ایک موقع اور سہی

جاوید قاضی  ہفتہ 28 جولائ 2018
Jvqazi@gmail.com

[email protected]

سورج ڈھلنے کے بعد صبح جو سورج ابھرا وہ کتنا نیا تھا؟ ضروری نہیں ہر وہ چیز جو نئی ہو وہ اچھی بھی ہو اور ہر وہ چیزجو چلی جائے وہ بری ہو۔ ہم 1970ء میں جس ڈگر سے گزرے تھے وہ کچھ اسی طرح سے تھے، ہم نے اس وقت لوگوں کے جمہوری فیصلے کو تسلیم نہیں کیا۔ ہم پھر پانچ جولائی 1977ء کو ایک اور ڈگر سے گزرے تھے وہ ڈگر جو دھاندلی کے خلاف چلائی ہوئی تحریک سے ابھری تھی۔

بارہ اکتوبر 1999ء کو ایک نئی راہ پر کھڑے ہو گئے اورآج ہم پچیس جولائی کو پیدا ہوئے ہیں۔ سب بت گرائے گئے ہیں، سب تاج اچھالے گئے ہیں، اگر یہ انتخابات شفاف تھے تو اور اگر یہ نہیں تھے تو؟ ہم نے ہر انتخابات پر سوالیہ نشان لگائے مگر حکومت کرنے والے پانچ سال حکومت کرگئے اور یہ بھی ہوا کہ بالآخر دھاندلی جب بھی محور بنی اس کے پیچھے کوئی سازش تھی، جوکبھی آمریت کی شکل اختیارکر بیٹھی،کبھی اختیارکرتے کرتے رہ گئی۔ وہ بھٹو تھا جو 1970ء کے بعد عمران خان کی طرح ظہور پذیر ہوا اور 1979ء کو انھی کے ہاتھوں وہ مارا تو گیا مگر وہ نظریہ بن گیا۔ اس نظریے کوکسی اور نے نہیں اس کے داماد نے رسوا کیا، اسے پیسے بنانے کی لت لگ گئی تھی۔

عمران خان نوجوانوں میں ولولہ بن کے ابھرے، یہ وہ زمانے تھے جب طلباء تنظیموں پر پابندی تھی، مگر یہ نوجوان سوشل میڈیا پر چھائے ہوئے تھے، ان نوجوانوں کوکچھ بھی پتہ نہیں تھا کہ ان کی کوئی ٹریننگ بھی نہیں ہوئی۔ یہ نہ دائیں بازو کے ہیں اور نہ ہی بائیں بازو کے، یہ اپنے رویوں سے ماڈرن ہیں، ان میں بہت ساری لڑکیاں بھی ہیں۔ یہ سارے اربن پاکستان کے ترجمان تھے اور پھر عمران خان رورل پاکستان کو نکل چلا مگر اسے وہاں الیکٹیبلز ہی ملے اور الیکٹیبلز ہی درکار تھے، پھر یوں ہوا کہ وہ ہر جگہ اپنا سکہ جماتا گیا یہاں تک کے ستر سال کی تاریخ میں پہلی بار کراچی یوں کہیے کہ سندھ اربن کا ملکی سیاست پر اعتماد بحال ہوا۔

وہ پہلے جماعت اسلامی کے کنویں سے نکلے تو الطاف حسین کی بوتل میں پھنس گئے جب کراچی میں Vacuum پیدا ہوا تو بلاول بھٹو کود پڑے مگر پڑھا لکھے کراچی کو بلاول بیوقوف نہیں بنا سکا۔ بلاول کا توکوئی قصور نہیں یوں کہیے کہ زرداری بیوقوف نہیں بنا سکا، اس لیے کہ ان کو تو پتہ تھا کہ بلاول، زرداری کا ایک مہرہ ہے۔ عمران خان کو ابھی سندھ رورل جانے میں بہت دشواریاں ہیں۔

ایک تو وہاں وڈیرا شاہی ہے دوسرا یہ کہ وہ لوگ صوفی اور سیکیولر ہیں، جب کہ عمران خان یہ سب کچھ نہیں۔ ان کی زوجہ ان کو صوفی اقدارکے مزاج سے بخوبی واقف کرتی رہی ہیں مگر ان کے صوفی مزاج اور سندھ کے صوفی مزاج میں دن رات کا فرق ہے۔ یہاں اس بار اگر صحیح حکمت عملی کے ساتھ وہ ابھرکر اور وہ بیانیہ دے جس سے رورل اور اربن سندھ میں موجود مصنوعی دیوار ٹوٹ جائے اور اربن سندھ، سندھ کے دہقان اور افلاس میں مارے ان لوگوں کا اس وڈیرہ شاہی سے نجات دلائے اور یہ عین ممکن ہے کہ رورل سندھ کے اندر پچاس سال سے بنی یہ بھٹوکی پارٹی بھی ایک زرداری کلب بن کے رہ جائے، مگر یہ سب ممکن بھی نہیں اور لوگوں کو بیوقوف بنانا اتنا آسان بھی نہیں۔ اس کے لیے آپ کو حقیقی طور پر لوگوں کا لیڈر بننا ہوگا۔

یہ بھی اچھا ہوا کہ وفاق میں اب چند آزاد ممبران کو ملا کے پی ٹی آئی حکومت بنا سکتی ہے۔ اسے اب مخلوط حکومت بنانے کی ضرورت نہیں۔ پنجاب میں بھی پی ٹی آئی حکومت بنا سکتی ہے اور سندھ میں ایک بھرپور اپوزیشن کی حیثیت میں ابھر سکتی ہے، وہ سندھ میں آنے والے لوکل باڈیز کے انتخابات کو بڑا چیلینج سمجھ کے لے اور یہ معرکہ صحیح طرح انجام دے سکتی ہے۔

ہمیں یہ انتخابی نتائج ماننے پڑیں گے۔ ووٹ تو میں نے بھی خان صاحب کو نہیں دیا، لیکن وہ حقیقت بن کے ابھرے ہیں اور ان کو پورا موقعے ملنا چاہیے۔

سب سے بڑا میدان اور سب سے بڑا چیلنج جو اس حکومت کو ہو گا وہ معاشی چیلینج ہے۔ یہ حکومت آئی ایم ایف کے پاس جائے گی اور اس کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں۔ آئی ایم ایف ہمیں اپنی آمدنی بڑھانے اور خسارہ کم کرنے کی شرط لگائے گا۔ اس کے لیے ہمیں نئے ٹیکسز لگائیں گے اور ترقیاتی بجٹ کم کریں گے لیکن خانصاحب کو سو فیصد حکومتی اخراجات بھی کم کرنے ہوں گے جو نواز شریف حکومت نے سو فیصد 2013ء کے بعد آج تک بڑھائے ہیں۔

مجھے نہیں لگتا کہ خانصاحب وزیراعظم ہاؤس شفٹ ہوں گے۔ جس طرح ان کے جیتنے کے بعد والی تقریر سے اندازہ ہو رہا تھا، لیکن کیا یہ فطری عمل ہوگا؟ اگر ایسا ہوا تو پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہوگا۔

اتنی ساری prime land ہم نے ایسے ہاؤس کو دی ہوئی ہے ہر ضلع میں جوکمشنر ہاؤسز ہیں وہ انگریزوں کے زمانے سے ہیں اور یہ ایکڑوں میں ہیں ۔ ایسے ہاؤسزکی زمین بیچی بھی جا سکتی ہے اور اس سے ریونیو ملے گا جو قرضہ اتارنے میں مدد دے گا ۔

اس ملک کو میگا پروجیکٹ سے زیادہ mini پروجیکٹس چاہئیں۔ چھوٹے چھوٹے قصبوں میں اسکول اور اسپتالیں چاہئیں۔ پینے کا صاف پانی چاہیے۔ ضرورت ہے اس ملک کو ایک ایسے ڈاکٹر من موہن سنگھ جیسے اکانومسٹ کی جو اس ملک کی مجموعی پلاننگ کر سکے۔

اس الیکشن میں مذہبی جماعتوں کو اتنا ووٹ نہیں مل سکا جو پچھلی مرتبہ ملا، اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ووٹر اب ان سے دل برداشتہ ہو چکے ہیں۔

ایک کروڑ چالیس لاکھ نئے ووٹرز اس مرتبہ رجسٹرڈ ہوئے اور یہ نوجوان تھے ان میں عورتوں کا تناسب زیادہ تھا۔ اربن پاکستان میں عورتوں کی پولنگ اسٹیشن کھچا کھچ بھرے ہوئے تھے اور یہ سب نئی سوچ اور نئی توانائی کے ساتھ ملک کے اندر سیاست کو متعارف کروا رہے ہیں۔

سیاست اب بہت تیز ہوگئی۔ صوبائی و قومی اسمبلی دونوں میں اسٹرانگ اپوزیشن آئیں گی اور اسٹرانگ اپوزیشن کا آنا خود ایک اچھا عمل ہے۔ اس سے اور حکومت کے کاموں میں transparency آتی ہے۔

ابھی تک کوئی ٹھوس شواہد نہیں آئے جس سے دھاندلی کو ثابت کیا جا سکے۔ انتخابی نتائج دیر سے آنا شروع ہوئے جکہ غلط تھا مگر اس سے دھاندلی کو ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ خود یورپی یونین کے مبصرین نے الیکشن کے نظام میں اور اس کے عمل میں اس کی شفافیت کو سراہا ہے۔ پولنگ ڈے پر دھاندلی نہیں ہو سکتی ہے یا اس بات پر بحث ہو سکتی ہے کہ سب کو الیکشن لڑنے کے لیے اپنی compaign چلانے کے لیے برابرکے مواقعے نہیں تھے۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ نواز شریف کو بیل ملنی چاہیے تھی تا کہ وہ اور مریم اپنی پارٹی کی الیکشن compaign چلاتے۔ لیکن یہ بات root of the matter  نہیں ہے۔ میاں صاحب کی پارٹی سینٹرل پنجاب کی پارٹی تھی ان کے پاس جو پی ایم ایل کیو کے آئے ہوئے لوگ تھے وہ بھانپ کے بھاگ گئے کہ میاں صاحب مروائیں گے۔ خود فیصل آباد کی ٹریڈر سوچ نے اپنا موقف ووٹ کے ذریعے میاں صاحب تک پہنچانے کی کوشش کی۔

عمران خان میں سڑکوں پر آنے کی طاقت ہے۔ وہ سندھ حکومت کی ناک میں دم کر سکتے ہیں اور یہی کام انھوں نے میاں صاحب کے خلاف کیا۔ یہ کام ان کوکرنا آتا تھا، انھوں نے کیا، مگر یہ کام میاں صاحب کو یا اب کے جو باقی بچی پیپلز پارٹی ہے ان کوکرنا نہیں آتا۔ یہ کام ایم ایم اے کوکرنا آتا ہے، لیکن یہ سب اگر ایک ساتھ کھڑے ہوکر احتجاج رقم بھی کرائیں۔ وہ نہیں کر پائیں گے جب تک ان کے پاس ٹھوس ثبوت ہوں۔ محض مفروضوں سے کام نہیں چلے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ خان صاحب کو حکومت بنانے اور حکومت چلانے کا بھرپور موقع ملنا چاہیے۔

خان صاحب کے پی کے میں تو good governance نہ دے پائے مگر ایک موقع اورسہی اور یہی ووٹرز نے ووٹ دے کرکیا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔