشن کا کردار ادا کرے گی‘ کئی جگہوں سے دھاندلی کے جو ثبوت ملے ہیں وہ الیکشن کمیشن کو مہیا کریں گے۔

گزشتہ روز تحریک انصاف کے چیئرمین اور متوقع وزیراعظم عمران خان نے عام انتخابات میں فتح کے بعد اپنی پہلی تقریر کی‘ ان کی اس وکٹری اسپیچ کو تمام سیاسی حلقوں نے سراہا۔ انھوں نے اپنی تقریر میں دعویٰ کیا کہ حالیہ انتخابات ملکی تاریخ کے شفاف اور منصفانہ  تھے تاہم اپوزیشن چاہے تو شکایات والے حلقے کھلوانے میں ان کی مدد کرینگے، وزیراعظم ہاؤس میں تعلیمی ادارہ اور گورنر ہاؤسز عوام کے لیے کھولنے جب کہ عام آدمی کا طرز زندگی بہتر کرنے، روزگار فراہمی، اخراجات میں کمی، خارجہ تعلقات میں بہتری، بھارت سے تجارت، امریکا سے برابری کے تعلقات قائم کریںگے۔

ان کا کہنا تھا کہ دیگر پارٹیوں کو اگر اعتراض ہے تو ہم خود ان کے ساتھ ملکر تحقیقات کرائیں گے، یہ پاکستان کا سب سے صاف اور شفاف الیکشن ہوا جس پر پوری قوم کو مبارکباد پیش کرتے ہیں، موجودہ الیکشن کمیشن ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے بنایا تھا اور نگران حکومتیں بھی تمام سیاسی جماعتوں نے مشاورت کے ساتھ بنائی تھیں، جب میں نے 2013 ء میں دھاندلی کی بات کی تو ساری جماعتوں نے ان کی مخالفت کی تھی، احتساب مجھ سے شروع ہوگا اور پھر وزراء کی باری آئیگی، انھوں نے کہا کہ میں وزیراعظم ہاؤس میں نہیں رہوں گا اور اپنے کام کے لیے ایک چھوٹی جگہ حاصل کرونگا۔

غربت اور روزگار کے مسائل پر بات کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا ہماری پالیسیاں اشرافیہ کے لیے نہیں بلکہ ملک کے نچلے طبقے کو اوپر اٹھانے کے لیے بنیں گی، افغانستان میں عوام نے بہت مشکل وقت گزارا ہے، ہم افغانستان میں قیام امن کے لیے ہر ممکن مدد کریں گے، ایران اور سعودی عرب سے برادرانہ تعلقات کو اور بھی بہتر بنائیں گے۔

عمران خان نے بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ تجارتی تعلقات کو مضبوط کرنا ان کی ترجیح ہوگی کیونکہ یہ دونوں ملکوں اور خطے کے لیے فائدہ مند ہے، تمام مسائل ڈائیلاگ سے حل ہونگے، اگر بھارت تیار ہے تو ہم بھی مذاکرات کے لیے تیار ہیں، اگر بھارت سے دوستی ہو تو بھارت کے ساتھ مرکزی مسائل مکالمے کے ذریعے حل ہوسکتے ہیں، مسئلہ کشمیر میز پر بیٹھ کر حل کیا جا سکتا ہے، اگر بھارت کی قیادت ایک قدم آگے بڑھائے گی تو ہم دو قدم بڑھائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ ’’ بلیم گیم ‘‘ کے ’’ لاحاصل چکر میں پڑنے کے بجائے، ہمیں صاف گوئی سے اصل مسائل کو مدِنظر رکھنا اور حل کرنا ہوگا‘‘، چین کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط کرینگے، سی پیک سے اقتصادی صورتحال بہترہوگی، غربت کے خاتمے کے لیے چین کا ماڈل اپنائیں گے، امریکا کے ساتھ متوازن تعلقات چاہتے ہیں، سعودی عرب نے ہر مشکل میں ہمارا ساتھ دیا ہے۔

مشرق وسطیٰ کشیدگی اور تنازعات کا ذکر کرتے ہوئے، تحریک انصاف کے چیئرمین نے کہا کہ ’’پاکستان کو ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیے، لڑائی میں شرکت کے بجائے لڑائی ختم کرانے کا کردار ادا کرنا ہوگا، وہ جس شخصیت سے متاثر ہیں وہ نبی کریم ؐ ہیں اور انھوں نے انسانیت کا ایسا نظام رائج کیا جس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی، وہ پاکستان کو ایسی فلاحی ریاست بنانا چاہتے ہیں جس طرح ہمارے نبیؐ نے بنائی تھی لیکن ہماری ریاست میں یہ نظام الٹا ہے جہاں آدھی سے زیادہ آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔

ہمارے ملک میں ڈھائی کروڑ پاکستانی بچے اسکولوں سے باہر ہیں، ملک میں ساری پالیسیاں کمزور طبقے اور غریب کسانوں کے لیے بنیں گی، ہماری کوشش ہوگی کہ سب سے زیادہ پیسہ انسانی ترقی پر خرچ ہو، قانون سب کے لیے برابر ہو گا، ایسے ادارے قائم کرینگے جو اس ملک کے گورننس سسٹم کو ٹھیک کریں گے، سادگی اپنائیں گے، اپنے خرچ کم کریں گے اور عوام کے ٹیکس کے پیسے کی حفاظت کریں گے۔

عمران خان کی تقریر متاثر کن تھی عالمی سطح پر بھی اسے پسند کیا گیا۔ بہرحال پاکستان اب ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے تحریک انصاف کے ووٹرز اور عوام کو اس سے جو توقعات وابستہ تھیں اب ان کو عملی جامہ پہنانے کا وقت آ گیا ہے۔

عمران خان جس روشن اور کرپشن سے پاک پاکستان کی نوید سناتے رہے اب عوام منتظر ہیں کہ وہ اس پر کس انداز سے عملدرآمد کرتے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں نے انتخابات کے حوالے سے جن تحفظات کا اظہار کیا ہے اس سے ان اشاروں کو تقویت مل رہی ہے کہ پی ٹی آئی حکومت کو بھی دھرنوں اور احتجاج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔نئی حکومت کے سامنے داخلی اور خارجی سطح پر بیشمار مسائل منہ کھولے کھڑے ہیں ایسے میں اپوزیشن جماعتوں کو ملک کو بحران سے نکالنے کے لیے اپنا آئینی کردار ادا کرنا چاہیے اور کسی ایسے فعل سے گریز کرنا چاہیے جس سے ملک ایک بار پھر انارکی اور انتشار کا شکار ہو جائے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔