شاہد خاقان، طلال چوہدری، سائرہ افضل کی ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی درخواستیں مسترد

ویب ڈیسک  ہفتہ 28 جولائ 2018
پی کے 4 سوات میں دوبارہ گنتی کے لئے ن لیگ کے امیدوار امیر مقام کی درخواست منظور فوٹو:فائل

پی کے 4 سوات میں دوبارہ گنتی کے لئے ن لیگ کے امیدوار امیر مقام کی درخواست منظور فوٹو:فائل

مسلم لیگ (ن) کے رہنما شاہد خاقان عباسی، طلال چوہدری اور سائرہ افضل سمیت متعدد دیگر سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کی ووٹوں کی گنتی دوبارہ کرانے کی درخواستیں مسترد کردی گئیں۔

سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور ن لیگ کے رہنما راجہ اشفاق سرور نے ریٹرننگ افسر (آر او) مری حیدر علی کے سامنے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی درخواست دائر کی۔ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 57 سے تحریک انصاف کے امیدوار صداقت علی نے ایک لاکھ 36249 ووٹ حاصل کر کے شاہد خاقان عباسی کو شکست دی جو ایک لاکھ 24703 ووٹ حاصل کر کے دوسرے نمبر پر رہے۔

شاہد خاقان عباسی نے موقف اختیار کیا کہ ووٹوں کی گنتی کے دوران دھاندلی کی گئی۔ آر او مری نے سماعت کے بعد درخواست مسترد کردی۔ این 102 فیصل آباد سے طلال چوہدری کی ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی درخواست بھی مسترد کردی گئی۔

این اے 207 سکھر سے تحریک انصاف کے امیدوار مبین جتوئی کی دوبارہ گنتی کی درخواست مسترد ہوگئی۔ انہیں پیپلزپارٹی کے امیدوار نعمان شیخ نے شکست دی۔ حافظ آباد میں ریٹرنگ افسران نے مسلم لیگ ن کی امیدوار سائرہ افضل سمیت ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے لئے دی جانے والی تمام درخواستیں مسترد کر دیں۔ مسلم لیگ ن کی سائرہ افضل نے این اے 87 میں دوبارہ گنتی کی درخواست دی تھی۔ ان کے علاوہ پی پی 69، پی پی 70 اور پی پی 71 سے بھی درخواستیں موصول ہوئی تھیں۔ حلقہ این اے 200 لاڑکانہ میں آر او نے بلاول بھٹو سے ہارنے والے ایم ایم اے امیدوار راشد محمود سومرو کی دوبارہ ووٹوں کی گنتی کی درخواست بھی مسترد کردی۔

پشاور میں ریٹرننگ آفسر نے ایم ایم اے کے امیدوار آصف اقبال داودزئی کی دوبارہ گنتی کی درخواست مسترد کردی۔ پی کے 67 سے ایم ایم اے کے امیدوار آصف اقبال داؤد زئی نے 11 ہزار 648 ووٹ حاصل کئے تھے۔ پی ٹی آئی کے امیدوار ارباب وسیم نے 16 ہزار 912 ووٹ لیکر انہیں شکست دی تھی۔

دوبارہ گنتی کے لئے امیر مقام کی درخواست منظور

ادھر پی کے 4 سوات میں دوبارہ گنتی کے لئے امیر مقام کی درخواست منظور ہوگئی۔ دوبارہ گنتی کل کی جائے گی۔ سندھ میں حلقہ این اے 213 نوابشاہ پر سابق صدر آصف علی زرداری کے مدمقابل جی ڈی اے کے امیدوار شیر محمد رند کی دوبارہ گنتی کی درخواست بھی مسترد ہوگئی۔

ایازصادق کا الیکشن کمیشن پر جانب داری کا الزام

دوسری جانب ایاز صادق کی سربراہی میں مسلم لیگ(ن) کا وفد انتخابی نتائج پر تحفظات اور شکایات  لے کر چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات کے لیے الیکشن کمیشن پہنچا تاہم چیف الیکشن کمشنر نے ملاقات سے انکار کردیا۔ صحافی کے سوال کے جواب میں ایاز صاق نے کہا کہ ہم چیف الیکشن کمشنر کا استعفیٰ مانگنے آئے ہیں، این اے 57 میں دوبارہ ووٹوں کی گنتی کے لیے درخواست دائر کردی ہےجس میں استدعا کی گئی ہے کہ الیکشن کمیشن ریٹرنگ افسر کا فیصلہ کالعدم قرار دے۔

ترجمان الیکشن کمیشن نے بیان کی تردید کردی

ترجمان الیکشن کمیشن الطاف خان نے ایاز صادق کے بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر 5 بجے تک ملاقات کے انتظار میں بیٹھے تھے تاہم ایاز صادق وقت پر نہیں آئے اور پھرچیف الیکشن کمشنر چلے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ملاقات کےحوالے سے جو بتایا گیا وہ اس طرح سے نہیں ہوا، آج صبح ایاز صادق نےچیف الیکشن کمشنر کو فون کیااور کہا کہ ہم پورے پینل سے ملنا چاہتےہیں جس پر الیکشن کمشنر نے جواب دیا کہ الیکشن کمیشن کے ممبران تو نہیں ہیں لیکن میں موجود ہوں، چیف الیکشن کمشنر کے اسٹاف نے ایاز صادق کو بتایا کہ ممبران نہیں آئے اور چیف صاحب اکیلےہیں اس کے بعد چیف الیکشن کمشنر 5 بجے تک بیٹھے رہےلیکن کوئی نہیں آیا پھر جب 5 بجے تک کوئی نہیں آیا تو چیف الیکشن کمشنر گھر چلے گئے۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔