عالمی معیشت پر یہودی اجارہ داری

سردار قریشی  ہفتہ 28 جولائ 2018

پچھلے دنوں اس موضوع پر محمد ندیم اعوان کا ایک تحقیقی مقالہ پڑھنے کا اتفاق ہوا، جس کے مطابق آج عالمی سطح پر جو معاشی بحران پایا جاتا ہے وہ گریٹر اسرائیل کے عالمی صیہونی منصوبے کی خفیہ دستاویز پر مشتمل ’’یہودی پروٹوکولز‘‘ کا مرہون منت ہے۔

بحران پیدا کرنے کے لیے تمام ممالک سے سونا چاندی ہتھیا کر بدلے میں کاغذ کے استعمال پر مجبورکیا گیا،کیونکہ جب تک لین دین، معاملات و تجارت سکوں پر سونا چاندی کے وزن کے لحاظ سے ہوا کرتے تھے، اس وقت تک عالمی معیشت کوکنٹرول کرنا ممکن نہیں تھا۔ چنانچہ گولڈ اسٹینڈرڈ،گولڈ ایکسچینج اسٹینڈرڈ، سلور سرٹیفیکیٹ اور بریٹن ووڈز جیسے معاہدوں کے ذریعے کاغذی کرنسی (خصوصاً ڈالر جس کے پیچھے نجی یہودی بینکاروں کی سوچ کار فرما ہے) کو فروغ دیا گیا، جس کے بارے میں امریکا کے تیسرے صدر جیفرسن نے 1788ء میں کہا تھا:

‘‘Paper is poverty, it is only the ghost of money, and not money itself.’’

یعنی کاغذی کرنسی رقم نہیں، محض رقم کا بھوت ہے اور غربت ہے ۔کرنسی محض ایک خیال کا نام ہے ، جس پر سب کو اعتبار ہوتا ہے اور لوگوں کا یہی اعتبار پلاسٹک، دھات یا کریڈٹ کارڈ کوکرنسی کا درجہ دیتا ہے ۔ 1450ء سے 1530ء تک عالمی تجارت پر پرتگال کا سکہ چھایا رہا۔ 1530ء سے 1640ء تک عالمی تجارت پر ہسپانیہ کا سکہ حاوی رہا۔ 1640ء سے 1720ء تک عالمی تجارت ولندیزی سکے کے زیر اثر رہی۔ 1720ء سے 1815ء تک فرانس کے سکے کی حکومت رہی۔

1815ء میں فرانس کے بادشاہ نپولین کی شکست کے بعد 1920ء تک برطانوی پاؤنڈ حکمرانی کرتا رہا اور تب سے لے کر آج تک امریکی ڈالر راج کر رہا ہے، لیکن اب اس کی مقبولیت تیزی سے گرتی جا رہی ہے، جو محض امریکی حکومت پراعتماد اور اس کی فوجی دھونس کی وجہ سے قائم ہے۔اس دوران جس نے بھی عالمی سطح پر ڈالرکی حیثیت کوکم کرنے کی کوشش کی یا سونے، تیل اور تجارت کی خرید وفرخت کے لیے ڈالرکے مقابلے میں کسی دوسری کرنسی کو رواج دینے کا سوچا بھی تو اسے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ پرائے تو رہے ایک طرف ،اپنوں کو بھی نہیں بخشا گیا ۔امریکا کے ساتویں صدر اینڈریو جیکسن نے فروری 1834ء میں ایک تقریرکے دوران بینک ریاست ہائے متحدہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا۔

’’ میں بڑے غور سے مشاہدہ کررہا ہوں کہ بینک ریاست ہائے متحدہ کیا کررہا ہے۔ میرے آدمی کافی عرصے سے تم پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور اب میں قائل ہوچکا ہوں کہ تم لوگوں نے بینک میں جمع شدہ رقم سے اشیائے خور و نوش پر سٹہ کھیلنا شروع کردیا ہے۔ جب تم جیتتے ہوتو رقم آپس میں بانٹ لیتے ہو اور جب تمہیں نقصان ہوتا ہے تو اسے بینک کے کھاتے میں ڈال دیتے ہو۔ تم مجھے بتاتے ہوکہ اگر میں تمہارے بینک کا سرکاری اجازت نامہ منسوخ کردوں تو دس ہزارگھرانے بر باد ہوجائیں گے ۔ معززین ! ہو سکتا ہے یہ درست ہو، لیکن یہ تمہارا گناہ ہے، اگر میں نے تمہیں اسی طرح کام کرنے دیا تو تم لوگ پچاس ہزار خاندان تباہ کردوگے اور یہ میرا گناہ ہوگا۔ تم لوگ زہریلے سانپوں اور چوروں کا گروہ ہو اور میں تمہیں ہر حال میں ختم کرکے رہوں گا ۔‘‘

اگرچہ کانگریس نے بینک ریاست ہائے متحدہ کی دوبارہ بحالی کا بل منظورکر لیا تھا مگر بعد میں اینڈریو جیکسن نے اسے ویٹوکردیا تھا۔ 30 جنوری 1835ء کو اینڈریو جیکسن پر قاتلانہ حملہ ہوا لیکن اس پر چلائی گئی دونوں گولیاں اسے نہیں لگیں۔

امریکا کے سولہویں صدر ابراہم لنکن نے 21 نومبر 1864ء کو اپنے ایک خط میں عالمی بحران کی پیش گوئی کرتے ہوئے کہا تھا ’’ میں دیکھ رہا ہوں کہ عنقریب ایک بڑا بحران آنے والا ہے جو مجھے پریشان کر دیتا ہے اور میں اپنے ملک کی حفاظت کے خیال سے لرزنے لگتا ہوں۔ کارپوریشنوں کو بادشاہت مل گئی ہے اور اعلیٰ سطح پرکرپشن آنے والی ہے۔ دولت کی طاقت لوگوں کی سوچ پر حاوی ہوکر اپنا راج جاری رکھنے کی پوری کوشش کرے گی یہاں تک کہ ساری دولت چند ہاتھوں میں سمٹ جائے اور جمہوریت تباہ ہو جائے گی۔‘‘ چند ہی مہینوں بعد 1865ء میں ابراہم لنکن کوگولی مار کرموت کی نیند سلا دیا گیا۔

امریکا کے بیسویں صدر جیمزگارفیلڈ نے عالمی سطح پرعوام کا خون چوسنے والے مالیاتی اداروں کا بھانڈا پھوڑتے ہوئے کہا تھا۔ ’’جوکوئی بھی کسی ملک میں کرنسی کوکنٹرول کرتا ہے وہ دراصل ساری معیشت اور ساری صنعت کا مالک ہوتا ہے ۔‘‘ اس صدر کو صدارت کے ساتویں مہینے میں 2 جولائی 1881ء کوگولی مار دی گئی تھی۔ یکم جنوری 1974ء کو ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کے بینکوں کو حکومتی تحویل میں لے لیا، جنھیں عالمی بینکارکنٹرول کرتے تھے۔ عالمی بینکاروں نے ہنری کسنجرکے کندھے پر بندوق رکھ کر انڈیا کے تفصیلی دورے سے واپسی پر کچھ دیرکے لیے پاکستان بھیج دیا اور وہ ہمیں للکارکر چلے گئے۔ تاریخ میں ان کے کہے ہوئے الفاظ آج بھی محفوظ ہیں:

‘‘Then we will make a horrible example of you!’’

یعنی پھر ہم تمہیں ایک دہشتناک مثال بنا دیں گے۔ عالمی یہودی بینکاروں کو للکارنے کی وجہ سے ذوالفقار علی بھٹو کو 4 اپریل 1979ء کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑے ۔ 1997ء میں ایک سازش کے تحت ملائیشیا کی کرنسی رنگٹ کی قدر اچانک گرکر تقریباً آدھی رہ گئی۔ اس پر ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ تمام اسلامی ممالک کو آپس میں لین دین اور تجارت کے لیے امریکی ڈالر پر انحصارکی بجائے اپنی ایک کرنسی بنانی چاہیے یا سونے کے دینار پر لین دین کو فروغ دینا چاہیے تاکہ عالمی معیشت پر امریکا کے پشت پناہ یہودیوں کی اجارہ داری کو ختم کیا جا سکے، اور انھوں نے 2003ء کے وسط تک مجوزہ سونے کا دینار جاری کرنے کا اعلان بھی کیا تھا۔

ظاہر ہے سونے کے دینار میں لین دین سے شرح تبادلہ کی ضرورت ختم ہو جائے گی جس پر مغربی ممالک کی معیشت کا انحصار ہے۔ اس لیے مہاتیر محمد کو 2003ء میں ہی اقتدار سے بے دخل کر دیا گیا اور عبداللہ احمد بداوی کو وزیر اعظم بنا دیا گیا، جس نے ملکی سطح پر سونے کا دینار جاری ہونے سے روک دیا۔ لیکن ملائیشیا کی ایک اسٹیٹ کیلانتن نے پھر بھی 20 ستمبر 2006ء کو سونے کے دینار جاری کیے جن کا وزن 25ء 4 گرام ہے اور یہ 22 قیراط سونے سے بنے ہوئے ہیں۔

صدام حسین نے بھی ایسی ہی جسارت کی تھی۔ 2000ء میں انھوں نے یہ کوشش کی تھی کہ عراق کو تیل کا معاوضہ امریکی ڈالرکی بجائے کسی اورکرنسی میں دیا جائے۔ صدام کا یہ مطالبہ امریکی ڈالرکی بڑھتی ہوئی مقبولیت پر براہ راست ایک مضبوط وار تھا۔ صدام کا یہ ناقابل معافی جرم آخرکار انھیں لے ڈوبا۔ لیبیا کے معمر قذافی بھی صدام حسین کی راہ پر چل پڑے اور سال 2009ء میں افریقہ سے لین دین اور تجارت کے لیے سونے کا دینار نافذ کرنے کا ارادہ کیا اس لیے انھیں بھی نشان عبرت بنا دیا گیا۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ دنیا کے تقریباً ہر چھوٹے ملک میں وہاں کی کاغذی کرنسی حکومت جاری کرتی ہے تاکہ حکومتی آمدنی میں اضافہ ہو، لیکن اس وقت دنیا کی سب سے بڑی کاغذی کرنسی ڈالر امریکی حکومت جاری نہیں کرتی بلکہ ایک نجی ادارہ فیڈرل ریزرو (سینٹرل بینک) جو دسمبر 1913ء میں وجود میں آیا تھا، جاری کرتا ہے ۔

عام طور پر فیڈرل ریزروکو حکومتی ادارہ سمجھا جاتا ہے جب کہ حقیقتاً یہ ایک نجی ادارہ ہے، جو چند یہودی کرتا دھرتاؤں کی محنتوں کا نتیجہ ہے، جو ڈالر چھاپ چھاپ کر امریکی حکومت کو نہ صرف قرض دیتا ہے بلکہ سود سمیت وصول بھی کرتا ہے۔ اپنی بے تحاشا دولت کے باعث یہودیوں کا یہ ادارہ امریکی حکومت کوکنٹرول کرتا ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ 1865ء میں مقبول امریکی صدر ابراہم لنکن کے قتل کے ٹھیک سو سال بعد 35 ویں صدر جان ایف کینیڈی کو ان کی اس جسارت پر قتل کروا دیا گیا کہ انھوں نے 4 جون 1963ء کو ایک فرمان کے ذریعے خود امریکی حکومت کی طرف سے اپنے پاس موجود چاندی کے عوض ڈالر چھاپنے کا اعلان کیا تھا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔