تمر کے جنگلات؛ ایکو سسٹم کی بقا کے ضامن

ڈاکٹر عرفان احمد بیگ  اتوار 29 جولائ 2018
ان کا خاتمہ حقیقت میں دنیا کے ماحولیاتی نظام کی تباہی ہوگی

ان کا خاتمہ حقیقت میں دنیا کے ماحولیاتی نظام کی تباہی ہوگی

26  جولائی کو دنیا بھر میں مینگروز (تمر) کے ایکو سسٹم کے تحفظ کا عالمی دن منایا گیا، اگرچہ دنیا میں اللہ تعالیٰ نے ہر چیز خاص حکمت اور اس دنیا کی ضرورت کے لیے بنائی ہے لیکن جب ہم درختوں اور ان کی خوبیوں کو دیکھتے ہیں تو یہ احساس ہوتا ہے کہ اللہ نے یہ عظیم نعمت پیدا کی ہے جس کے بغیر انسانی زندگی ہی کیا شائد کسی جاندار کی زندگی ممکن نہ ہو۔

اب یہ عام سی بات ہے اور تقریباً ہر شخص یہ جانتا ہے کہ ہوا کے بغیر زندگی چند منٹ سے زیادہ ممکن نہیں اور ہوا میں دیگر گیسوں کے مقابلے میں زیادہ تناسب نائٹروجن، آکسیجن اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس اعتبار سے دنیا میں حیات کا توازن اس طرح رکھا ہے کہ انسان و حیوان، چرند پرند سبھی جب سانس لیتے ہیں تو ہوا سے آکسیجن اپنے اندر پھیپھڑوں کے ذریعے جذب کرکے کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتے ہیں اور اس کے مقابلے میں درخت فضا سے جو ہوا لیتے ہیں اس میں سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرکے اس کی جگہ فضا میں آکسیجن خارج کر دیتے ہیں، پھر درخت میں یہ خصو صیات بھی ہیں کہ یہ فضا میںعلاقے کے ماحول کے مطابق د رجہ حرارت کو متوازن رکھتے ہیں۔

یوں اگر آپ دھوپ میں ہوں تو اس کے مقابلے میں اسی جگہ کسی گھنے درخت کے سائے میںدرجہ حرارت دھوپ کے مقابلے چار پانچ سینٹی گریڈ کم ہوگا، اسی طرح درخت شور کو جذب کرتے ہیں، شور کی تعریف یہ ہے کہ بے ہنگم اور بلند آوازیں اگر تیس چالیس ڈیسی بل ( آوازکی شدت ناپنے کا پیمانہ ) سے بلند ہوجائیں تو جیسے جیسے آوازوں اور شور کی شدت میں اضافہ ہوتا جائے گا ویسے ویسییہ انسانی اعصاب اور جسم پر منفی اثرات ڈالتی ہے اور اس کی وجہ سے نفسی بندنی بیماریاں جیسے بلڈ پریشر، ہارٹ اٹیک، فالج، السر،دمہ اور شوگر کے علاوہ دیگر دماغی اور نفسیاتی بیماریوں کا سبب بنتی ہے، زیادہ شور میں رہنے والے نہ صرف چڑچڑے اور غصہ کرنے والے ہوتے ہیں بلکہ وہ اونچا بولنے لگتے ہیں اور اکثر بہرے تک ہو جاتے ہیں۔

درخت ہمارے ایسے مہربان دوست ہیں کہ نہ صرف یہ شور کی آلودگی کو اپنے اندر جذب کر لیتے ہیں بلکہ خوبصورت پرندے انہی درختوں پر گھونسلے بناتے ہیں جن کی خوبصورت آوازیں سماعتوں پر ایسے خوشگوار اور مثبت اثرات مرتب کرتی ہیں جن سے انسان میں حس جمالیات بڑھتی ہے، اس کے اعصاب مضبوط اور توانا ہو تے ہیں۔ جاپان اور چین میں اب وہ لوگ جوکم آمدنی یا گھروں میں گنجائش نہ ہونے کی وجہ سے پرندے نہیں پال سکتے وہ پرندوں کی چہچہاہٹ اور پہاڑی ندیوں میں پانی کے بہنے کی آوازوں کی ریکارڈنگ سنتے ہیں کیونکہ اب ماہر ین نفسیات اور طبی ماہرین نے بہت سے امراض سے بچاؤ کے لیے ان آوازوں کو نہایت مفید قراردیا ہے اور اس طرح کی ریکارڈنگ سننے سے اب کروڑوں افراد کو فائدہ پہنچ رہا ہے ، پھر ہر درخت چاہے وہ پھلدار ہو یا صرف سایہ دار ہو اس کی مختلف خوبیاں اور فائدے ہیں، پھلدار درختوں کے فائدے تو سبھی کو معلوم ہیں لیکن وہ درخت جو خودرو پھلدار یا سایہ دار ہیں ان کے فائدے بھی کہیں زیادہ ہیں۔

ہمارے ہاں روایتی طور پر شہروں اور دیہاتوں میں صدیوں سے بڈ، پیپل ، پیلو، نیم، ٹالی،کیکر، ببول، بیری، شہتوت اور پھر سرد علاقوں میں سرو، جونیپر، عیش، چنبلی اور دیگر ایسے درخت ہیں جن سے بہت سی بیماریوں کے علاج کی ادویات نہ صرف حکمت میں بلکہ جدید میڈیکل سائنس میں بھی بنائی جاتی ہیں مثلًا نیم کی چھال، پتوں، جڑوں اور اس کے پھل سے جلد اور جسم کی درجنوں بیماریوں کے علاج کی ادویات بنائی جاتی ہیں۔ حکیم لوگ اس کے سائے میں بیٹھنے کو بھی صحت کیلئے مفید قرار دیتے ہیں۔ یہ درخت خالص طور پر برصغیر کا درخت ہے بلکہ اس کا وطن یہی خطہ ہے، اس سے ماحول پر نہایت ہی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں، اس درخت کی اہمیت کے پیش نظر چین اپنے ہاں اب نیم کے کروڑوں درخت اگا رہا ہے اور کوئی شک نہیں کہ مستقبل قریب میں چین میں نیم کے درخت بھارت، بنگلہ دیش اور پاکستان کے مجموعی نیم کے درختوں سے زیادہ ہوں۔ پیلو کے درخت کی چھال اور اس کے رس سے یرقان کے علاج کی ادویات بنائی جاتی ہیں۔

پھر جہاں تک جنگلات کا تعلق ہے تو یہ زمین کو سیلابوں، زلزلوں کی شدت سے بچاتے ہیں، زمین کو برودگی سے محفوظ رکھتے ہیں اور بارشوں کے بر سانے کا سبب بنتے ہیں۔ ہمار ے ہاں صوبہ خیبر پختونخوا شمالی علاقہ جات اور بلوچستان کے پہاڑی علاقوں کے علاوہ سندھ اور پنجاب کے میدانی علاقوں میں بھی جنگلات ہیں، پھر ایک بڑی اہمیت بارانی علاقوں کے کم گھنے جنگلات اور رینج لینڈ کی ہے اور پھر بلو چستان اور سندھ کا ساحلی علاقہ ہے جہاں پوری دنیا کی طرح اب کہیں زیادہ اہمیت منگروز یعنی تمر کے جنگلا ت کی ہے۔

اس درخت کو اردو اور برصغیر کی دیگر زبانوں میں تمر کہتے ہیں جب کہ انگریزی میںMangrove مینگرو یا منگروز کہتے ہیں اور اب یہی نام زیادہ استعمال میں ہے۔ بحیر ہ عرب پر پاکستان کے ساحل کی کل لمبائی 1000 کلو میٹر ہے جس میں سے 770 کلو میٹر ساحل بلو چستان کے پاس ہے اور باقی 230 کلو میٹر ساحل صوبہ سندھ کے پاس ہے۔ بلو چستان میں یہ ساحل صوبے کے دو اضلاع یعنی گوادر اورلسبیلہ میں ہے گوادر جس کے معنی ہواکے دروازے کے ہیں یہاں ساحل کی لمبائی 600 کلو میٹر ہے اور ضلع لسبیلہ جس کا قدیم مرکز بیلہ ہے جس کے معنی جنگل کے ہیں یہاں ساحل کی کل لمبائی 177 کلو میٹر ہے اس پورے ساحل پرمینگروز کے جنگلات اس لیے نہیں ہیں کہ مینگروز کا درخت ساحل پر اس مقام پر لگتا ہے ۔

جہاں بارشوں یا دریا کا میٹھا پانی سمندر کے نمکین پانی سے ملتا ہے یوں جہاں دریا سمندر میں گرتا ہے وہ علاقہ جغرافیہ کی زبان میں ڈیلٹا کہلا تا ہے اور یہ سندھ میں دریائے سندھ ساحل پر جہاں بحیرہ عرب میں گرتا ہے وہ ڈیلٹا ہے۔

ماضی میں آج سے سو ڈیڑھ سو سال پہلے جب یہاں آبادی بھی بہت کم تھی اور دریا ئے سندھ کو بھی اس کے راستے میں جگہ جگہ نہیں روکا گیا تھا تو عام دنوں میں بھی یہاں ڈیلٹا کے علاقے میں سارا سال دریا ئے سندھ کا میٹھا پانی بحیرہ عرب میں گرتا تھا اس زمانے میں یہاں مینگروز کے جنگلات مثالی تھے، اب اس ڈیلٹا میں سیلا بوں کے زمانے میں یا مون سون کی بارشوں پانی آتا ہے۔

جب کہ بلوچستان میں سارا سال بہنے والے دریا نہ ہو نے کے برابر ہیں لیکن ان دریاؤں میں تھو ڑا بہت پانی آتا ہے جومینگروز کے ان جنگلات کو زندگی بخشتا ہے مینگروز کے جنگلا ت ساحل اور سمندر دونوں ہی میں گرمی یا درجہ حرارت میں اضافہ نہیں ہونے دیتے یعنی اس کی جڑیں پانی اور دلدل میں آکسیجن پیدا کرتی ہیں اور ٹہنیاں اور پتے فضا میں آکسیجن پیدا کر کے ساحل کی فضا کو ٹھنڈا کرتے ہیں۔

آج جب دنیا بھر میں ماحولیاتی آلودگی کے بڑھ جانے کی وجہ سے کلائمیٹ چینج ’’موسمیاتی تبدیلیاں‘‘ اور گلوبل وارمنگ یعنی کرہ ارض پر درجہ حرارت میں اضافہ جیسے سنگین مسائل پیدا ہوگئے ہیں اور سائنسی ریسرچ کے مطابق انہی بنیادی وجوہات کے تحت اب دنیا میں قدرتی آفات اور ان کی شدت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، سونامیوں، طوفانوں، سیلابوں اور زلزلوں کے ساتھ ساتھ دنیا کے بیشتر علاقوں میں خشک سالی میں بھی اضافہ ہو گیا ہے تو تمام ماہرین نے اب انسانی ہاتھوں کے تحت تباہ ہوتے قدرتی ماحول کو دنیا میں ہر جگہ ہر مقام پر دوبارہ بہتر کرنے کی کوششیں شروع کی ہیں اور اس عمل میں اقوام متحدہ اور اس کے ذیلی ادارے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ پوری دنیا میں قدرتی ماحول کو مستحکم کرنے یا رکھنے میں مینگر وز یا تمر کے درخت اور جنگلات بہت ہی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

مینگرو کا درخت سمندر اور ساحل کے درمیان دونوں کے لیے محافظ کا کام کرتا ہے، اس درخت کی جڑیں ساحل کی قدرے دلدلی زمین میں ہوتی ہیں اور تعریف کی بات یہ ہے کہ یہ جڑیں بھی یہاں نرم یا دلدلی مٹی میںآکسیجن خارج کرتی ہیںکیونکہ جھینگے اور بہت سی دیگر مچھلیاں یہاں آکر انڈے دے جاتی ہیں تو انڈوں سے نکلنے والے بچوں کو یہاں ان مینگروز کی جڑیں ہی آکسیجن اور خوراک فراہم کرتی ہیں پھر یہی بچے بڑے ہو کر ساحل سے آگے سمندرمیں چلے جاتے ہیں۔ پھر منگروز کی یہی جڑیں سمندر اور ساحل کے درمیان ایک مضبوط جالی کی دیوار کی حیثیت رکھتی ہیں کہ یہ سمندر کو ساحل کی طرف اور ساحل کو سمندرکی جانب آگے بڑھنے سے روکتی ہیں۔

زلزلوں، سمندری طوفانوں اور سونامیوں کے سامنے سینہ سپر ہو کر مقابلہ کرتی ہیں اس وقت جب ،،گلوبل وارمنگ ،، کا مسئلہ اہم عالمی مسئلہ بن چکا ہے تو ریسرچ سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ درجہ حرارت میںیہ اضافہ صرف زمین ہی پر نہیں ہے بلکہ ساحل کے قریب سمندروں میں زیادہ اور کھلے اور گہرے سمندروں میں ذرا کم، مگر درجہ حرارت بڑ ھ رہا ہے۔

جہاں تک تعلق بڑے ،کھلے اورگہرے سمندری علاقوں کا ہے تو نارتھ پول اور ساوتھ پول یعنی قطب ِ شمالی اور قطب ِ جنوبی میں اب برف اور گلیشئیرز ماضی قریب کے مقابلے میں بہت زیادہ تیزی سے پگھل رہے ہیں مگر جہاں جہاں ساحل پر مینگروز ختم ہو رہے ہیں یا کسی اور وجہ سے درجہ حرارت میں ساحل کے قریب سمندری پانی میں اضافہ ہو رہا ہے وہاں پانی کے گرم ہونے سے مچھلیاں اس سمندر سے ہجرت کرنے لگتی ہیں اور یوں ساحل پر آباد ماہی گیروں کا روزگار بھی ختم ہو جاتا ہے اور ساتھ ہی قدرتی وسائل جو سمندری حیات کی صورت میں ہوتے ہیں وہ بھی ختم ہو جا تے ہیں۔ لیکن دنیا کے ماحول خصوصا سمندر اور خشکی کو اُس میں متوازن کرنے والا ہزاروں لا کھوں برسوں کا مینگروز سے وابستہ یہ نظام یعنی Mangerove Ecosystem بد قسمتی سے صرف سو برسوں میں 67% تباہ ہوا ہے۔

یو این کے نیوز منگروز کا ایکو سسٹم دنیا کے تقریباً110   ملکوں میں موجود ہے اور2000 ء میں دنیا بھر میں مینگروز کا کل جنگلاتی رقبہ اس وقت 137800 مربع کلو میٹر تھا۔ اب اس رقبے میں تھوڑی کمی بیشی ہو سکتی ہے مگر ابھی تک مینگروز کا یہ جنگلاتی رقبہ ماضی کی طرح معیاری نہیں ہوا ہے۔ البتہ یو نیسف اور اس سے مربوط ادارے دنیا بھر میں یہ کو ششیں کر رہے ہیں کہ 2030 تک دنیا کے ما حولیاتی نظام کو مستحکم کر لیا جائے اس لیے آئی یو سی این اور ایسے ہی دیگر ادارے دنیا کے مختلف ملکوں میں مینگروز کے کروڑوں پودے سالانہ لگا رہے ہیں۔

ہمارے ہاں بھی چند برس قبل آئی یو سی این نے بلوچستان اور سندھ کے ساحل پر مینگروز لگائے تھے۔ اگرچہ مینگروز پوری دنیا کے لیے اہم ہیں لیکن اس کے بڑے اور اہم جنگلات بھارت ، بنگلہ دیش، سری لنکا، انڈونیشا، چین اور پاکستان میں ہیں۔ مینگروز کے ایکوسسٹم کے بارے میں اقوام متحد ہ اور اس کے ذیلی اداروں کا کہنا ہے کہ یہ دنیا کے لیے ایک زبردست اور زندگی بخش نظا م ہے جو سمندر اور خشکی کے درمیان سرحد کا ،کام کرتا ہے جہاں یہ مقامی آبادیوں کو فوڈ سیکورٹی فراہم کرتا ہے، اور یہ حقیقت ہے کہ دنیا کی انسانی آبادی اور دنیا، مینگروز کے ایکو سسٹم کی تباہی کو برداشت نہیں کر سکتی۔

چین، بھارت اور بنگلہ دیش میں جہاں سندر بن کے جنگلات دنیا کے بڑے مینگروز کے جنگلات ہیں ہمارے ساحل پر موجود مینگروز کے جنگلات بھی دنیا کے چھٹے اہم جنگلات ہیں اور چین، سری لنکا اور مالدیپ بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ویسے تو کسی ایکالو جیکل زون کا اپنا ایک ایکوسسٹم ہوتا ہے، یہ زون چند ہزار مربع کلو میٹر سے چند لاکھ مربع کلو میٹر ہوتا اور ہو سکتا ہے، اس کے ایکو سسٹم میں وہاں کی اُس مخصوص فضا اور ماحول میں پیدا ہونے والے درخت، پودے، جڑی بوٹیاں، رینگنے والے جانور، درندے، چرندے، پرندے اور حشرات ایک دوسرے پر انحصار کرتے ہیںاوراگر ان میں سے کوئی ایک چیز بھی مکمل طور پر ختم ہو جائے تو پھر اس مخصوص ایکا لوجیکل زون کا پورا ایکو سسٹم عدم توازن کا شکار ہو کر تباہ ہو جاتا ہے مگر جب بات مینگروز کے عالمی ایکو سسٹم کی بات ہوتی ہے تو یہ ایک بہت وسیع اوراہم سسٹم ہے جس سے پوری دنیا کے تمام خطے اور پوری انسانی آبادی منسلک ہے، چاہے ان ملکوں کے پاس ساحل ہے یا نہیں۔

جہاں تک تعلق ہمارے خطے کا ہے جس میں پاکستان، چین ، بنگلہ دیش ، بھارت، سری لنکا اور مالدیپ شامل ہیں یہ اس عتبار سے کہیں زیادہ اہم ہیں کہ یہ ہمالیہ سے نکلنے والے دنیا کے بڑ ے دریاؤں اور گلیشئیروں سے منسلک ہیں، ہمالہ یا کوہ ِ ہمالیہ کو قدیم ہندی دیو مالا میں ساگر ماتا یعنی سمندروں کی ماں کہتے ہیں، اسی طرح سنسکرت زبان میںہمالہ کے معنی برف کے گھر کے ہیں۔

ہمالہ کے جو پہاڑی سلسلے پاکستان سے مربوط ہیں ان میں کوہ ِ قراقرم اور کوہ ِ ہندوکش شامل ہیں، منگولوں کی زبان میں قراقرم کے معنی دودھ کے ہیں چونکہ قراقرم کا یہ پہاڑی سلسلہ دنیا کا بلند پہاڑی سلسلہ ہے اور سطح سمندر سے 16000 فٹ کی بلندی کو Snow Line یعنی برفانی لکیر کہا جاتا ہے کہ اس کے یا اس سے زیادہ بلندی پر ہمیشہ برف جمی رہتی اور کوئی سبزہ دکھائی نہیں دیتا، یوں کوہ ِ قراقرم پر برف کی اس سفیدی کو دیکھتے ہو ئے منگولوں نے اس کا نام قراقرم رکھ دیا تھا جب کہ ہند وکش کا نام اس لیے ہوا کہ ماضی میں برصغیر کے فاتحین یا یہاں آنے والے حملہ آور جو سنٹرل ایشیا اور افغانستان کے علاقوں سے آتے تھے اور جب واپسی میں اپنے ساتھ ہندوستان کے گرم علاقوں کے رہنے والے ہندوؤں کو غلام بنا کر لے جاتے تھے تو جب لشکر یہاں پہنچتا تو یہ ہندو سردی کے عادی نہ ہوتے اور ان کی اکثریت یہاں ہلاک ہوجا یا کرتی تھی اس لیے اس سلسلہ کوہ کا نام ہندو کش پڑ گیا۔ ہمالیہ ایک عظیم پہاڑہے جس کے گرد پاکستان، افغانستا ن، سنٹرل ایشیا، چین، بھارت اور نیپال واقع ہیں۔

پاکستان کے شمالی علاقے میں ہمالیہ پاکستان کو اپنی آغوش میں لیتا ہے۔ تعریف کی بات یہ ہے کہ ہمالیہ پر دنیا کی 8000 میٹر سے زیادہ بلند چوٹیوں کی کل تعداد 14 ہے جس میںسے سب سے بلند چوٹی ماونٹ ایو ریسٹ سمیت آٹھ چوٹیاں نیپال کے پاس ہیں ایک چین کے پاس ہے اور دنیا کی دو سری بلند ترین چوٹی کے ٹو سمیت پانچ چوٹیاں پاکستان کے پاس ہیں۔ اس کے علاوہ گلگت شہر کے نصف قطر کے اندر اندر دودرجن بلند برفانی چوٹیاں ایسی ہیں جو20000 فٹ سے زیادہ بلند ہیں، یہاں نارتھ پول یعنی’’ قطب شمالی‘‘ بحرمنجمد شمالی اور ساوتھ پول یعنی ’’قطب جنوبی‘‘ بحر منجمد جنوبی کے علاوہ دنیا کے بڑے گلیشئیرز یہاں مو جو د ہیں۔ سائنسی زبان میں گلیشئیر برف کے دریا کو کہتے ہیں، یہ دریاؤں کی طرح حرکت کرتے ہیں اور زمین کو بنانے اور بگاڑنے کا کام بھی کرتے ہیں۔

یہاں پاکستان میں دنیا کا سب سے بڑا گلیشئیر سیاہ چن ہے جس کے ایک حصے پر بھا رت نے قبضہ کر رکھا ہے۔ سیاہ چن کے معنی مقامی زبان میں کالے گلاب کے ہیں یہ پاکستا ن کے ضلع اسکردو میں واقع ہے اور اس کی لمبائی75 کلو میٹر ہے۔ اسی علاقے میں واقع دوسرا بڑا گلیشیر بلتور ہے اور اس کی لمبائی 62 کلو میٹر ہے اس کے بعد ضلع اسکردو ہی میں تیسرا بڑا گلیشیر بتورا ہے جس کی کل لمبائی 58 کلومیٹر ہے اور یہاں واقع چوتھا بڑا گلیشیر ہسپر کہلاتا ہے جس کی مجموعی لمبائی 53 کلو میٹر ہے، اس کے علاوہ یہاں بیافو، گاڈون،آسٹن اورچوغولنگھما، بھی کئی کئی کلو میٹر لمبے گلیشیر ہیں۔ یوںہمارے شمال میں واقع علاقے جو ہمالہ کی بڑی برفانی آغوش میں ہیں بہت زیادہ اہمیت رکھتے ہیں، ہمالہ کی عظمت کے بارے میں علامہ اقبال نے بہت ہی خوبصورت اورعالمی ادبی معیار کی ایک نظم ہما لہ کہی ہے جس کا پہلا شعر یوں ہے۔

اے ہمالہ اے فصیلِ کشور ِ ہندوستاں

چومتا ہے تیری پیشانی کو جھک کر آسماں

16000فٹ کی بلندی کو جغرافیہ کی زبان میں سنو لائن کہتے ہیں اس بلندی پر ہمیشہ برف جمی رہتی ہے یہ بلندی پونے پا نچ ہزار میٹرہوتی ہے کوہ ہمالیہ کے پہاڑوں میں6700 میٹر کی بلندی پر وادی کیلا ش ہے یہاں تبت کے علاقے کے پہلو میں دنیا کی سب سے شفاف اور سرد ترین پانی کی نیم گولائی شکل میں پچاس کلو میٹر رقبے کی ایک جھیل ہے اس جھیل کی بالکل درمیان سے گہرائی 250 فٹ ہے یہاں درجہ حرات کے نقط انجماد سے کس قدر کم ہونے کا اندازہ اس سے لگا یا جاسکتا ہے کہ سنو لائن برفانی لکیر 16000 فٹ یا تقربیاً پونے پانچ ہزار میٹر سے شروع ہوتی ہے اور اس بلندی پر ہمیشہ برف جمی رہتی ہے اس جھیل کی بلندی سطح سمندر سے 6700 میٹر ہے اس جھیل کا نام مانسرور ہے اور ہمار ے شمال میں خیبر پختوانخوا کے علاقے میں ایک علاقے کا نام مانسہرا ہے۔

وادی کیلاش میں واقع جھیل مانسرور قدرت کا ایک عظیم شاہکار ہے یہاں اتنی سردی ہوتی کہ کھلی فضا میں کوئی انسان سانس نہیں لے سکتا اور اگر سانس لے تو سانس برف کی کرچی بن جائے مگر قدرت دیکھئے کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں اس جھیل کے نیچے ابلتے ہوئے پانی کے بڑے بڑے چشمے رکھے ہیں، ہندو اور بدھ دیومالا ’’میتھالو جی‘‘ کے مطابق یہ جھیل مانسرور اور کیلا ش کا پہاڑ کا ئنات کی ناف ہے۔ سنسکرت کی پرانی کتابوں کے مطابق یہ شکتی ( فنا یا قوت) اور مکتی ( بقا) کے دیوتا شیوا اور اس کی بیوی پاروتی کی قیام گاہ ہے۔ وہ یہاں کسی خوش قسمت انسان کو سفید کونجوں کی صورت میں دکھائی دے سکتے ہیں جب کہ بدھ مت کے ماننے والوں کے عقائد کے مطابق مہا آتمابدھ یہاں ہمیشہ اپنے پانچ سو بھکشوؤں کے ساتھ رہتے ہیںاس جھیل مانسرور سے براہ راست پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کو جانے والے دنیا کے چار دریا نکلتے ہیں۔

قدیم ہندو تصورات کے مطابق ان چار دریاؤں کو ان کے مذہبی طور پر مقدس چارجانوروں کے منہ سے نکلتا تصور کیا جاتا ہے۔ مانسرور جھیل کے مشرق کی جانب سے جو دریا نکلتا ہے اسے گھوڑے کے منہ سے نکلتا دریا کہتے ہیں۔ یہ پہلے چین میں داخل ہوتا ہے جہاں یہ سانپو کہلاتا ہے اور پھر برہم پتر بن کر بھارت سے ہوتا بنگلہ دیش جاتا ہے، یہاں جو دوسرا دریا ہے وہ ستلج کہلاتا ہے، تیسرا دریا جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ مور کے منہ سے نکلتا ہے اس کا نام دریا ئے کرنالی ہے، یہ جنوب میں آگے کیطرف بڑھتا ہے تو یہ گھنگو تری گلیشئیر کے نیچے سے نکلنے والے دریا ئے گنگا سے مل جا تا ہے۔ گنگوتری گلیشئیر کے نزدیک ہی ایک دوسرا گلیشئیر جموتر ی ہے جہاں سے بھارت کا ایک اور بڑا دریا جمنا نکلتا ہے اور گنگا اور جمنا کا سنگم الہ آباد کے قریب ہوتا ہے، اور چوتھا دریا جو جھیل مانسر ورسے شیر کے منہ سے نکلتا ہے وہ دریا ئے سندھ ہے۔

گنگا جمنا بھارت کے وسیع زرخیز میدانوں کو سیراب کرتے ہیں اور پھر یہ بحیرہ ہند میں ملتے ہیں اور دریائے برہم پتر بنگلہ دیش میں خلیج بنگال میں جا تا ہے جب کہ ہمارے ہاں جہلم،چناب، دریائے سندھ اور دیگر دریا بھی ہمالہ ہی کے مختلف حصوں سے ہوتے وادی کشمیر سے گزرتے ہیں اور ان کا پانی خصوصاً مون سون کی بارشوں اور بعض اوقات زیادہ بارشوں کی وجہ سے سیلابوں کی صورت بحیرہ عرب کے ساحل سے سمندر میں گرتا ہے۔ بھارت میں شمال سے جنوب میں ساحل کی لمبائی 3214 کلومیٹر ہے اور مشرق سے مغرب میں ساحلی پٹی2933 کلو میٹر لمبی ہے۔ بنگلہ دیش میں ساحل کی کل لمبائی 580 کلومیٹر ہے اور پاکستان میں ساحل کی لمبا ئی ایک ہزار کلو میٹر سے کچھ زیا دہ ہے۔

اگر صرف لمبائی کے اعتبار سے بھارت، بنگلہ دیش اور پاکستان کے ساحلوں کا موازنہ دنیا کے دوسرے ملکوں کے ساحلوں سے کیا جائے جیسے روس جس کے ساحل کی لمبائی 37653 کلو میٹر ہے ،گرین لینڈ44087 ،کینیڈاجس کے ساحل کی لمبائی 202080، آسٹریلیا کا ساحل 25760 کلو میٹر، جاپان 29951 کلو میٹر، ناروے کی ساحلی پٹی 25148 کلو میٹر ہے، اسی طرح انٹار ٹیکا کا سا حل 17968 کلو میٹر، نیوزی لینڈ 15134 کلو میٹر، امریکہ 19924کلومیٹر، فلپائن 36289 کلو میٹر اور یونان کے ساحل 13676 کلو میٹر کے مقابلے میں واقعی جنوبی ایشیا کے ان ممالک کے مجموعی سا حلوں کی لمبائی بہت کم ہے۔ مگر ساگر ماتا کوہ ِ ہمالیہ کے حوالے سے دیکھیں تو یہ نہا یت اہم ہیں۔

البتہ اس کے دوسری جانب چین کا 14500 کلو میٹر طویل ساحل بھی اہمیت رکھتا ہے۔ دنیا کی آ بادی میں تو مجموعی طور پر اضافہ ہوا ہے لیکن یہ تلخ حقیقت ہے کہ بھارت ، بنگلہ دیش اور پاکستان میں گذشتہ 70 برسوں میں آبادی تقریبا چارگنا بڑھی ہے اور ان تینوں ملکوں کا مشترکہ ہمسایہ چین جو آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے، اس نے 1980-81 سے اپنی آباد ی پر کنٹرول کیا ہے مگر تازہ پانی ان سب کی ضرورت ہے اور چین اور بھارت نے گذشتہ چالیس برسوں میں اتنے بڑے اور تعداد میں اتنے زیادہ ڈیمز بنائے ہیں جن کی نظیر تاریخ میں نہیں ملتی۔ یوں ایک وجہ یہ بھی ہے کہ برصغیر کے ساحلوں پر مینگروز کے جنگلا ت میں کمی واقع ہو ئی، یہی بڑھتی ہو ئی آ بادی جس کا ایک حصہ ساحلوں پر بھی آباد ہے مینگروز کے درختوں کی لکڑیوں کو بطور ایدھن استعمال کرتا ہے مگر ہمارے ہاں بد قسمتی سے خصوصا کراچی کے قریب ساحل پر نئی پو ش سو سائٹیوں کے اعتبار سے بھی مینگروز کے درختوں کو کاٹا جاتا ہے، پھر اس جانب ابھی توجہ نہیں دی گئی ہے کہ ہمارا ساحل خصوصاً کراچی کے قریب بہت ہی آلودہ ہو گیا اور اس آلودگی میں مزید اضافہ ہو تا جا رہا ہے۔

اس وقت ہمارے ساحلوں پر مینگروز کی صورتحال یوں ہے، کراچی ہاربر کے علا قے میں مینگروز کے جنگلات 985.50 ہیکٹر پر محیط ہیں، سندھ ڈیلٹا میں 81684.00 ہیکٹر، میانی ہور میں 3431.36 ہیکٹر، کلمت ہور میں 194.00 اور جیوانی میں مینگروز کے جنگلات ساحل  پر 433.00 ہیکٹر ہیں۔ یوں پاکستان کے تمام ساحلوں پر مینگروز کے جنگلات کا کل رقبہ 86727.86 ہیکٹر ہے، اگرچہ اب بھی خصوصاً بلوچستان کا ساحل مچھلیوں،لابسٹر اور جھینگوں کی پیداوار کے لحاظ سے دنیا کے بہت سے ساحلوں کے اعتبار سے یہاں یہ سمندری پیداوار دس گنا اور بحر ہند کے مقا بلے میں چار گنا زیادہ ہے، جب کہ ماضی قریب کے مقا بلے میں یہاں مینگروز کے جنگلات میں کمی واقع ہو ئی ہے۔

اب کوشش کی جا رہی ہے کہ یہاں نرسریوں میں مینگروز کے پودے لگائے جا رہے ہیں اور پھر یہ پودے ساحلوں پر لگائے جاتے ہیں۔ ماضی قریب میں مینگروز کی اہمیت کے اعتبار سے آئی یو سی این نے یہاں ماہی گیروں کی بستیوں میں مینگروزکی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے مقامی آبادیوں کے تعاون سے ان جنگلات کی کٹائی کے رجحان کو کم کر دیا ہے، مگر یہ ابھی تک اطمینا ن بخش نہیں۔ اس وقت ہم تباہ کن ماحو لیاتی تبد یلیو ں کا شکار ہیں، شمال میں گلگت بلتستان آزاد کشمیر، اور خیبر پختو نخوا شمالی علاقہ جات میں پہاڑوں پر جنگلا ت کی کٹائی کی وجہ سے یہاں مٹی اور پہاڑوں پر برودگی کا عمل تیز ہو گیا ہے، درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے ہمارے گلیشئیر موسم گرما میں تیزی سے پگھل رہے ہیں، چترال وغیرہ جیسے علاقوں میں سیلاب نہ صرف تباہی پھیلا رہے ہیں بلکہ اپنے ساتھ رہے سہے جنگلات کو بھی بہا لے جا رہے ہیں۔

خیبر پختو نخوا کی گذشتہ صوبائی حکومت نے صوبے میں ایک ارب درخت لگانے کا منصوبہ مکمل کیا تھا، ابھی دیکھنا یہ ہے کہ ایک ارب درختوں میں سے کتنے لگ سکے، مگر یہ تو حقیقت ہے کہ خیبر پختونخوا نے درختوں کی اہمیت کو سمجھا، واضح رہے اسکردو کے گلیشیروں کی حفاظت سے ساحل کے قریب سمندری پیداوار کو بچانے، ساحلوں پر آباد شہر ی آبادیوں کو محفوظ رکھنے کے لیے اور سب سے بڑھ کر پورے پاکستان کے تمام ایکو سسٹموں کو بچانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم فوراً سندھ اور بلوچستان میں مینگروز کے جنگلات پر تو جہ دیں اور خصوصاً سندھ اور بلو چستان کے سیاسی رہنما اس اہم مسئلے پر فوری توجہ دیں۔ یوں اگر پاکستان میں مینگروز کے ایکو سسٹم کو وسیع تناظر میں دیکھیں تو یہ دنیا کے سب سے بڑے گلیشئیر وں سے لیکر بحیرہ عرب کے ساحل تک پھیلا ہوا ہے اور یہ تلخ حقیقت ہے کہ خدانخواستہ اگر پاکستان میں یہ ایکو سسٹم تباہی کا شکار ہو تا ہے تو اس سے پوری دنیا کا ماحولیاتی نظام متا ثر ہو گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔