انتخابات کی عالمی تاریخ

ذیشان محمد بیگ  اتوار 29 جولائ 2018
فوٹو : فائل

فوٹو : فائل

الیکشن وہ رسمی عمل ہے جس کے تحت لوگ اپنے اجتماعی فیصلے کے ذریعے کسی فریاد یا افراد کو عوامی نمائندگی کے عہدوں کے لیے منتخب کرتے ہیں۔ 17 ویں صدی سے یہ طریقۂ کار جدید جمہوریت کے نمائندہ معاشروں میں باقاعدہ رائج ہے۔

عام طور پر انتخابات سے مراد وہ چناؤ لیا جاتا ہے جو قانون ساز اداروں کے لیے کیا جائے، حالانکہ اس کا انعقاد سربراۂ حکومت یا مملکت، عدلیہ، علاقائی اور مقامی حکومتوں کے انتخاب کے لیے بھی کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہی عمل بہت سی نجی اور کاروباری تنظیموں، کلبوں، رضاکار انجمنوں اور تجارتی اداروں میں بھی کسی فرد یا افراد کی مختلف عہدوں پر تعیناتی کے لیے بروئے کار لایا جاتا ہے۔ تاہم عمومی لحاظ سے جدید جمہوری نظام میں لفظ ’’انتخابات‘‘ کو عوامی نمائندوں ہی کے چناؤ کے ایک ذریعہ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

یونان کے قدیم شہر ’’ایتھنز‘‘ (جو پانچ ہزار سال پرانا شہر ہے اور پانچویں صدی قبل از مسیح سے ہی تمدن کا گڑھ اور مغربی تہذیب کا بانی سمجھا جاتا ہے) میں آج کے جدید جمہوری نظام کے برعکس انتخابات میں حصہ لینے کا حق صرف اشرافیہ کو ہی تھا اور زیادہ تر سیاسی عہدے نامزدگیوں کے ذریعے پر کیے جاتے تھے اور اس نامزدگی کی بنیاد حسب نسب، دولت و ثروت اور جنگی کارنامے وغیرہ پر ہوتی تھی اور انہی پیمانوں کے حساب سے جو جتنے اعلیٰ رتبے کا حامل ہوتا اتنے ہی بڑے عہدے کا اہل قرار پاتا۔

تاہم قدیم یونان میں لگ بھگ 508 قبل از مسیح سے انتخابات کا ایک اور طریقہ بھی رائج تھا وہ یہ کہ ہر سال ووٹرز (جو بڑے زمیندار ہوتے تھے) سے پوچھا جاتا کہ وہ کسی سیاسی راہنما یا کسی دوسرے امیدوار کو اگلے دس سال کے لیے نااہل اور جلاوطن قرار دینے کے لیے ووٹ دیں اور یوں جو امیدوار ان انتخابات میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرتا وہ اگلے دس سال کے لیے جلاوطن کردیا جاتا۔ ان انتخابات کو ’’منفی انتخاب‘‘ کہا جاتا تھا۔

انتخابی عمل کے شروع کے دور میں نہ بیلٹ پیپرز ہوتے تھے اور نہ ہی بیلٹ باکس، نہ انتخابی نشان اور نہ ہی سیاسی جماعتیں۔ ووٹر اپنے پسند کے امیدوار کا نام کسی بھی ٹوٹے ہوئے برتن کی ٹھیکری پر لکھ کر جمع کروا دیتا تھا اور یوں اس کا ووٹ کاسٹ ہو جاتا۔ اگر کوئی امیدوار 6,000 سے زائد ووٹ لیتا تو اسے جلا وطن کردیا جاتا اور اگر کوئی بھی اتنے ووٹ نہ لے پاتا تو پھر سب ہی اس نااہلی اور جلاوطنی سے اگلے ایک سال کے لیے بچ جاتے اور کیونکہ ووٹ ڈالنے کا حق صرف مرد زمینداروں کو ہی حاصل تھا اس لیے ووٹروں کی تعداد کم ہی ہوتی تھی۔ اس لیے حد سے زیادہ غیر مقبول سیاسی لیڈر ہی اس انجام کو پہنچتے تھے۔

13ویں صدی عیسوی میں یورپ کے ’’مڈل ایجز‘‘ یا ’’میڈیول ایجز‘‘ کے زمانے میں ریاست ’’وینیشن‘‘ Venetian (موجودہ وینس) مستحکم ہوئی تو وہاں چالیس ممبران پر مشتمل ایک ’’گریٹ کونسل‘‘ تشکیل دی گئی۔ ’’وینیشنز‘‘ نے ’’مثبت‘‘ انتخابات کا طریقہ اختیار کیا، جس میں ووٹرز، مقابلے میں کھڑے ہر امیدوار کو ایک ایک ووٹ دیتے تھے اور جس امیدوار کو وہ منتخب نہ کرنا چاہتے اسے کوئی ووٹ نہ دیتے۔ یوں جیتنے والا امیدوار اسے مانا جاتا تھا جو سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرتا۔

انتخابات کے عمل کو اوج کمال پر برطانیہ نے پہنچایا۔ جس کی پارلیمنٹ کو آج ’’دنیا کی پارلیمنٹوں کی ماں‘‘ کہا جاتا ہے۔ 1832ء میں برطانیہ کی پارلیمنٹ نے 19 ویں صدی میں کی جانے والی تین اہم ترین ترامیم میں سے ایک کے ذریعے رائے دہی کے دائرے کو بہت وسیع کردیا اور ووٹ دینے کا حق عام آدمی کو بھی دے دیا گیا۔ تاہم یہ حق صرف مرد حضرات کو ہی مل سکا۔ برطانیہ میں خفیہ رائے شماری کا آغاز 1872ء میں ہونے والے انتخابات سے ہوا۔ 1920ء تک پورا مغربی یورپ اور شمالی امریکہ اپنے مرد رائے دہندگان کو یہ حق دے چکا تھا۔ خواتین رائے دہندگان کو ووٹ دینے کا حق لینے کے لیے مزید انتظار کرنا پڑا اور انہیں یہ حق برطانیہ میں 1928ء، فرانس میں 1944ء، بیلجئم میں 1949ء اور سوئٹزر لینڈ کی خواتین رائے دہندگان کو 1971ء میں ملا۔

عام طور پر جمہوریت میں انتخابات اور ان کے نتیجے میں نمائندہ حکومت کا قیام لازم و ملزوم سمجھا جاتا ہے۔ یقینا یہ بات صحیح بھی ہے لیکن ایک ہمہ گیر حق رائے دہی انتخابات کا لازمی جز نہیں۔ رائے دہندگی عام قانونی ضروریات کے تحت محدود بھی ہوسکتی ہے۔ جیسا کہ اکثر ممالک میں رائے دہندگان کے ووٹ ڈالنے کا تناسب نصف سے بھی کم ہوتا ہے۔ اس کے برعکس کئی ممالک میں رائے دہندگان کی نصف تعداد سے زیادہ ووٹوں کا ڈالا جانا ایک لازمی قانونی ضرورت ہے، اگر ایسا نہ ہو تو انتخاب کالعدم ہوجاتے ہیں اور ان کا دوبارہ انعقاد کیا جاتا ہے۔

17 ویں صدی میں امریکہ اور فرانس کے انقلابات نے یہ قرار دیا کہ مملکت کا ہر شہری ریاست کی نظر میں برابر حیثیت رکھتا ہے۔ مگر ووٹ کا حق محض چند لوگوں کو ہی حاصل رہا ہے اور ہمہ گیر رائے دہندگی کا تصور فروغ پا چکنے کے باوجود ’’ایک آدمی ایک ووٹ‘‘ کا تخیل، حقیقت کا روپ نہ دھار سکا۔ کچھ ممالک میں اجتماعی ووٹ کا طریقہ رائج کیا گیا۔ اس طریقہ کار میں ووٹ دینے کا حق مختلف سماجی گروہوں کو تفویض کیا گیا تھا۔ برطانیہ میں یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے والے یا پھر بڑے بڑے کاروباری اداروں کے مالکان کو 1948ء تک یہ حق حاصل تھا کہ وہ اپنے رہائشی علاقوں کے علاوہ بھی دیگر انتخابی حلقہ جات میں ایک سے زائد ووٹ ڈال سکتے ہیں۔

جنگ عظیم اول سے قبل آسٹریا میں رائے دہندگان کو تین حصوں میں تقسیم کرکے ہر حصے کے لیے ووٹ دینے کا مختلف قانون بنا دیا گیا تھا۔ یوں وہاں کی اشرافیہ نے سیاسی طاقت اور اقتدار و اختیار کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں لے کر اسے صرف اپنے لیے ہی مخصوص کرتے ہوئے، گھر کی لونڈی بنایا ہوا تھا۔ اسی طرح امریکہ میں 1965ء کی آئینی ترمیم سے قبل سیاہ فاموں (خاص طور پر جنوبی ریاستوں میں بسنے والے سیاہ فام) کو ووٹ دینے کا حق حاصل نہیں تھا۔

19 ویں اور  20ویں صدی کے دوران، مغربی یورپ میں ہونے والے انتخابات کے تسلسل کی وجہ سے خطے کے مختلف ممالک میں رائج، رائے دہی کے عمل میں پائے جانے والے تنوع پربھی اس کے اثرات مرتب ہوئے، جنہوں نے اسے ایک باقاعدہ ادارے کی صورت دینے میں مدد کی۔ تاہم مشرقی یورپ کے وہ ممالک اور سویت یونین، جہاں صرف ایک سیاسی جماعت یعنی کمیونسٹ پارٹی کا راج قائم تھا، میں جنگ عظیم دوئم سے لے کر 1989-90ء تک عام انتخابات کے بالکل مختلف اثرات مرتب ہوئے کیونکہ ان انتخابات کو منعقد کروانے کے مقاصد ان ممالک کے معروضی حالات کے حساب سے الگ تھے۔

اگرچہ ان ممالک کی حکومتیں بھی عام انتخابات کا باقاعدگی کے ساتھ انعقاد کرواتی تھیں لیکن یہ محض یک طرفہ مقابلہ ہی ہوتا تھا کیونکہ ووٹر کے پاس صرف سرکاری امیدوار کی حمایت یا مخالفت میں ووٹ ڈالنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ ہی نہیں ہوتا تھا۔ ان ممالک کے انتخابات کی یہ قسم 19 ویں صدی کے ’’نپولینک رائے شماری (یا حق خود ارادیت) کے قریب ترین یا یہ کہیے کہ اس کے مماثل تھا۔

اس طرح کے انتخابات کے پیچھے یہ فلسفہ کارفرما ہوتا تھا کہ ان سے ریاست کے عوام کا اتحاد ظاہر ہو اور ان میں تفریق کا تاثر نہ ابھرے۔ مشرقی یورپ کے ان انتخابات میں اختلاف رائے ظاہر کرنے کے لیے ووٹر، بیلٹ پیپر پر لکھے ہوئے امیدوار کے نام کو کاٹ دیا کرتے تھے اور یہی طریقہ 1989ء سے قبل سویت یونین میں بھی رائج تھا اور وہاں کے لاکھوں عوام نے متعدد بار اسے اختیار کیا مگر ان ممالک میں کیونکہ خفیہ رائے شماری کا طریقہ رائج نہیں تھا اس لیے اس طریقہ کار کی وجہ سے حکومت کی مخالفت میں ووٹ ڈالنے والوں کو انتقامی کارروائیوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا تھا۔

اسی طرح ووٹ نا ڈال کر احتجاجی پیغام دینے کی کوشش کرنے والوں کو بھی سخت نتائج بھگتنے پڑتے تھے کیونکہ کمیونسٹ پارٹی کے مقامی عہدے داروں کو حکومت کی طرف سے سخت ہدایات ہوتی تھیں کہ ووٹرز کا ٹرن آؤٹ صد فیصد ہونا چاہیے۔ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ مشرقی یورپ کے ممالک کے تمام انتخابات سویت یونین کے انتخابات کے نمونے کے عین مطابق نہیں ہوتے تھے۔

مثال کے طور پر پولینڈ میں نشستوں سے زائد امیدواروں کے نام بیلٹ پیپر پر دیئے گئے ہوتے تھے اور یوں رائے دہندگان کو امیدواران کے انتخاب کی نسبتاً زیادہ آزادی میسر ہوتی تھی۔ افریقہ کے مشہور صحرا ’’صحارا‘‘ کے جنوب میں واقع ممالک میں 1950ء تا 1960ء کے عرصے میں تین مراحل میں عام انتخابات کا نظام رائج کیا گیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ قبل ازیں یہ ممالک یورپی استعماری طاقتوں کے زیر نگین نو آبادیوں کی حیثیت رکھتے تھے۔ جب یہ ممالک آزاد ہوئے تو پھر ان میں انتخابات کی ضرورت کو محسوس کیا گیا اور بتدریج ان میں انتخابی عمل کا نفاذ کیا گیا۔

بدقسمتی سے دنیا کے دیگر خطوں میں سامراجی قوتوں کے تسلط سے آزاد ہونے والے بیشتر ممالک کی طرح جنوبی صحرا کے یہ ممالک بھی بعدازاں فوجی انقلابات کے زیر اثر ڈکٹیٹر شپ کا شکار ہوگئے۔ تاہم 1970ء کی دہائی کے آخر میں چند ممالک میں فوجی اقتدار کے خاتمے کے بعد دوبارہ سے عام انتخابات کا ڈول ڈالا گیا اور جمہوریت کو مستحکم کرنے کی کوششوں کا آغاز ہوا۔ 1990ء کی دہائی کے آغاز میں سرد جنگ کے اختتام نے اکثر ممالک کو جمہوریت اور عام انتخابات کو اہمیت دینے پر مجبور کردیا کیونکہ ترقی یافتہ ممالک کی طرف سے ان پسماندہ ملکوں کی فوجی اور معاشی مدد محدود کرکے اسے جمہوریت اور انسانی حقوق سے مشروط کردیا گیا تھا۔

لاطینی امریکہ میں بھی عام انتخابات کا نظام مختلف مراحل میں متعارف کروایا گیا۔ 1828ء کے بعد اگلے سو برس تک ارجنٹائن، چلی، کولمبیا اور یورا گوئے میں انتخابات کا انعقاد ہوتا رہا۔ گو چلی بعد میں آمریت کی گود میں چلا گیا۔ دیگر ممالک میں 1943ء سے لے کر 1962ء کے دوران عام انتخابات تسلسل کے ساتھ ہوتے رہے۔ اگرچہ بہت سے ممالک جمہوری حکومتوں کا نظام برقرار نہ رکھ سکے۔ اس کے بعد 1970ء کی دہائی کے درمیان سے ایک بار پھر زیادہ تر ممالک میں عام انتخابات کا انعقاد شروع ہوا۔ اس طرح مختلف ادوار میں تین مراحل میں علاقے کے ممالک انتخابات کے ذریعے جمہوری نظام کا حصہ بن سکے۔

براعظم ایشیاء میں بھی جنگ عظیم دوئم کے خاتمے پر نو آبادیاتی نظام سے چھٹکارے کے بعد باقاعدہ عام انتخابات کا سلسلہ شروع ہوا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ یہاں بھی وہی کچھ ہوا جو دوسرے نو آبادیاتی ممالک میں ہوتا رہا۔ یعنی شروع میںیہاں جمہوریت نے پنپنے کی کوشش کی مگر بعد میں آمریت نے اپنے پنجے گاڑ لیے اور یہ کوئی ایسی انہونی بات نہیں تھی۔ 1970ء کی دہائی میں ہی یہاں پر بھی کئی ممالک میں انتخابی نظام دوبارہ سے متعارف ہوا۔

ہمارے اس خطے برصغیر پاک و ہند میں 1940ء کی دہائی میں انگریزوں سے آزادی کے بعد پاکستان اور ہندوستان کے نام سے دو الگ الگ ممالک معارض وجود میں آئے۔

متحدہ ہندوستان کیونکہ ایک مستحکم ملک کے طور پر پہلے سے موجود تھا اس لیے تقسیم ہند کے بعد ہندوستان کو جمہوریت کو قائم کرنے میں کوئی خاص دشواری نہیں ہوئی اور وہاں تسلسل کے ساتھ انتخابات کا انعقاد ہوتا رہا اور جمہوریت کو جڑ پکڑ کر پنپنے کا موقع میسر آ گیا، جبکہ بدقسمتی سے پاکستان میں ایسا نہ ہو سکا کیونکہ یہ ایک بالکل نیا ملک تشکیل دیا گیا تھا اور اس کو درپیش مسائل، جیسے لاکھوں مہاجرین کی آمد اور آبادکاری، ہجرت کے دوران مسلمانوں پر آنے والی مشکلات اور شہادتیں، پاکستان کے اندر حکومتی اداروں کے ڈھانچے کی ناپختگی، ہندوستان کی طرف سے پاکستان کو اس کے حصے کے اثاثہ جات اور رقوم کی عدم فراہمی کے باعث معیشت کی کمزوری اور اسی طرح کے دیگر معاملات کے سبب یہاں پر فوری طور پر انتخابات کا انعقاد نہ ہوسکا۔ تاہم جوں جوں حالات سازگار ہوتے گئے توں توں مختلف صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات منعقد ہوتے رہے۔

شروع کے تقریباً دس برس یعنی 1947ء تا 1957ء تک سیاسی عدم استحکام اور اعلیٰ افسر شاہی کی ریشہ دوانیوں نے سیاسی صورتحال کو غیر یقینی اور دگرگوں حالات سے دوچار کیے رکھا۔ اس پر مستزاد یہ کہ اس وقت ان موقع پرست جاگیرداروں اور اشرافیہ جو پاکستان کے قیام کو حقیقت کا روپ بنتے دیکھ کر تحریک پاکستان میں شامل ہوگئے تھے، نے اپنے اقتدار کے لیے جمہوریت کے منافی اقدامات اٹھانے سے بھی گریز نہیں کیا۔ بہرحال ان تمام عوامل نے مل جل کر 1958ء کے مارشل لاء کی راہ ہموار کردی اور ملک اگلے دس سال کے لیے آمریت کے اندھیروں میں کھوگیا۔

1960ء کی دہائی کے آخر میں مارشل لاء ڈکٹیٹر جنرل ایوب خان اپنے خلاف بپا ہونے والی عوام کی احتجاجی تحریک کے نتیجے میں اقتدار بجائے عوامی نمائندوں کے سپرد کرنے اور انتخابات کروانے کے، ایک اور ڈکٹیٹر جنرل یحییٰ خان کے حوالے کرگیا اور یوں وطن عزیز ایک بار پھر ایک نئے مارشل لائی نظام کے قبضے میں چلا گیا۔ جنرل یحییٰ خان کے دور میں 1970ء کے انتخابات ہوئے اور مشرقی پاکستان کے عوام کے انتخابی فیصلے کو تسلیم نہ کرنے کا نتیجہ ملک کے دولخت ہونے کی صورت میں نکلا۔ 1977ء کے انتخابات میں ملک کے پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف انتخابی دھاندلی کے الزام میں اپوزیشن کی ملک گیر احتجاجی تحریک کا انجام ایک اور مارشل لاء پر ہوا اور جنرل ضیاء الحق اقتدار پر قابض ہوگئے۔ جنرل ضیاء نے 8 سال بعد 1985ء میں غیر جماعتی انتخابات کروائے لیکن 3 سال بعد ہی جمہوری حکومت کو برخاست کرکے چلتا کیا۔

1988ء سے لے کر 1991ء تک ملک میں جمہوری میوزیکل چیئر کا کھیل چلتا رہا اور چار جمہوری حکومتیں اپنی مدتیں پوری کیے بغیر آتی اور جاتی رہیں۔ 1999ء میں جنرل پرویز مشرف نے مارشل لاء لگادیا اور 2002ء میں عام انتخابات کروائے۔ 2008ء کے چناؤ کے بعد جنرل پرویز مشرف کو اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑے اور پیپلزپارٹی کو جمہوری حکومت بنانے کا موقع ملا۔ 2013ء میں حکومت کی مدت کے اختتام پر ہونے والے الیکشن مسلم لیگ (ن) کے حق میں گئے اور اب اس کی حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرچکی ہے۔ 25ء جولائی 2018ء کو ملک میں اب نئے انتخابات کا مرحلہ درپیش ہے۔

اگر یہ ذکر بھی ساتھ ساتھ کردیا جائے تو دلچسپی سے خالی نہ ہو گا کہ شمال مغربی ہندوستان میں 600 سال قبل از مسیح کے دور میں بھی قبائل کی مجالس انتظامی اپنے راجہ کا انتخاب کرتی تھیں۔ گویا یہ اس علاقے میں رائے شماری کی اولین شکل تھی۔ بعینہ قدیم تامل ناڈو اور کیرالہ میں بھی ’’سنگم پیریڈ‘‘ (تیسری صدی قبل از مسیح تا تیسری صدی بعداز مسیح) کے دوران لوگ اپنے نمائندے انتخاب کے ذریعے منتخب کرتے تھے۔ ان کا بیلٹ بکس ایک مٹی کا گھڑا ہوتا تھا جو رسی سے بندھا ہوتا اور سربمہر ہوتا تھا۔ انتخاب کا وقت ختم ہونے کے بعد اس گھڑے میں سے ووٹ نکال کر گنے جاتے اور کامیاب امیدوار کے نام کا اعلان کردیا جاتا۔ خطۂ بنگال میں قائم ہونے والی سلطنت ’’پالا‘‘ کا حکمران ’’گوپالا‘‘ (750-770 قبل از مسیح) بھی مقامی زمینداروں کے ووٹوں سے برسراقتدار آیا تھا۔ یعنی اس دور میں بھی اس طرح کے انتخابات اس خطے میں عام تھے۔

اسی پیرائے میں یہاں یہ ضروری ہے کہ تصویر کا دوسرا رخ بھی دکھایا جائے۔ آج کے جدید دور میں بھی کچھ ممالک ایسے ہیں جہاں انتخابات کا نظام موجود ہی نہیں یا اگر موجود بھی ہے تو انتہائی محدود ہے۔ ان میں مشرق وسطیٰ کے ممالک شامل ہیں جہاں بادشاہت قائم ہے۔ حالانکہ بہت سے دیگر ممالک جن میں شاہی نظام پایا جاتا ہے وہ آئینی طور پر بادشاہ یا ملکہ کو ریاست کا محض رسمی سربراہ مانتے ہیں اور اقتدار و اختیار کا منبع پارلیمان ہی ہے جو عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوتی ہے۔

آمرانہ طرز حکومتوں میں عام طور پر انتخابات کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے کہ ڈکٹیٹر اپنے آپ کو اندرون ملک اور بین الاقوامی دنیا میں آئنی اور قانونی طور پر جائز اور مقبول حکمران ظاہر کرسکے۔ وہ اس طرح کے انتخابات میں اس بات کا خاص خیال رکھتے ہیں کہ ان میں اپوزیشن کوئی اہم کردار ادا نہ کرسکے۔ ویسے بھی عموماً آمرانہ حکومتوں کے دور میں اپوزیشن کو دبا کر رکھا جاتا ہے۔

اگر اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دینی بھی پڑے تو اس بات کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے کہ وہ فعالیت کا مظاہرہ کرکے حکومت اور اس کے اتحادیوں کے لیے کسی خطرے کا باعث نہ بن سکیں اور اس مقصد کے حصول کے لیے ڈرانے دھمکانے سے لے کر دھونس دھاندلی تک، ہر حربہ بروئے کار لایا جاتا ہے۔ اگر کسی آمر کے لیے معروضی حالات ایسے ہوں کہ وہ یہ سب کچھ نہ کرسکے اور اسے اپنی شکست کا اندیشہ لاحق ہو تو پھر وہ انتخابات کا انعقاد ہی ملتوی کردیتا ہے۔ علاوہ ازیں آمرانہ حکومتوں کا ایک عام وطیرہ یہ بھی ہے کہ جب انتخابی عمل شروع ہوجائے تو وہ ووٹروں کو جسمانی طور پر مارپیٹ کرواکے اپنے حق میں ووٹ ڈالنے پر مجبور کرنے سے بھی دریغ نہ کرنے کے علاوہ ڈالے جانے والے ووٹوں میں ہیرا پھیری سے بھی باز نہیں آتیں۔

یہ سوال کہ کس کس کو ووٹ دینے کا حق حاصل ہے، بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ عموماً یہ حق ساری آبادی کو نہیں ہوتا۔ مثلاً بہت سے ممالک میں عمر کی ایک خاص حد یعنی اٹھارہ یا بیس سال سے کم عمر والوںکو ووٹ دینے کی اجازت نہیں ہوتی۔ آسٹریلیا میں وہاں کے قدیم باشندوں ’’ایب اوریجن‘‘ (Aborigin) کو 1962ء سے پہلے ووٹ کا حق حاصل نہیں تھا۔

2010ء میں آسٹریلیوی حکومت نے قیدیوں کو ووٹ کے حق سے محروم کردیا، جن کی زیادہ تعداد ’’ایب اوریجنز‘‘ پر مشتمل تھی۔ عام طور پر اس ملک کے شہری کو ہی ووٹ دینے کی اجازت ہوتی ہے جس ملک میں انتخابات ہورہے ہوں۔ تاہم یورپین یونین میں رہنے والا کوئی بھی شہری اس علاقے کے بلدیاتی انتخابات میں ووٹ ڈال سکتا ہے جس میں وہ رہتا ہو۔ اس کے لیے یہ بتانا ضروری نہیں کہ وہ یورپین یونین کے کس ملک کا رہائشی ہے۔ چند ملکوں میں ووٹ نہ ڈالنا جرم کے زمرے میں آتا ہے۔ اگر کوئی شہری ووٹ نہ ڈالے تو اس کو جرمانے وغیرہ کی سزا دی جاسکتی ہے۔

1971ء میں ویت نام اور امریکہ کی جنگ کے تناظر میں بہت سے امریکی شہریوں نے یہ محسوس کیا کہ اگر کوئی شخص اپنے ملک کی حفاظت اور خدمت کے لیے فوج میں نہ جانے کے لیے یہ عذر تراشتا ہے کہ اس کی عمر زائد ہوچکی ہے تو پھر وہ یقینا ووٹ ڈالنے کے لیے بھی زائد العمر ہوچکا ہے۔ چنانچہ امریکی آئین میں چھبیسویں ترمیم کے ذریعے ووٹر کی کم سے کم عمر 21 سال سے مزید کم کرکے 18 سال کردی گئی۔

عالمی سطح پر جمہوریت کو بروئے کار لانے کے متعدد طریقے رائج ہیں۔ انتخابات کا امریکی اور برطانوی نظام مگر دنیا میں عام فہم دو طرز ہائے حکومت یعنی صدارتی اور پارلیمانی کا نمائندہ اور معیار قرار دیے جاسکتے ہیں۔ امریکہ کی مختلف ریاستوں میں انتخابات کے الگ الگ طریقے اپنائے جاتے ہیں لیکن الیکٹرورل ووٹس سسٹم کے تحت ہونے والے وفاقی صدارتی انتخابات کو خاص اہمیت حاصل ہے جبکہ قانون سازوں کا انتخاب جغرافیائی اضلاع کی بنیاد پر اکثریتی ووٹ حاصل کرنے یا یہ کہیں کہ کثرت رائے سے ہوتا ہے۔ سینٹ یعنی ایوان بالا کا ممبر بننے کی خواہش رکھنے والے امیدواروں کے لیے اضلاع پر مشتمل ریاست اور قومی اسمبلی کا ممبر بننے کے خواہش مند امیدواروں کے لیے ریاست کے چند اضلاع پر مشتمل حلقہ ہوتا ہے۔ اس نظام کو ’’فسٹ پاسٹ دی پوسٹ‘‘ (First Past The Post) سسٹم کا نام دیا گیا ہے۔

پارلیمانی نظام میں تمام قانون ساز، سیاسی جماعتوں کی بنیاد پر سارے ملک سے منتخب کیے جاتے ہیں۔ اس میں بھی دو طریقے مروجہ ہیں۔ ایک تو یہ کہ سیاسی جماعتوں کو ڈالے جانے والے ووٹوں کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ کس سیاسی جماعت کو کتنی نشستیں ملیں گی اور دوسرے یہ کہ جس سیاسی جماعت کے جتنے امیدوار جیتیں، اس کی اتنی ہی نشستیں مانی جائیں گی۔ ’’ایف پی ٹی پی‘‘ (First Past The Post) سسٹم میں عموماََ دو سیاسی جماعتوں کی اہمیت ہوتی ہے جبکہ پارلیمانی سسٹم میں کئی سیاسی جماعتیں ہوسکتی ہیں۔ اگر کوئی سیاسی جماعت ایک نشست بھی جیت لے تو اس کی آواز پارلیمان میں پہنچ جاتی ہے۔

اس بار ے میں متضاد آراء پائی جاتی ہیں کہ کون سا نظام زیادہ بہتر ہے۔ صدارتی نظام کے حامیوں کے نزدیک یہ نظام اس لیے بہتر ہے کیونکہ اس میں اقتدار کی طاقت منقسم نہیں ہوتی اور صدر منتخب ہونے والی شخصیت جوابدہی کی ذمہ داری کسی دوسرے پرڈال کر خود کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتی جبکہ پارلیمانی نظام کے حامیوں کا ماننا یہ ہے کہ اس نظام کے تحت اختیارات کی تقسیم کے ذریعے حکومت زیادہ سہولت کے ساتھ عوام کی خدمت کرسکتی ہے۔جون 2018ء میں ترکی میں ہونے والے حالیہ انتخابات میں جمہوری نظام کی پارلیمانی سسٹم سے صدارتی سسٹم کی طرف مرجعت اس کی ایک واضح مثال ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔